آغا حشر سے دو ملاقاتیں


ایک دن ابراہیم نے بتایا کہ آغا صاحب نے پینا یک قلم ترک کردیا ہے۔ جو آغا صاحب کے متعلق زیادہ جانتے تھے۔ ان کو بہت تعجب ہوا۔ ابراہیم نے کہا کہ یہ فیصلہ انہوں نے حال ہی میں مختار سے عشق ہونے کی وجہ سے کیا ہے۔ یہ عشق بھی کیا بلا تھی۔ ہم سمجھ نہ سکے۔ لیکن دینو یا فضلو نے نال کے کل پیسے اپنے تہمد کے ڈب میں باندھتے ہوئے ایک بار پھر کہا۔ ”بڑھاپے کے عشق سے خدا بچائے۔ بڑی ظالم چیز ہوتی ہے۔ ‘‘

جوئے سے طبیعت اکتا ہی چکی تھی۔ میں نے بیٹھک جانا آہستہ آہستہ چھوڑ دیا اس دوران میں میری ملاقات باری صاحب اور حاجی لق لق سے ہوئی جو روزنامہ” مساوات‘‘ کے ایڈیٹر مقرر ہو کر امرتسر آئے ہوئے تھے۔ جیجے کے ہوٹل” شیراز‘‘ میں دونوں چائے پینے آتے تھے اور ادب سے سیاست پر باتیں کرتے تھے۔ ان سے میری ملاقات ہوئی۔ باری صاحب کو میں نے بہت پسند کیا۔ اسی دوران میں جیجینے اختر شیرانی مرحوم کو مدعو کیا۔ دن رات ٹھرے کے دور چلنے لگے، شعر و ادب سے میری دلچسپی بڑھنے لگی۔ جو وقت پہلے فلش کھیلنے میں کٹتا تھا۔ اب” مساوات‘‘ کے دفتر میں کٹنے لگا۔ کبھی کبھی باری صاحب ایک آدھ خبر ترجمہ کے لئے مجھے دے دیتے جو میں ٹوٹی پھوٹی اردو میں کردیا کرتا تھا۔ آہستہ آہستہ میں نے فلمی خبروں کا ایک کالم سنبھال لیا۔ بعض دوستوں نے کہا کہ محض خرافات ہوتی ہے لیکن باری صاحب نے کہا۔ ”بکواس کرتے ہیں۔ تم اب طبعزاد مضمون لکھنے شروع کرو۔ ‘‘

طبعزاد مضمون تو مجھ سے لکھے نہ گئے لیکن فرانسیسی ناول نگار کی ایک کتاب” لاسٹ ڈیز آف کنڈمنڈ‘‘ میری الماری میں پڑی تھی۔ باری صاحب اٹھا کر لے گئے دوسرے روز دوپہر کے قریب میں” مساوات‘‘ کے دفتر میں گیا تو کاتبوں سے معلوم ہوا کہ باری صاحب کو سرسام ہوگیا ہے۔ ایک کتاب صبح سے بلند آواز میں پڑھ رہے ہیں۔ تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد یہاں آتے ہیں۔ اور ایک لوٹا ٹھنڈے پانی کا سر پر ڈلوا کر اپنے کمرے میں چلے جاتے ہیں۔ میں ادھر گیا تو دروازے بند تھے اور وہ خطیبانہ انداز میں انگریزی کی کوئی نہایت ہی زور دار عبارت پڑھ رہے تھے۔ میں نے دستک دی۔ دروازہ کھلا۔ باری صاحب کرتے پجامے بغیر باہر آئے۔ ہاتھ میں وکٹر ہیوگو کی کتاب تھی۔ اسے میری طرف بڑھا کر انگریزی میں کہا۔ ” اِٹ از اے ویری ہوٹ بُک‘‘ اور جب کتاب پڑھنے کی گرمی دور ہوئی تو مجھے مشورہ دیا کہ میں اس کا ترجمہ کروں۔ ‘‘

میں نے کتاب پڑھی۔ لکھنے کا انداز بہت ہی موثر اور خطیبانہ تھا۔ شراب پی کر ترجمہ کرنے کی کوشش کی۔ مگر نظروں کے سامنے سطریں گڈمڈ ہوگئیں۔ صحن میں پلنگ بچھوا کر حقے کی نے منہ میں لے کر اپنی بہن کو ترجمہ لکھوانے کی کوشش کی۔ مگر اس میں بھی ناکام رہا۔ آخر میں اکیلے بیٹھ کر دس پندرہ دنوں کے اندر انڈر ڈکشنری سامنے رکھ کر ساری کتاب کا ترجمہ کر ڈالا۔ باری صاحب نے بہت پسند کیا۔ اس کی اصلاح کی اور یعسوب حسن مالک اردو بک سٹال کے پاس روپے میں بکوا دیا۔ یعسوب حسن نے اسے بہت ہی قلیل عرصے میں چھاپ کر شائع کردیا۔ اب میں صاحبِ کتاب تھا۔

”مساوات‘‘ بند ہوگیا۔ باری صاحب، لاہور کسی اخبار میں چلے گئے، جیجیکا ہوٹل سُونا ہوگیا۔ میرے لئے کوئی شغل نہ رہا۔ لکھنے کی چاٹ پڑ گئی تھی۔ لیکن چونکہ دوستوں سے داد نہ ملتی تھی۔ اس لئے ادھر کوئی توجہ نہ دی۔ اب پھر دینا یا فضلو کمہار کی بیٹھک تھی۔ جوا کھیلتا تھا۔ مگر اس میں اب وہ پہلا سا لطف اور پہلی سی حرارت نہیں تھی۔

ایک دن داروغہ ابراہیم نے فلش کھیلنے کے دوران میں بتایا کہ آغا حشر آئے ہوئے ہیں۔ اور مختار کے یہاں ٹھہرے ہوئے ہیں میں نے اس سے کہا۔ کسی روز مجھے وہاں لے چلو۔ ابراہیم نے وعدہ تو کرلیا مگر پورا نہ کیا۔ جب میں نے تقاضا کیا تو اس نے یہ کہہ کر ٹرخا دیا۔ ” آغا صاحب لاہور چلے گئے ہیں۔ ‘‘

میرا ایک دوست تھا ہری سنگھ، اللہ بخشے خوب آدمی تھا۔ پانچ مکان بیچ کر دو مرتبہ سارے یورپ کی سیر کر چکا تھا۔ اور ان دنوں چھٹے اور آخری مکان کو آہستہ آہستہ بڑے سلیقے کے ساتھ کھارہا تھا۔ فرانس میں صرف چھ مہینے رہا تھا۔ لیکن فرانسیسی زبان بڑی بے تکلفی سے بول لیتا تھا۔ بہت ہی دبلا پتلا، مریل سا انسان تھا۔ مگر بلا کا پھرتیلا، چرب زبان اور دھانسو، یعنی برمے کی طرح اندر دھنس جانے والا۔ ایک روز میں نے اس سے آغا حشر کا ذکر کیا۔ اس نے فوراً ہی پوچھا۔ ” کیا تم اس سے ملنا چاہتے ہو؟ ‘‘ میں نے کہا۔ ” بہت دیر سے میری خواہش ہے کہ ان کو ایک نظر دیکھوں۔ ‘‘ ہری سنگھ نے فوراً ہی کہا۔ ” اس میں کیا مشکل ہے جب سے وہ یہاں امرتسر میں پنڈت محسن کے ہاتھ ٹھہرا ہے، قریب قریب ہر روز میری اس سے ملاقات ہوتی ہے‘‘۔ میں اچھل پڑا۔ ” تو ہری کل شام کو تم مجھے ان کے پاس لے چلو‘‘۔ ہری نے اپنا وسکی کا گلاس اپنے پتلے ہونٹوں سے لگایا۔ اور بڑی نزاکت سے ایک چھوٹا سا گھونٹ بھر کے فرانسیسی زبان میں کچھ کہا جس کا مطلب تھا۔ ” یقیناً میرے دوست۔ ‘‘

اور ہری سنگھ دوسرے روز شام کو مجھے آغا حشر کاشمیری کے پاس لے گیا۔
پنڈت محسن جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کشمیری پنڈت تھے۔ نام ان کا جانے کیا تھا محسن ان کا تخلص تھا۔ مشاعروں میں پرانی دقیانوسی شاعری کے نمونے کے طور پر پیش ہوتے تھے۔ آپ کا کاروباری تعلق کٹڑہ گھنیاں کے امرت سینما سے تھا۔

آغا صاحب سے پنڈت جی کی دوستی معلوم نہیں شاعری کی وجہ سے تھی۔ یا سینما کی وجہ سے۔ یاکٹڑہ گھنیاں اس کا باعث تھا۔ جس میں امرت سینما اور مختار کا بالا خانہ بالکل آمنے سامنے تھے۔ سبب کچھ بھی ہو، آغا صاحب پنڈت محسن کے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے اور جیسا کہ مجھے ان کی باہم گفتگو سے پتہ چلا، دونوں ایک دوسرے سے بے تکلف تھے۔

پنڈت محسن کی بیٹھک یا دفتر کٹڑہ گھنیاں کے پاس پشم والے بازار سے نکل کر آگے جہاں سبزی کی دکانیں شروع ہوتی ہیں۔ ایک بڑی سی ڈیوڑھی کے اُوپر واقع تھا۔ ہری سنگھ آگے تھا۔ میں اس کے پیچھے سیڑھیاں چڑھتے وقت میرا دل دھک دھک کرنے لگا۔ میں آغا حشر کو دیکھنے والا تھا۔

باہر صحن میں کرسیوں پرکچھ آدمی بیٹھے تھے۔ ایک کونے میں تخت پر پنڈت محسن بیٹھے گڑگڑی پی رہے تھے۔ سب سے پہلے ایک عجیب و غریب آدمی میری نگاہوں سے ٹکرایا۔ چیختے ہوئے لال رنگ کی چمکدار سا ٹن کالاچا، دو گھوڑے کی بوسکی کی کالر والی سفید قمیض، کمر پرگہرے نیلے رنگ کا پھندنوں والا آزار بند، بڑی بڑی بے ہنگم آنکھیں۔ میں نے سوچا کٹڑہ گھنیاں کا کوئی پیر ہوگا۔ لیکن فوراً ہی کسی نے اس کو” آغا صاحب‘‘ کہہ کر مخاب کیا۔ مجھے دھکا سا لگا۔

مضمون کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے ”اگلا صفحہ“ پر کلک کریں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5