ایک ہی انجیکشن سے کینسر کے خاتمے کی طرف اہم پیش رفت

چوہوں پر کیے جانے والے اس تجربے میں سٹیم سیل کو فعال بنا کر ان پر ریڈی ایشن ڈالی گئی اور اس کے بعد ان کو کینسر زدہ چوہوں کے جسم میں انجیکشن کے ذریعے داخل کیا گیا۔ ریڈی ایشن سے ان سیلز کو نیم مردہ کرنے کا وجہ یہ تھی کہ کہیں وہ جسم میں داخل ہو کر الٹا کینسر پھیلانے کا سبب نہ بن جائیں۔
یہ سیلز نے جسم میں داخل ہونے کے بعد جسم کے قدرتی دفاعی نظام میں یہ صلاحیت پیدا کر دی کہ وہ کینسر زدہ خلیوں کو شناخت کرنے کے بعد ان کو ویسے ہی قدرتی طور پر ختم کر دے جیسے وہ جراثیم کو ختم کرتا ہے۔ اس تجربے میں چھاتیوں، پھیپھڑوں اور جلد کے کینسر کا علاج کیا گیا۔
جب اس انجیکشن کو ایک ایسی امیون سسٹم بوسٹر دوا کے ساتھ ملا کر لگایا گیا جسے انسانوں میں پہلے ہی استعمال کیا جا رہا ہے، تو اس نے ایسے چوہوں میں کینسر کی دوبارہ پیدائش اور اسے بڑھنے سے روک دیا جن کی رسولیاں آپریشن کر کے نکال لی گئی تھیں۔
یہ انجیکشن جلد کے ایسے عام خلیات یا خون کے خلیات سے بنایا گیا تھا جنہیں چوہے کے جسم سے ہی لیا گیا تھا اور اس کے بعد ان کو ری پروگرام کر کے ان کو خلیے کی ابتدائی شکل یعنی سٹیم سیل میں لایا گیا تھا۔ سٹیم سیل میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ نشو و نما پا کر جس کے کسی بھی عضو میں ڈھل سکتے ہیں۔
اس ویکسین کے انسانوں پر آزمائے جانے میں ابھی کئی برس لگیں گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ تجربات ناکام ہونے کی صورت میں انہیں انسانوں کے علاج کے لئے استعمال نہ کیا جائے۔
یہ تحقیق سٹیم سیل جرنل میں شائع ہوئی۔
پہلے تجربے میں چوہوں کو بریسٹ کینسر میں مبتلا کیا گیا۔ ایک ہفتے میں ان میں کینسر کی رسولیاں پیدا ہو گئیں۔ یہ انجیکشن لگنے کے بعد ستر فیصد چوہوں میں چار ہفتوں کےک اندر رسولیاں خود بخود غائب ہو گئیں۔ بقیہ تیس فیصد میں یہ بہت چھوٹی ہو گئیں۔
دوسرے تجربے میں پھیپھڑوں کے کینسر اور تیسرے میں جلد کے کینسر پر اس انجیکشن کو آزمایا گیا اور اس کے مثبت نتائج ملے۔

