ڈاکٹر خالد سہیل کے مضامین کی سنچری مکمل ہونے پر۔ ۔ ۔ ۔


س5: آپ ایک نفسیاتی معالج بھی ہیں اور ساتھ میں ادیب بھی۔ کیا آپ کے خیال میں ادیب نفسیات سے تعلق رکھتا ہو تو عام آدمیوں سے بہتر ادب تخلیق کر سکتا ہے؟

ج: ہر جینوئین ادیب ایک ماہرِ نفسیات ہوتا ہے۔ لیکن وہ انسانی نفسیات کا مطالعہ زندگی سے کرتا ہے درسی کتابوں سے نہیں۔ چاہے وہ شیکسپئیر ہوں یا کافکا، منٹو ہوں یا عصمت چغتائی اب کی انسانوں انفرادی اور معاشرتی نفسیات پر گہری نظر ہوتی ہے۔ میری خوش قسمتی کہ مجھے ادب کا شوق بھی تھا اور نفسیات کا بھی۔ مجھے اپنے مریضوں کے علاج کے دوران انسانی نفسیات کو ایک اور نگاہ سے دیکھنے کا موقع ملا،۔ میری زندگی میں میرے اندر کے ادیب اور ماہر نفسیات نے ایک دوسرے کی مدد بھی کی اور حوصلہ افزائی بھی۔

س6: کیا ادب سے سماجی انقلاب ممکن ہے؟ انجمن ترقی پسند ادب کی تحریک نے بھرپور اور سماج سے جڑا ہوا اس ادب تخلیق کیا۔ اس کے زوال کے کچھ عوامل بیان کریں؟

ج: کسی بھی معاشرے میں انقلاب دو سطحوں پر ہوتا ہے۔ نظریاتی سطح پر اور سیاسی سطح پر۔ نظریاتی سطح پر انقلاب شاعر، ادیب اور دانشور لاتے ہیں۔ وہ لوگوں میں بیداری پیدا کرتے ہیں۔ انہیں بہتر انسان بننے اور بہتر معاشرہ تخلیق کرنے کا خواب دکھاتے ہیں جبکہ سیاسی لیڈر اور کارکن اس خواب کو شرمندہِ تعبیر کرتے ہیں۔ اور ایک بہتر معاشرہ قائم کرتے ہیں۔ کارل مارکس نے نظریاتی سطح پر اور فیڈرل کاسٹرو نے سیاسی سطح پر انقلاب قائم کیا۔ یہ علیحدہ بات کہ لینن کی طرح بعض لیڈر نظریاتی اور سیاسی دونوں سطحوں پر انقلاب لاتے ہیں۔

جہاں تک ترقی پسند تحریک کا تعلق ہے، جس کے بارے میں پچھلے دنوں میں نے اپنے ترقی پسند دوستوں کے ساتھ مل کر ایک کتاب چھاپی ہے جس کا نام(Progressive Ideas and Ideals in Urdu Literature) ہے اور اس میں سجاد ظہیر، سبط حسن، فیض احمد فیض، علی سردار جعفری، پریم چند اور کئی ترقی پسند ادیبوں اور دانشوروں کی تخلیقات کے انگریزی تراجم چھاپے ہیں۔

میری نگاہ میں تحریک اور نظریہ دو مختلف چیزیں ہیں۔ ہندوستان میں ترقی پسند تحریک چند مخصوص سماجی اور سیاسی حالات کی وجہ سے وجود میں آئی تھی اور ہندوستان اور پاکستان کی آزادی کے بعد حالات بدلنے سے ختم ہو گئی۔ میں نے 1985 میں لندن میں اس تحریک کی پچاسویں سالگرہ کی (Celebration) میں حصہ لیا تھا۔ ترقی پسند ادب تو آج بھی لکھا جا رہا ہے۔ کہیں عورتوں کے مسائل کے بارے میں ، اور کہیں کالوں کے مسائل کے بارے میں، کہیں لیسبین اور گے لوگوں کے مسائل کے بارے میں اور کہیں تشدد کے خلاف اور امن کے حق میں لکھا جا رہا ہے۔ یہ سب ترقی پسند ادب کا حصہ ہے۔ میری نگاہ میں ہر، دور میں ادیب اور شاعر ترقی پسند ادب تخلیق کرتے آئے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ بعض ادیب وہ ادب ذاتی حوالے سے اور بعض کسی سیاسی تحریک کا حصہ بن کر تخلیق کرتے ہیں۔

س7:کیا ادیب کو طبقاتی جنگ میں قلم کے سپاہی کا کردار نبھانا چاہیئے یا اس کا کوئی اور ہی منصب ہے؟

ج: یہ فیصلہ ہر معاشرے کے ادیب خود کرتے ہیں۔ جو ادیب اپنے خوابوں کا تخلیقی اظہار اپنے ادب میں کرتے ہیں وہ فنکار ہوتے ہیں۔ اور جو ادیب فنکار ہی نہیں سیاسی کارکن بھی ہوتے ہیں وہ سیاسی تحریک میں شامل ہو جاتے ہیں۔ بعض ادیب صرف خواب دکھاتے ہیں اور بعض ان خوابوں کو شرمندہ تعبیر بھی کرتے ہیں۔ یہ ان ادیبوں کا انفرادی اور اجتماعی فیصلہ ہے۔ ہر ادیب آزاد ہوتا ہے کہ وہ اپنے تخلیقی امکان کا اظہار کس طرح کرنا چاہتا ہے۔

س8: آپ کی مادری زبان پنجابی، گھر سے باہر پشاور میں پشتو اور تعلیمی ادارے میں انگریزی، جبکہ آپ نے اردو لکھنے کا آغاز کیا۔۔۔۔ کیوں؟ مشکل نہیں ہوئی؟

ج: میں نے بچپن میں بچوں کے رسالے پڑھے اور نوجوانی میں منٹو، عصمت، فراز، فیض اور ساحر کی تخلیقات پڑھیں تو میں اردو کے عشق میں گرفتار ہو گیا اور اسی زبان میں لکھنا شروع کر دیا۔ یہ عشق آج تک جاری ہے۔ جہاں تک پنجابی کا تعلق ہے بدقسمتی سے میری والدہ نے مجھے اپنی ماں بولی پنجابی میں لکھنا پڑھنا نہیں سکھایا۔ ان کا خیال تھا کہ اردو اور انگریزی مجھے ڈاکٹر بننے میں مدد کریں گے۔

س9: ایک عرصہ تک اردو میں لکھنے کے بعد اب آپ انگریزی میں لکھ رہے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ تاہم اس کے بعد حال ہی میں آپ کی دوکتابیں اردو میں بھی شائع ہوئی ہیں اس کی وجہ بھی بیان کر دیں؟

ج: انگریزی میں لکھنے کا فیصلہ شعوری نہیں تھا۔ چونکہ میں کینیڈا میں رہائش پزیر ہوں اور سارا دن کینیڈین مریضوں کا انگریزی میں علاج کرتا ہوں تو آہستہ آہستہ انگریزی میرے لاشعور کا حصہ بنتی گئی اور ایک دن میں نے انگریزی میں لکھنا شروع کر دیا۔ میری تھیوری(theory)  یہ ہے کہ میں چوبیس برس کی عمر میں کینیڈا آیا تھا۔ کینیڈا میں چوبیس برس رہنے کے بعد جب میراقیام پاکستان کے قیام سے بڑھنے لگا تو انگریزی سے میرا رشتہ مستحکم ہوتا گیا۔ انگریزی میں لکھنے کے باوجود مجھے احساس ہے کہ میں اردو میں کتابیں لکھنے سے پاکستان میں رہنے والے لوگوں کی خدمت کر سکتا ہوں۔ اس لیئے میں نے عالمی ادب کے اردو تراجم کیئے۔ جن کی مثالیں میری کتابیں سوغات، بھگوان نما انسان، کالے جسموں کی ریاضت، مغربی عورت، ادب اور زندگی، ہر دور میں مصلوب، ایک باپ کی اولاد اور ورثہ ہیں۔

میری یہ بھی خوش قسمتی ہے کہ مجھے محمد آصف جیسے پبلشر اور گوھر تاج جیسے دوست ملے ہیں جو مجھے اردو لکھنے کے لیئے (Inspire) کرتے رہتے ہیں۔ اردو میری پہلی محبوبہ ہے جو میری دوسری محبوبہ انگریزی سے حسد کرتی ہے اور میں ان دونوں ادبی محبوباؤں کو خوش رکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔

س 10:آپ کی شاعری کی کتاب تلاش میں آپ کے تخلیقی اظہار کی زبان مرد کی بجائے عورت کی ہے۔ آپ نے بڑی دردمندی سے ان کے دکھوں اور مسائل کو عورت کی زبان سے بیان کیا ہے۔ جو ایک انوکھا تجربہ ہے۔ کیا یہ ایک شعوری کوشش تھی؟

ج: میڈیکل اسکول کے زمانہ طالب علمی میں مجھے لیبر روم میں کام کرنے اور عورتوں کے مسائل کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ جس سے مجھے عورتوں سے بہت ہمدردی ہوئی۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی پچھتر سالہ تاریخ میں وہ پہلا موقع تھا کہ ایک مرد نے زنانہ ہسپتال میں ہاؤس جاب کیا۔

ایک دن میں نے ایک نظم لکھی جس کا نام تھا سرخ دائرہ۔ میں نے اسے جس مشاعرہ میں پڑھا اس میں احمد فراز، محسن احسان، خاطر غزنوی اور احمد ندیم قاسمی جج تھے۔ انہوں نے مجھے پہلا انعام دیا۔ وہ نظم لکھنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ وہ نظم میں نے عورت بن کر لکھی ہے۔ اسی طرح کئی اور نظمیں عورت بن کر لکھی ہیں۔ یہ فعل لاشعوری تھا۔ بعض دفعہ مجھے یوں لگتا ہے جیسے میرے اندر ایک عورت چھپی ہو۔ شاید یہی عورت مجھے عورتوں سے دوستی کرنے اور ان کی سہیلی بننے میں مدد کرتی ہے۔

س11: چونسٹھ 64 برس کی عمر میں 64 کتابیں تخلیق کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟ کیا آپ شہرت کے طالب ہیں یا اپنی تحریروں سے سماج میں تبدیلی لانے کے خواہاں ہیں؟

ج:میں نے بچپن میں غربت دیکھی، جہالت دیکھی، ہندوستان کے ساتھ جنگ دیکھی، عورتوں پر ظلم ہوتے دیکھا۔ یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد میں نے ایک بہتر اور پرامن زندگی کا خواب دیکھا اور خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے نفسیاتی معالج بنا،تاکہ اپنے مریضوں اور ان کے خاندانوں کی خدمت کر سکوں اور ایک انسان دوست ادیب بنا تاکہ انسانیت کی خدمت کر سکوں۔ دولت اور شہرت کبھی بھی میرے مقصد نہیں رہے۔ میرے دوست میری عزت کرتے ہیں۔ میرے قارئین مجھے محبت بھرے خطوط بھیجتے ہیں۔ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے ماہرِ نفسیات اور انسان دوست ادیب بن کر انسانیت کی خدمت کا موقع ملا۔ میں اسی لیے کہتا ہوں کہ میری تخلیقات دکھی انسانیت کے نام میرے محبت نامے ہیں۔

My creations are my love letters to humanity.

انٹرویو کا باقی حصہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3