ڈاکٹر خالد سہیل کے مضامین کی سنچری مکمل ہونے پر۔ ۔ ۔ ۔
س 12: آپ اتنا کچھ لکھنے کا وقت کہاں سے نکالتے ہیں؟
ج: جہاں تک تک لکھنے پڑھنے کا وقت ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ ادب میرا مشغلہ نہیں ہے۔ جسے میں فارغ وقت میں کرتا ہوں۔ میں ذہنی طور پر ادبی دنیا میں زندہ رہتا ہوں۔ کیونکہ ادب میرا شوق، میرا جذبہ (passion) میرا خواب (dreams) ہے۔
مجھے نوجوانی میں ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ دو کام شاعروں، ادیبوں، دانشوروں کی راہ کی رکاوٹ بنتے ہیں۔ خاندانی ذمہ داریاں اور ملازمت کی ذمہ داریاں۔ چنانچہ میں نے بچوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ اور ملازمت بھی ایسی کی جو میرے ادبی کام میں میری مدد کرے۔ ان دونوں فیصلوں نے ادیب بننے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں مدد کی۔
س13: آپ کا جملہ ہے کہ ایک مہاجر ادیب کی تیسری آنکھ بھی ہوتی ہے۔ اس سے کیا مراد ہے؟
ج: جب ادیب دو معاشروں، دو تہذیبوں اور دو زبانوں میں زندہ رہتا ہے تو اس کے اندر ایک خاص طرح کی بصیرت پیدا ہوتی ہے۔ وہ زندگی کو ایک نئے زاویے سے دیکھتا ہے۔ یہ نگاہ اس سے نیا ادب تخلیق کرواتی ہے اور اسے دانا بناتی ہے۔ یہ تیسری آنکھ کا کرشمہ ہے، کرامت ہے، معجزہ ہے۔
س14:آپ کا مطالعہ دونوں زبانوں میں ہے۔ آپ مشرق اور مغرب کے ادب میں ایک بنیادی فرق فورم (form) اور کونٹینٹ (content) کا ہے۔ مغرب میں فورم کو اور مشرق میں کونٹنٹ کو زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ ادبِ عالیہ ان دونوں کا حسین امتزاج ہوتا ہے۔ اردو ادب میں ترقی پسند ادیبوں نے کونٹینٹ پر اور حلقہِ اربابِ ذوق کے جدید ادیبوں نے فورم پر زیادہ توجہ دی کیونکہ وہ مغرب کے ادب سے زیادہ متاثر تھے۔
س15: دنیا میں دہشت گردی کی لہر آئی ہوئی ہے۔ اس کے نفسیاتی اور سماجی عوامل کیا ہیں؟امن کی صورت کیسے نکل سکتی ہے؟
ج: یہ ایک گھمبیر سوال ہے جس کا جواب چند جملوں میں دینا مشکل ہے۔ میری نگاہ میں جب کوئی آئیڈیولوجی (Ideology) دھشت گردی اور تشدد کو فروغ دینے لگے تو وہ انسانیت کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔ بہت سی جنگیں بڑے اور طاقتور ملکوں کی چھوٹے اور کمزور ملکوں کے (resources)پر قبضہ کرنے کی سازش ہے۔ امن کی صورت اس وقت نکل سکتی ہے جب گھروں میں اور اسکولوں میں بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ ہم سب ایک ہی خاندان کا حصہ ہیں اور اس خاندان کا نام انسانیت ہے۔ ہمارے دشمن بھی ہمارے رشتہ دار ہیں کیونکہ ہم سب دھرتی ماں کے بچے ہیں۔
س16:آپ کی تحریروں میں سائنسی طرزِ فکر اور روشن خیالی بہت زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ گھمبیر فلسفے کو سہل زبان میں پیش کرنے کا ہنر بھی کمال کا ہے۔ کیا یہ شعوری کوشش ہے یا قدرتی انداز ہے؟
ج: میں ادب میں ابلاغ کو بہت اہمیت دیتا ہوں۔ شاعری میں سہلِ ممتنع کا قائل ہوں۔ جو (simple and profound) ہوتا ہے۔ میر کا شعر ہے
کہا میں نے کتنا ہے گل کا ثبات
کلی نے یہ سن کر تبسم کیا
اور غالب کا مصرع ہے۔
عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب
میں نے ادب عالیہ کے مطالعہ سے یہ سیکھا ہے کہ اگر شاعر، ادیب اور دانشور نے اپنا ادبی اور نظریاتی ہوم ورک (home work) کیا ہے تو وہ زندگی کے بڑے سے بڑے فلسفے کو آسان زبان میں پیش کر سکتا ہے۔ میں نے یہ فن میر کی شاعری، ایرک فرام اور برٹنڈ رسل کے مضامین سے سیکھا ہے۔ رسل نے کہا تھا.
It took me fifty years to write simple.
جو شاعر ادیب اور دانشور عوام کے لیے لکھتے ہیں وہ ایسی زبان لکھتے ہیں جسے عوام سمجھ سکیں۔ جب کوئی تحریر بہت مشکل اور گنجلک ہو جاتی ہے تو وہ صرف دانشوروں اور (intellectuals)، (scholars) اور (academicians) کے لیے رہ جاتی ہے۔ اس سے عوام استفادہ نہیں کر سکتے۔
سارتر سے کسی نے کہا تھا کہ آپ کی ایک ہزار صفحوں کی کتاب (Being and Nothingness) کو کسی نے ایک سو صفحوں میں لکھا ہے۔ سارتر نے مسکرا کر کہا کہ وہ کتاب میں نے تیس سال کی عمر میں لکھی تھی۔ اب میں ستر سال کا ہوں۔ اب میں وہ کتاب لکھتا تو سو صفحوں میں ہی لکھتا۔
شاعر ادیب اور دانشور کو زندگی اور ادب کا جتنا زیادہ تجربہ ہوتا ہے۔ وہ مشکل سے مشکل مسئلے، نظریے اور آدرش کو عام فہم زبان میں بیان کر سکتا ہے۔ ایسے ادب کی مثال ہمیں صوفیانہ شاعری اور لوک ورثہ میں ملتی ہے۔
س17: آپ کی کتاب ” اپنا اپنا سچ ” جو سوانح عمری کا حصہ ہے اکثر لوگوں کو شاق گزری ہے۔ اتنا سچ لکھنے کی کیا ضرورت ہے جو دوسروں کو تکلیف پہنچائے۔
ج: میں نے آج تک کوئی شعر، افسانہ یا کوئی مضمون کسی کو تکلیف پہنچانے کے لئے نہیں لکھا۔ میرے اندر ایک ادیب بھی ہے اور ایک طبیب بھی ہے۔ جو مریضوں کو ان کی تشخیص بتاتا ہے اور پھر علاج تجویز کرتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اپنے خاندانی سماجی اور سیاسی مسائل کی بھی تشخیص کرنی ہوگی تاکہ ہم ان کا علاج تلاش کر سکیں۔
بعض لوگ حقائق سے آنکھیں چراتے ہیں۔ جب آپ ایسے لوگوں کو آئینہ دکھاتے ہیں تو وہ ناراض ہو جاتے ہیں۔ میرا ایک شعر ہے۔
زمانہ چھپتا ہے ان شاعروں سے اب خالد
جو شہرِزیست میں آئے ہیں آئینوں کی طرح
س18: سماج کے ارتقا اور تبدیلی کے حوالے سے آپ کی کئی تحریریں ہیں۔ اس عمل میں مذہب کا کیا کردار رہا ہے؟
ج: ھر دور میں مذہب کا کردار دو طرح کا رہا ہے۔ سماجی سطح پر اور نظریاتی سطح پر۔ مذہب کے پیروکاروں کا ایک گروہ ایسا ہے جو مذہب کو معاشرے کی بہتری کے لئے استعمال کرتا ہے۔ ایسے لوگ رفاہی کام کرتے ہیں۔ ان کی مثال پاکستان میں عبدالستار ایدھی ، ہندوستان میں مدر ٹیریسا ، امریکہ میں مارٹن لوتھر کنگ ، افریقہ میں ڈیزمنڈ ٹوٹو ہیں۔
ان کے مقابلے میں کچھ مذہبی رہنما ایسے بھی ہیں جنہوں نے شدت پسندی اور دہشت گردی کو فروغ دیا ہے۔ ایسے لوگ انسانیت اور امنِ عالم کے لیئے خطرہ ہیں۔ ان کی مثال اسامہ بن لادن ہیں جو ساری دنیا میں خون کی ہولی کھیلتے ہیں۔
