آغا حشر سے دو ملاقاتیں
یعسوب نے اٹھ کر میرا اور باری صاحب کا آغا حشر سے تعارف کرایا اور کہا۔ ” یہ کتاب جو آپ دیکھ رہے ہیں مسٹر منٹو کی ترجمہ کی ہوئی ہے۔ ‘‘ آغا صاحب نے اپنی موٹی موٹی آنکھوں سے مجھے دیکھا۔ میرا خیال تھا کہ وہ مجھے پہچان لیں گے۔ لیکن انہوں نے مجھے دیکھنے کے بعد کتاب کے چند اوراق پلٹے اور کہا۔ ” کیسا لکھنے والا ہے وکٹر ہیوگو۔ ‘‘
باری صاحب نے جواب دیا۔ ”فرانسیسی ادب میں وکٹر ہیوگا کا رتبہ بہت بلند ہے۔ ‘‘
آغا صاحب ورق پلٹتے رہے۔ ”ڈراماٹسٹ تھا؟ ‘‘
اب کی پھر باری صاحب نے جواب دیا۔ ”ڈراما ٹسٹ بھی تھا۔ ‘‘
آغا صاحب نے پوچھا۔ ”کیا مطلب؟ ‘‘
باری صاحب نے انہیں بتایا۔ کہ ہیوگو اصل میں شاعر تھا۔ فرانس کی رومانی تحریک کا نام۔ اس نے ڈرامے اور ناول بھی لکھے۔ ایک ناول” مصیبت زدہ‘‘ اتنا مشہور ہوا کہ اس کی شاعری کو لوگ بھول گئے اور اسے ناولسٹ کی حیثیت سے جاننے لگے۔ ‘‘ آغا صاحب یہ معلومات بڑی دلچسپی سے سنتے رہے۔ آخر میں انہوں نے یعسوب سے کہا۔ ”سرگزشتِ اسیر‘‘ بھی ان کتابوں میں شامل کرلی جائے جو وہ خرید رہے تھے۔ میں بہت خوش ہوا۔
اس کے بعد باری صاحب نے سے باتیں کرتے کرتے اٹھے اور اندر شو روم میں چلے گئے۔ باری صاحب کی گفتگو سے آغا صاحب متاثر ہوئے تھے۔ چنانچہ انہوں نے باری صاحب کی سفارش پر کئی کتابیں خریدیں۔ اس دوران میں باری صاحب نے ان سے کہا۔ ”آغا صاحب آپ ہندوستانی ڈرامے کی تاریخ کیوں نہیں لکھتے۔ ایسی کتاب کی اشد ضرورت ہے۔ ‘‘
آغا صاحب نے جواب دیا۔ ” ایسی کتاب صرف آغا حشر ہی لکھ سکتا ہے۔ اس کا ارادہ بھی تھا۔ مگروہ کم بخت آج کل قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھا ہے۔ اس کے دروازے پر موت دستک دے رہی ہے۔ ‘‘
میں نے ان سے پوچھا۔ ” آغا صاحب! آپ کے ڈرامے جو بازار میں بکتے ہیں۔ ‘‘ میں نے ابھی اپنا جملہ پورا بھی نہ کیا تھا کہ آغا صاحب نے بلند آواز میں کہا۔ ” لاحول ولا۔ آغا حشر کے ڈرامے اور۔ کے چیتھڑوں پر چھپیں۔ بغیر اجازت کے اِدھر اُدھر سے سن سنا کر چھاپ دیتے ہیں۔ ‘‘ اس کے بعد انہوں نے بہت ہی موٹی گالی ان پبلشروں کو دی جنہوں نے ان کے ڈرامے چھاپے تھے۔
میں نے ان سے کہا۔ ” آپ ان پر دعویٰ دائر کیوں نہیں کرتے۔ ‘‘
آغا صاحب ہنسے۔ ” کیا وصول کرلوں گا ان ٹٹ پونجیوں سے۔ ‘‘
بات درست تھی۔ میں خاموش ہوگیا۔
آغا صاحب نے باہر آکر یعسوب سے بل طلب کیا اور جیب سے تماش بینوں کے انداز میں تین چارہزارروپے کے بالکل نئے نوٹ نکالے۔ ان دنوں دس دس اور پانچ پانچ کے نئے نوٹ نکلے تھے۔ جو پہلے نوٹوں کی بہ نسبت چھوٹے تھے۔ آغا صاحب نے بتایا کہ چیک کیش کرانے کے لئے جب بنک گئے تو وقت ہو چکا تھا۔ آپ نے کلرک سے کہا۔ ” آغا حشر کا وقت ابھی پورا نہیں ہوا۔ جلدی چیک کیش کراؤ۔ ‘‘
”کلرک کو جب معلوم ہوا کہ آغا حشر ہیں تو وہ بھاگتا ہوا منیجر کے پاس گیا۔ فوراً ہی منیجر دوڑا دوڑا ان کے پاس آیا اور اپنے کمرے میں لے گیا۔ نئے نوٹ منگوا کر اس نے بڑے ادب سے آغا صاحب کو پیشکیے اور کہا۔ ” میں آپ کی اور کوئی سیوا تو نہیں کرسکتا۔ یہ نئے نوٹ آئے ہیں، سب سے پہلے آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ ‘‘
باری صاحب نے ایک نوٹ آغا صاحب سے لیا اور اُس کو انگلیوں میں پکڑ کر کہا۔ ” آغا صاحب گرفت کچھ کم ہوگئی ہے، ٹھیک اسی طرح جس طرح حکومت کی۔ ‘‘
آغا صاحب نے اس فقرے کی بہت داد دی۔ ” خوب، بہت۔ گرفت کچھ کم ہوگئی ہے۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح حکومت کی۔ میں کسی نہ کسی ڈرامے میں اسے ضرور استعمال کروں گا۔ ‘‘
باری صاحب بہت خوش ہو ئے اتنے میں وہ نوکر آیا وہی جو پنڈت محسن کے دفتر میں ازار بند لایا تھا۔ اس کے ہاتھوں میں چار قندھاری انار تھے۔ آغا صاحب نے ایک انار لیا اور ناک بھوں چڑھا کرگالی دی”۔ نہایت ہی واہیات انار ہیں۔ ‘‘
نوکر نے پوچھا۔ ”واپس کر آؤں؟ ‘‘
آغا صاحب بولے۔ ” نہیں بے۔ تو کھالے۔ ‘‘ اس کے بعد انہوں نے ایک وزن دار گالی لڑھکا دی۔
آغا صاحب جانے لگے تو میں نے آٹو گراف بُک نکال کر ان کے دستخط لئے۔ آغا صاحب جب کانپتے ہوئے ہاتھ سے اپنا نام لکھ چکے تو کہا۔ ” ایک زمانے کے بعد میں نے یہ چندحرف لکھے ہیں۔ ‘‘
میں امرتسر چلا آیا۔ کچھ عرصے کے بعد یہ خبر آئی کہ لاہور میں مختصر علالت کے بعد آغا حشر کاشمیری کا انتقال ہوگیا ہے۔ جنازے کے ساتھ گنتی کے چند آدمی تھے۔
دینو یا فضلو کمہار کی بیٹھک پر جب آغا صاحب کی موت کا ذکر ہوا تو اس نے نال کے پیسے نکال کر اپنی جالی دار ٹوپی میں رکھتے ہوئے بڑے ہی فلسفیانہ انداز میں کہا۔ ” بڑھاپے کا عشق بہت ظالم ہوتا ہے۔ ‘‘

