صاحبِ کرامات۔۔۔ ایک عقیدت مند پنجابی کسان کی کہانی
مولوی صاحب پھر اس سے مخاطب ہوئے۔’’ اور میں ساری رات ایک ٹوٹی پھوٹی قبر پر سرنیوڑھائے سنسنان رات میں اس کے لیے وظیفہ پڑھتا رہا۔۔۔۔۔۔۔ کب آئے گا وہ؟۔۔۔۔۔۔ کیا وہ لے آئے گا تمہاری ماں کو۔‘‘
جیناں نے صرف اس قدر کہا۔’’ جی معلوم نہیں۔۔۔۔۔۔ شاید آتے ہی ہوں۔۔۔۔۔۔آجائیں گے۔۔۔۔۔۔ اماں بھی آجائے گی۔۔۔۔۔۔ پر ٹھیک پتا نہیں۔‘‘
اتنے میں آہٹ ہوئی۔۔۔۔۔۔ جیناں اٹھی۔ اس کی ماں نمودار ہوئی۔ وہ اسے دیکھتے ہی اس سے لپٹ گئی اور رونے لگی۔ موجو آیا تو اس نے مولوی صاحب کو بڑے ادب اور احترام کے ساتھ سلام کیا۔ پھر اس نے اپنی بیوی سے کہا۔’’پھاتاں۔۔۔۔۔۔ سلام کرو مولوی صاحب کو۔‘‘
پھاتاں اپنی بیٹی سے الگ ہوئی۔ آنسو پونچھتے ہوئے آگے بڑھی اور مولوی صاحب کو سلام کیا۔ مولوی صاحب نے اپنی لال لال آنکھوں سے اس کو گھور کے دیکھا اورموجو سے کہا۔’’ساری رات قبر کے پاس تمہارے لیے وظیفہ کرتا رہا۔۔۔۔۔۔ابھی ابھی اٹھ کے آیا ہوں۔۔۔۔۔۔ اللہ نے میری سن لی ہے۔۔۔۔۔۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘
چوہدری موجو نے فرش پر بیٹھ کر مولوی صاحب کے پاؤں دابنے شروع کردیے وہ اتنا ممنون و متشکر تھا کہ کچھ نہ کہہ سکا۔ البتہ بیوی سے مخاطب ہو کر اس نے آنسوؤں بھری آواز میں کہا۔’’ادھر آ پھاتاں۔۔۔۔۔۔ تو ہی مولوی صاحب کا شکریہ ادا کر۔۔۔۔ مجھے تو نہیں آتا۔‘‘
پھاتاں اپنے خاوند کے پاس بیٹھ گئی۔ پر وہ صرف اتنا کہہ سکی۔’’ ہم غریب کیا ادا کرسکتے ہیں۔‘‘
مولوی صاحب نے غور سے پھاتاں کو دیکھا۔’’موجو چوہدری، تم ٹھیک کہتے تھے۔ تمہاری بیوی خوبصورت ہے۔۔۔۔۔۔اس عمر میں بھی جوان معلوم ہوتی ہے۔ بالکل دوسری جیناں۔۔۔۔۔۔ اس سے بھی اچھی۔۔۔۔۔۔ ہم سب ٹھیک کردیں گے پھاتاں۔۔۔۔۔۔اللہ کا فضل و کرم ہوگیا ہے۔‘‘
میاں بیوی دونوں خاموش رہے۔ موجو مولوی صاحب کے پاؤں دباتا رہا۔ جیناں چولھا سلگانے میں مصروف ہوگئی تھی۔
تھوڑی دیر کے بعد مولوی صاحب اٹھے۔ پھاتاں کے سر پر ہاتھ سے پیار کیا اور موجو سے مخاطب ہوئے۔’’ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ جب کوئی آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے اور پھر اس کو اپنے گھر بسانا چاہے تو اس کی سزا یہ ہے کہ پہلے وہ عورت کسی اور مرد سے شادی کرے۔ اس سے طلاق لے، پھر جائز ہے۔‘‘
موجو نے ہولے سے کہا۔’’میں سن چکا ہوں مولوی صاحب۔‘‘
مولوی صاحب نے موجو کو اٹھایا اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔’’لیکن ہم نے خدا کے حضور گڑگڑا کر دعا مانگی کہ ایسی کڑی سزا نہ دی جائے غریب کو۔ اس سے بھول ہوگئی ہے۔۔۔۔۔۔ آواز آئی۔۔۔۔۔۔ ہم ہرروز سفارشیں کب تک سنیں گے تو اپنے لیے جو بھی مانگ ہم دینے کے لیے تیار ہیں۔۔۔۔۔۔ میں نے عرض کی، میرے شہنشاہ۔۔۔۔۔۔ بحروبر کے مالک۔۔۔۔۔۔ میں اپنے لیے کچھ نہیں مانگتا۔۔۔۔۔۔ تیرا دیا میرے پاس بہت کچھ ہے۔۔۔۔۔۔ موجو چوہدری کو اپنی بیوی سے محبت ہے۔۔۔۔۔۔ ارشاد ہوا۔۔۔۔۔۔تو ہم اس کی محبت اور تیرے ایمان کا امتحان لینا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔ ایک دن کے لیے تو اس سے نکاح کرلے۔ دوسرے دن طلاق دے کر موجو کے حوالے کردے۔۔۔۔۔۔ ہم تیرے لیے بس صرف یہی کرسکتے ہیں کہ تو نے چالیس برس دل سے ہماری عبادت کی ہے۔‘‘
موجو بہت خوش ہوا۔’’مجھے منظور ہے مولوی صاحب۔۔۔۔۔۔ مجھے منظور ہے‘‘
اور پھاتاں کی طرف اس نے تمتمائی انکھوں سے دیکھا۔’’ کیوں پھاتاں؟‘‘ مگر اس نے پھاتاں کے جواب کا انتظار نہ کیا۔’’ہم دونوں کو منظور ہے۔‘‘
مولوی صاحب نے آنکھیں بندکیں۔ کچھ پڑھا۔ دونوں کے پھونک ماری اور آسمان کی طرف نظریں اٹھائیں’’اللہ تبارک تعالیٰ۔ ہم سب کو اس امتحان میں پورا اتارے۔‘‘ پھر وہ موجو سے مخاطب ہوا۔’’ اچھا موجو۔۔۔۔۔۔ میں اب چلتا ہوں۔۔۔۔۔۔ تم اور جیناں آج کی رات کہیں چلے جانا۔صبح سویرے آجانا۔‘‘
یہ کہہ کر مولوی صاحب چلے گئے۔
جیناں اور موجو تیار تھے۔ جب شام کو مولوی صاحب واپس آئے تو انھوں نے ان سے بہت مختصر باتیں کیں۔ وہ کچھ پڑھ رہے تھے۔ آخر میں انھوں نے اشارہ کیا۔ جیناں اور موجو فوراً چلے گئے۔
مولوی صاحب نے کنڈی بند کردی اور پھاتاں سے کہا۔’’تم آج کی رات میری بیوی ہو۔۔۔۔۔۔ جاؤ اندر سے بستر لاؤ اور چارپائی پر بچھاؤ۔ ہم سوئیں گے۔‘‘
پھاتاں نے اندر کوٹھڑی سے بستر لا کر چارپائی پر بڑے سلیقے سے لگا دیا ۔مولوی صاحب نے کہا۔’’بی بی۔ تم بیٹھو۔ ہم ابھی آتے ہیں۔‘‘
یہ کہہ وہ کوٹھڑی میں چلے گئے۔ اندر دیا روشنی تھا۔ کونے میں برتنوں کے منارے کے پاس ان کا گھڑا رکھا تھا۔ انھوں نے اسے ہلا کر دیکھا۔ تھوڑی سی باقی تھی۔ گھڑے کے ساتھ ہی منہ لگا کر انھوں نے کئی بڑے بڑے گھونٹ پیے۔ کاندھے سے ریشمی پھولوں والا بسنتی رومال اتار کر مونچھیں اور ہونٹ صاف کیے اور دروازہ بھیڑ دیا۔
پھاتاں چارپائی پر بیٹھی تھی۔ کافی دیر کے بعد مولوی صاحب نکلے۔ان کے ہاتھ میں کٹورا تھا۔ اس میں تین دفعہ پھونک کر انھوں نے پھاتاں کو پیش کیا۔’’لو اسے پی جاؤ۔‘‘
پھاتاں پی گئی۔ قے آنے لگی تو مولوی صاحب نے اس کی پیٹھ تھپتھپائی اور کہا۔’’ٹھیک ہو جاؤ گی فوراً۔‘‘
پھاتاں نے کوشش کی اور کسی قدر ٹھیک ہوگئی۔ مولوی صاحب لیٹ گئے۔
صبح سویرے جیناں اور موجو آئے تو انھوں نے دیکھا کہ صحن میں پھاتاں سورہی ہے مگر مولوی صاحب موجود نہیں۔ موجو نے سوچا۔ باہر گئے ہوں گے کھیتوں میں۔ اس نے پھاتاں کو جگایا۔ پھاتاں نے غوں غوں کرکے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں۔ پھر بڑبڑائی۔’’جنت۔۔۔۔۔۔جنت۔‘‘ لیکن جب اس نے موجو کو دیکھا تو پوری آنکھیں کھول کر بستر میں بیٹھ گئی۔
موجو نے پوچھا۔’’مولوی صاحب کہاں ہیں؟‘‘
پھاتاں ابھی تک پورے ہوش میں نہیں تھی۔’’مولوی صاحب۔۔۔۔۔۔ کون مولوی صاحب۔۔۔۔۔۔وہ تو۔۔۔۔۔۔پتا نہیں کہاں گئے۔۔۔۔۔۔یہاں نہیں ہیں؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ موجو نے کہا۔’’ میں دیکھتا ہوں انھیں باہر۔‘‘
وہ جارہا تھا کہ اسے پھاتاں کی ہلکی سی چیخ سنائی دی۔ پلٹ کر اس نے دیکھا تکیے کے نیچے سے وہ کوئی کالی کالی چیز نکال رہی تھی۔۔۔۔۔۔ جب پوری نکل آئی تو اس نے کہا۔’’یہ کیا ہے؟‘‘
موجو نے کہا۔’’بال۔‘‘
پھاتاں نے بالوں کا وہ گچھا فرش پر پھینک دیا۔ موجو نے اسے اٹھا لیا اور غورسے دیکھا۔’’داڑھی اور پٹے۔‘‘
جیناں پاس ہی کھڑی تھی۔ وہ بولی’’مولوی صاحب کی داڑھی اور پٹے‘‘
پھاتاں نے وہیں چارپائی سے کہا۔’’ ہاں۔۔۔۔۔۔مولوی صاحب کی داڑھی اور پٹے۔‘‘
موجو عجیب چکر میں پڑ گیا۔’’ اور مولوی صاحب کہاں ہیں؟‘‘ لیکن فوراً ہی اس کے سادہ اور بے لوث دماغ میں ایک خیال آیا۔’’جیناں۔۔۔۔۔۔پھاتاں، تم نہیں سمجھیں۔۔۔۔۔۔ وہ کوئی کرامات والے بزرگ تھے۔ ہمارا کام کرگئے اور یہ نشانی چھوڑ گئے۔‘‘
اس نے ان بالوں کو چوما۔ آنکھوں سے لگایا اور ان کوجیناں کے حوالے کرکے کہا۔’’جاؤ، ان کو کسی صاف کپڑے میں لپیٹ کر بڑے صندوق میں رکھ دو۔۔۔۔۔۔ خدا کے حکم سے گھر میں برکت ہی برکت رہے گی۔‘‘
جیناں اندر کوٹھڑی میں گئی تو وہ پھاتاں کے پاس بیٹھ گیا اور بڑے پیار سے کہنے لگا۔’’ میں اب نماز پڑھنا سیکھوں گا اور اس بزرگ کے لیے دعا کیا کروں گا جس نے ہم دونوں کو پھر سے ملا دیا۔‘‘
پھاتاں خاموش رہی۔