مذہب کا دوسرا پہلو نظریاتی ہے۔ مذاہبِ عالم اس دور کی پیداوار ہیں جب فلسفہ، ریاضی اور سائنس نے ابھی اتنی ترقی نہیں کی تھی۔ میری نگاہ میں مذاہب انسانیت کے ماضی کی اور فلسفہ، طب، نفسیات اور سائنس انسانیت کے مستقبل کی عکاسی کرتے ہیں۔ سگمنڈ فرائیڈ کا کہنا تھا کہ جوں جوں سائنس کا دائرہ پھیلتا جائے گا۔ مذہب کا دائرہ سکڑتا جائے گا۔
جہاں تک میری تحریروں کا تعلق ہے میں ایک انسان دوست ماہرِ نفسیات (Humanist Psychotherapist) ہوں جو انسان کے دکھوں کو کم اور سکھوں میں اضافہ کرنا چاہتا ہے۔ میری تحریریں اسی آدرش کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایک سیکولر ہیومنسٹ (Secular Humanist) کے ناطے سے میں سمجھتا ہوں کہ مذہب انسانوں کا ذاتی عمل ہے۔ جہاں تک معاشرے کی روایت اور قانون کا تعلق ہے، ہر ملک میں تمام انسانوں کو برابر کے حقوق اور مراعات حاصل ہونے چاہییں خاص طور پر بچوں، عورتوں اور اقلیتوں کو۔
س19:آپ نے ذاتی فیملی سے زیادہ فیملی آف دی ہارٹ (Family of the Heart) کو اہمیت دی ہے۔ کچھ، اس کی تخلیق کے بارے میں بتائیں کہ وہ اس کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟
ج: میں سمجھتا ہوں کہ ہر شہر میں شاعروں، ادیبوں، فنکاروں اور دانشوروں کو ایک ایسے فورم کی ضرورت ہوتی ہے۔ جہاں وہ اپنے فن کا اظہار کر سکیں اور ہم خیال لوگوں سے مل سکیں۔ ٹورانٹو کینیڈا میں فیملی آف دی ہارٹ اس ضرورت کو پورا کرتی ہے۔ ہم بزرگ شاعروں اور ادیبوں کو (celeberate) بھی کرتے ہیں اور نئے لکھنے والوں کے لئے ایسی ورکشاپ کا بھی اہتمام کرتے ہیں جہاں جونیر لکھنے والے سینئیر لکھنے والوں سے ادبِ عالیہ تخلیق کرنے کا فن سیکھ سکیں۔ ہم ایسے سیمینار بھی منعقد کرتے ہیں جہاں سماجی اور سیاسی مسائل پر سنجیدہ مکالمہ ہو سکے۔
س20:آپ اتنے مصروف ہونے کے باوجود ڈھیروں لوگوں سے دوستیاں کیسے نبھاتے ہیں؟ہمیں بھی اس کا گر بتائیں۔
ج: مجھے (3Ds) کا شوق ہے۔ (Driving , Dinner , Dialogue)۔ میں دوستوں کو ڈنر پر بلاتا ہوں اور ان سے دل کی باتیں کرتا ہوں۔ یہی دوستی کا راز ہے۔ میرا ایک شعر ہے۔
آج کل رشتوں کا یہ عالم ہے
جو بھی نبھ جائے بھلا لگتا ہے
س21:آج کل کس تخلیقی پروجیکٹ پر کام کر رہے ہیں ؟
ج: میں ڈاکٹر بلند اقبال کے ساتھ مل کے کنیڈا وَن ٹی وی کے لیئے ایک پروگرام (in search of wisdom) تخلیق کر رہا ہوں ۔ ٹی وی پر دکھانے کے بعد ڈاکٹر بلند اقبال اسے فیس بک اور یو ٹیوب پر لگا دیتے ہیں ۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اسے دیکھ سکیں ۔ اس پروگرام میں ہم ساری دنیا کے فلاسفروں ، دانشوروں اور ان کی کتابوں پر تبادلہِ خیال کرتے ہیں ۔ لوگ اسے بہت پسند کر رہے ہیں ۔



