صاحبِ کرامات۔۔۔ ایک عقیدت مند پنجابی کسان کی کہانی
جیناں اٹھ کر چلی گئی تو مولوی صاحب نے موجو کے کندھے سے اپنا چاندی کی موٹھ والا عصا ننھی سی ضرب کے بعد اٹھا لیا۔’’ اٹھ موجو۔۔۔۔۔۔ہمارے ہاتھ دھلا۔‘‘
موجو فوراً اٹھا۔ پاس ہی کنواں تھا۔ پانی لایا اور مولوی صاحب کے ہاتھ بڑے مریدانہ طور پر دھلائے جیناں نے چارپائی پر کھانا رکھ دیا۔
مولوی صاحب سب کا سب کھا گئے اور جیناں کو حکم دیا کہ وہ ان کے ہاتھ دھلائے۔ جیناں عدول حکمی نہیں کرسکتی تھی۔ کیونکہ مولوی صاحب کی شکل و صورت اور ان کی گفتگو کا اندازہی کچھ ایسا تحکم بھرا تھا۔
مولوی صاحب نے ڈکار لے کر بڑے زور سے الحمدللہ کہا۔ داڑھی پر گیلا گیلا ہاتھ پھیرا۔ ایک اور ڈکار لی اور چارپائی پر لیٹ گئے اور ایک آنکھ بند کرکے دوسری آنکھ سے جیناں کی ڈھلکی ہوئی چدریا کی طرف دیکھتے رہے۔ اس نے جلدی جلدی برتن سمیٹے اور چلی گئی۔ مولوی صاحب نے آنکھ بند کی اور موجو سے کہا۔’’چوہدری اب ہم سوئیں گے۔‘‘
چوہدری کچھ دیر ان کے پاؤں دابتا رہا۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ سو گئے ہیں۔ تو ایک طرف جا کر اس نے اپلے سلگائے اور چلم میں تمباکو بھر کے بھوکے پیٹ چموڑا پینا شروع کردیا۔ مگر وہ خوش تھا۔ اس کو ایسا لگتا تھا کہ اس کی زندگی کا کوئی بہت بڑا بوجھ دورہوگیا ہے۔ اس نے دل ہی دل میں اپنے مخصوص گنوار مگر مخلص انداز میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جس نے اپنی جناب سے مولوی صاحب کی شکل میں فرشتہ رحمت بھیج دیا۔
پہلے اس نے سوچا کہ مولوی صاحب کے پاس ہی بیٹھا رہے کہ شاید ان کو کسی خدمت کی ضرورت ہو، مگر جب دیر ہوگئی اور وہ سوتے رہے، تو وہ اٹھ کر اپنے کھیت میں چلا گیا اور اپنے کام میں مشغول ہوگیا۔ اس کو اس بات کا قطعاً خیال نہیں تھاکہ وہ بھوکا ہے۔ اس کو بلکہ اس بات کی بے حد مسرت تھی کہ اس کا کھانا مولوی صاحب نے کھایا اور اس کو اتنی بڑی سعادت ہوئی۔
شام سے پہلے پہلے جب وہ کھیت سے واپس آیا تو اس کو یہ دیکھ کر بڑا دکھ ہوا کہ مولوی صاحب موجود نہیں۔ اس نے خود کو بڑی لعنت ملامت کی کہ وہ کیوں چلا گیا۔ ان کے حضور بیٹھتا رہتا۔ شاید وہ ناراض ہو کر چلے گئے ہیں اور کوئی بددعا بھی دے گئی ہوں۔ جب چوہدری موجو نے یہ سوچا تو اس کی سادہ روح لرزگئی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
اس نے ادھر ادھر مولوی صاحب کو تلاش کیا مگر وہ نہ ملے۔ گہری شام ہوگئی۔ پھر بھی ان کا کوئی سراغ نہ ملا۔ تھک ہار کر اپنے کو دل ہی دل میں کوستا اور لعنت ملامت کرتا۔ وہ گردن جھکائے گھر کی طرف جارہا تھا کہ اسے دو جوان لڑکے گھبرائے ہوئے ملے۔ چوہدری موجو نے ان سے گھبراہٹ کی وجہ پوچھی تو انھوں نے پہلے تو ٹالنا چاہا، مگر پھر اصل بات بتا دی کہ وہ گھورے میں دبا ہوا شراب کا گھڑا نکال کر پینے والے تھے کہ ایک نورانی صورت والے بزرگ ایک دم وہاں نمودار ہوئے اور بڑی غصب ناک نگاہوں سے ان کو دیکھ کر یہ پوچھا کہ وہ یہ کیا حرام کاری کررہے ہیں۔ جس چیز کو اللہ تبارک تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے وہ اسے پی کر اتنا بڑا گناہ کررہے ہیں جس کا کوئی کفارہ ہی نہیں ان لوگوں کو اتنی جرات نہ ہوئی کہ کچھ بولیں۔ بس سر پاؤں رکھ کے بھاگے اور یہاں آکے دم لیا۔
چوہدری موجو نے ان دونوں کو بتایا کہ وہ نورانی صورت والے واقعی اللہ کو پہنچے ہوئے بزرگ تھے۔ پھر اس نے اندیشہ ظاہر کیا کہ اب جانے اس گاؤں پر کیا قہرنازل ہوگا۔ ایک اس نے ان کو چھوڑ چلے جانے کی بُری حرکت کی، ایک انھوں نے کہ حرام شے نکال کر پی رہے تھے۔
’’اب اللہ ہی بچائے۔۔۔۔۔۔اب اللہ ہی بچائے میرے بچو۔‘‘ یہ بڑبڑاتا چوہدری موجو گھر کی جانب روانہ ہوا۔ جیناں موجود تھی، پر اس نے اس سے کوئی بات نہ کی اور خاموش کھاٹ پر بیٹھ کر حقہ پینے لگا۔ اس کے دل و دماغ میں ایک طوفان برپا تھا۔ اس کو یقین تھا کہ اس پر اور گاؤں پر ضرور کوئی خدائی آفت آئے گی۔
شام کا کھانا تیار تھا، جیناں نے مولوی صاحب کے لیے بھی پکا رکھا تھا۔ جب اس نے اپنے باپ سے پوچھا کہ مولوی صاحب کہاں ہیں تو اس نے بڑے دکھ بھرے لہجے میں کہا۔’’گئے۔۔۔۔۔۔ چلے گئے۔ ان کا ہم گنہگاروں کے ہاں کیا کام!‘‘
جیناں کو افسوس ہوا کیونکہ مولوی صاحب نے کہا تھا کہ وہ کوئی ایسا راستہ ڈھونڈنکالیں گے جس سے اس کی ماں واپس آجائے گی۔۔۔۔۔۔ پر وہ جا چکے تھے۔۔۔۔۔۔اب وہ راستہ ڈھونڈے والا کون تھا۔ جیناں خاموشی سے پیڑھی پر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔ کھانا ٹھنڈا ہوتا رہا۔
تھوڑی دیر کے بعد ڈیوڑھی میں آہٹ ہوئی۔ باپ بیٹی دونوں چونکے۔ موجو اٹھ کے باہر گیا اور چند لمحات میں مولوی صاحب اور وہ دونوں اندر صحن میں تھے۔ دیے کی دھندلی روشنی میں جیناں نے دیکھا کہ مولوی صاحب لڑکھڑا رہے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا مٹکا ہے۔
موجو نے ان کو سہارے دے کر چارپائی پر بٹھایا۔ مولوی صاحب نے گھڑا موجو کو دیا اور لکنت بھرے لہجے میں کہا۔’’آج خدا نے ہمارا بہت کڑا امتحان لیا۔۔۔۔۔۔ تمہارے گاؤں کے دو لڑکے شراب کا گھڑا نکال کر پینے والے تھے کہ ہم پہنچ گئے۔۔۔۔۔۔ وہ ہمیں دیکھتے ہی بھاگ گئے۔ ہم کو بہت صدمہ ہوا کہ اتنی چھوٹی عمر اور اتنا بڑا گناہ۔۔۔۔۔۔ لیکن ہم نے سوچا کہ اسی عمر میں تو انسان رستے سے بھٹکتا ہے۔ چنانچہ ہم نے ان کے لیے اللہ تبارک تعالیٰ کے حضور میں گڑگڑا کر دعا مانگی کہ ان کا گناہ معاف کیا جائے۔۔۔۔۔۔جواب ملا۔۔۔۔۔۔ جانتے ہو کیا جواب ملا؟‘‘
موجو نے لرزتے ہوئے کہا۔’’جی نہیں!‘‘
’’جواب ملا۔۔۔۔۔۔ کیا تو ان کا گناہ اپنے سر لیتا ہے۔ میں نے عرض کی۔ہاں باری تعالیٰ۔۔۔۔۔۔ آواز آئی، تو جا یہ سارا گھڑا شراب کا تو پی۔۔۔۔۔۔ ہم نے ان لڑکوں کو بخشا!‘‘
موجو ایک ایسی دنیا میں چلا گیا جو اس کے اپنے تخیل کی پیداوار تھی۔ اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔’’تو آپ نے پی۔‘‘
مولوی صاحب کا لہجہ اور زیادہ لکنت بھرا ہوگیا۔’’ہاں پی۔۔۔۔۔۔پی۔۔۔۔۔۔ ان کا گناہ اپنے سرلینے کے لیے پی۔۔۔۔۔۔ رب العزت کی آنکھوں میں سرخرو ہونے کے لیے پی۔۔۔۔۔۔گھڑے میں اور بھی پڑی ہے۔۔۔۔۔۔ یہ بھی ہمیں پینی ہے۔۔۔۔۔۔ رکھ دے اسے سنبھال کے اور اور دیکھ اس کی ایک بوند ادھر ادھر نہ ہو۔‘‘
باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے



