صاحبِ کرامات۔۔۔ ایک عقیدت مند پنجابی کسان کی کہانی
موجو نے گھڑا اٹھا کر اندرکوٹھڑی میں رکھ دیا اور اس کے منہ پر کپڑا باندھ دیا۔ واپس صحن میں آیا تو مولوی صاحب جیناں سے اپنا سر دبوا رہے تھے اور اس سے کہہ رہے تھے۔’’ جو آدمی دوسروں کے لیے کچھ کرتا ہے، اللہ جل شانہ، اس سے بہت خوش ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ وہ اس وقت تجھ سے بھی خوش ہے۔۔۔۔۔۔ ہم بھی تجھ سے خوش ہیں۔‘‘
اور اسی خوشی میں مولوی صاحب نے جیناں کو اپنے پاس بٹھا کر اس کی پیشانی چوم لی۔ اس نے اٹھنا چاہا۔ مگر ان کی گرفت مضبوط تھی۔ مولوی صاحب نے اس کو اپنے گلے سے لگا لیا اور موجو سے کہا۔’’چوہدری تیری بیٹی کا نصیبا جاگ اٹھا ہے۔‘‘
چوہدری سر تا پا ممنون و متشکر تھا۔’’یہ سب آپ کی دعا ہے۔۔۔۔۔۔ آپ کی مہربانی ہے۔‘‘
مولوی صاحب نے جیناں کو ایک مرتبہ پھر اپنے سینے کے ساتھ بھینچا۔’’ اللہ مہربان سو کل مہربان۔۔۔۔۔۔ جیناں ہم تجھے ایک وظیفہ بتائیں گے۔ وہ پڑھا کرنا۔ اللہ ہمیشہ مہربان رہے گا۔‘‘
دوسرے دن مولوی صاحب بہت دیر سے اٹھے۔ موجو ڈر کے مارے کھیتوں پر نہ گیا۔ صحن میں ان کی چارپائی کے پاس بیٹھا رہا۔ جب وہ اٹھے تو ان کو مسواک دی، نہلایا دھلایا۔۔۔۔۔۔ اور ان کے ارشاد کے مطابق شراب کا گھڑا لا کران کے پاس رکھ دیا۔ مولوی صاحب نے کچھ پڑھا۔ گھڑے کا منہ کھول کر اس میں تین بار پھونکا اور دو تین کٹورے چڑھا گئے۔ اوپر آسمان کی طرف دیکھا۔ کچھ پڑھا اور بلند آواز میں کہا’’ہم تیرے ہر امتحان میں پورے اتریں گے مولا۔‘‘ پھر وہ چوہدری سے مخاطب ہوئے’’موجو جا۔۔۔۔۔۔حکم ملا ہے ابھی جا اور اپنی بیوی کو لے آ۔۔۔۔۔۔ راستہ مل گیا ہے ہمیں۔‘‘
موجو بہت خوش ہوا۔ جلدی جلدی اس نے گھوڑی پر زین کسی اور کہا کہ وہ دوسرے روز صبح سویرے پہنچ جائے گا۔ پھر اس نے جیناں سے کہا کہ وہ مولوی صاحب کی ہر آسائش کا خیال رکھے اور خدمت گزاری میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھے۔
جیناں برتن مانجھنے میں مشغول ہوگئی۔ مولوی صاحب چارپائی پر بیٹھے اسے گھورتے اور شراب کے کٹورے پیتے رہے۔ اس کے بعد انھوں نے جیب سے موٹے موٹے دانوں والی تسبیح اٹھائی اور پھیرنا شروع کردی۔ جب جیناں کام سے فارغ ہوگئی تو انھوں نے اس سے کہا۔’’جیناں دیکھو۔۔۔۔۔۔ وضو کرو۔‘‘
جیناں نے بڑے بھولپن سے جواب دیا۔’’مجھے نہیں آتا مولوی جی۔‘‘
مولوی صاحب نے بڑے پیار سے اس کو سرزنش کی۔’’وضو کرنا نہیں آتا۔۔۔۔۔۔کیا جواب دے گی اللہ کو۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اٹھے اور اس کو و ضو کرایا اور ساتھ ساتھ اس انداز سے سمجھاتے رہے کہ وہ اس کے بدن کے ایک ایک کونے کھدرے کو جھانک جھانک کر دیکھ سکیں۔
وضو کرانے کے بعد مولوی صاحب نے جا نماز مانگی۔ وہ نہ ملی تو پھر ڈانٹا، مگر اسی انداز میں۔ کھیس منگوایا اس کو اندر کی کوٹھڑی میں بچھایا اور جیناں سے کہا کہ باہر کی کنڈی لگا دے۔ جب کنڈی لگ گئی تو اس سے کہا کہ گھڑا اور کٹورا اٹھا کے اندر لے آئے۔ وہ لے آئی۔ مولوی صاحب نے آدھا کٹورا پیا اور آدھا اپنے سامنے رکھ لیا اور تسبیح پھیرنا شروع کردی جیناں ان کے پاس خاموش بیٹھی رہی۔
بہت دیر تک مولوی صاحب آنکھیں بند کیے اسی طرح وظیفہ کرتے رہے، پھر انھوں نے آنکھیں کھولیں۔ کٹورا جو آدھا بھرا تھا، اس میں تین پھونکیں ماریں اور جیناں کی طرف بڑھا دیا۔’’پی جاؤ اسے۔‘‘
جیناں نے کٹورا پکڑ لیا مگر اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔ مولوی صاحب نے بڑے جلال بھرے انداز میں اس کی طرف دیکھا۔’’ ہم کہتے ہیں، پی جاؤ۔۔۔۔۔۔ تمہارے سارے دلدر دور ہو جائیں گے۔‘‘
جیناں پی گئی، مولوی صاحب اپنی پتلی لبوں میں مسکرائے اور اس سے کہا’’ہم پھر اپنا وظیفہ شروع کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ جب شہادت کی انگلی سے اشارہ کریں تو آدھا کٹورہ گھڑے سے نکال کر فوراً پی جانا۔۔۔۔۔۔ سمجھ گئیں۔‘‘
مولوی صاحب نے اس کو جواب کا موقعہ ہی نہ دیا اور آنکھیں بند کرکے مراقبے میں چلے گئے۔۔۔۔۔۔جیناں کے منہ کا ذائقہ بے حد خراب ہوگیا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ سینے میں آگ سی لگ گئی ہے۔ وہ چاہتی تھی کہ اٹھ کر ٹھنڈا ٹھنڈا پانی پیے۔ پر وہ کیسے اٹھ سکتی تھی۔ جلن کو حلق اور سینے میں لیے دیر تک بیٹھی رہی۔ اس کے بعد ایک دم مولوی صاحب کی شہادت کی انگلی زور سے اٹھی۔ جیناں کو جیسے کسی نے ہپناٹزم کردیا تھا۔ فوراً اس نے آدھا کٹورا بھرا اور پی گئی۔ تھوکنا چاہا مگر اٹھ نہ سکی۔
مولوی صاحب اسی طرح آنکھیں بند کیے تسبیح کے دانے کھٹا کھٹ پھیرتے رہے۔ جیناں نے محسوس کیا کہ اس کا سر چکرا رہا ہے اور جیسے اس کو نیند آرہی ہے پھر اس نے نیم بے ہوشی کے عالم میں یوں محسوس کیا کہ وہ کسی بے داڑھی مونچھ والے جوان مرد کی گود میں ہے اور وہ اسے جنت دکھانے لے جارہا ہے۔
جیناں نے جب آنکھیں کھولیں تو وہ کھیس پر لیٹی تھی۔ اس نے نیم وا مخمور آنکھوں سے ادھر ادھر دیکھا۔ اور یہاں کیوں لیٹی تھی، کب لیٹی تھی کے متعلق سوچنا شروع کیا تو اسے سب کچھ دھند میں لپٹا نظر آیا۔ وہ پھر سونے لگی۔ لیکن ایک دم اٹھ بیٹھی۔ مولوی صاحب کہاں تھے؟۔۔۔۔۔۔ اور وہ جنت؟
کوئی بھی نہیں۔ وہ باہر صحن میں نکلی تو دیکھا کہ دن ڈھل رہا ہے اور مولوی صاحب کھرے کے پاس بیٹھے وضو کررہے ہیں۔ آہٹ سن کر انھوں نے پلٹ کر جیناں کی طرف دیکھا اور مسکرائے۔ جیناں واپس کوٹھڑی میں چلی گئی اور کھیس پر بیٹھ کر اپنی ماں کے متعلق سوچنے لگی۔ جس کو لانے اس کا باپ گیا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔ پوری ایک رات باقی تھی۔ ان کی واپسی میں۔
اور سخت بھوک لگ رہی تھی۔ اس نے کچھ پکایا ریندھا نہیں تھا۔۔۔۔۔۔ اس کے چھوٹے سے مضطرب دماغ میں بے شمار باتیں آرہی تھیں۔ کچھ دیر کے بعد مولوی صاحب نمودار ہوئے اور یہ کہہ کرچلے گئے۔
’’مجھے تمہارے باپ کے لیے ایک وظیفہ کرنا ہے۔۔۔۔۔۔ساری رات کسی قبر کے پاس بیٹھنا ہوگا۔۔۔۔۔۔صبح آجاؤں گا۔۔۔۔۔۔ تمہارے لیے بھی دعا مانگوں گا۔‘‘
مولوی صاحب صبح سویرے نمودار ہوئے۔ ان کی بڑی بڑی آنکھیں جن میں سرمے کی تحریر غائب تھی بے حد سرخ تھیں۔ ان کے لہجے میں لکنت تھی اور قدموں میں لڑکھڑاہٹ۔ صحن میں آتے ہی انھوں نے مسکرا کر جیناں کی طرف دیکھا آگے بڑھ کر اس کو گلے سے لگایا۔ اس کو چوما اور چارپائی پر بیٹھ گئے۔ جیناں ایک طرف کونے میں پیڑھی پر بیٹھ گئی اور گزشتہ دھندلے واقعات کے متعلق سوچنے لگی۔ اس کو اپنے باپ کا بھی انتظار تھا۔ جس کو اس وقت تک پہنچ جانا چاہیے تھا۔
ماں سے بچھڑے ہوئے اس کو دو برس ہو چکے تھے۔۔۔۔۔۔ اور جنت۔۔۔۔۔۔وہ جنت۔۔۔۔۔۔ کیسی تھی وہ جنت!!۔۔۔۔۔۔ کیا وہ مولوی صاحب تھے؟۔۔۔۔۔۔
مولوی صاحب تھوڑی دیر کے بعد اس سے مخاطب ہوئے۔’’جیناں، ابھی تک موجو نہیں آیا۔‘‘
جیناں خاموش رہی۔
باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے


