آغا حشر سے دو ملاقاتیں


ہری سنگھ نے بڑھ کر اس عجیب و غریب آدمی سے مصافحہ کیا، اور میری طرف اشارہ کرکے اس سے کہا۔ ” میرے دوست سعادت حسن منٹو۔ آپ سے ملنے کے بہت مشتاق تھے۔ ‘‘
آغا صاحب نے اپنی بڑی بڑی بے ہنگم آنکھیں میری طرف گھمائیں اور مسکرا کر کہا۔ ”لارڈ منٹو سے کیا رشتہ ہے تمہارا۔ ‘‘
میں تو جواب نہ دے سکا۔ لیکن ہری سنگھ نے کہا۔ ” آپ مِنٹو نہیں مَنٹو ہیں۔ کشمیری‘‘

آغا صاحب نے ایک لمبی” اوہ‘‘ کی۔ اور پنڈت محسن سے کشمیریوں کی” اَل‘‘ کے متعلق طویل گفتگو شروع کردی۔ میں پاس ہی بنچ پر بیٹھ گیا۔ پنڈت جی کو قطعاً آغا صاحب کی اس گفتگو سے دلچسپی نہیں تھی کیونکہ وہ بار بار ان سے کہتے تھے۔ ” آغا صاحب، اس کو چھوڑیئے۔ یہ بتائیے کہ آپ کب میرے لئے دو ریل کا مزاحیہ ڈرامہ لکھیں گے۔ ‘‘

آغا صاحب کو اس مزاحیہ ڈرامے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ گفتگو تو کشمیریوں کی”اَل‘‘ کے بارے میں کررہے تھے۔ مگر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ دماغ کچھ اور ہی سوچ رہا ہے۔ ایک دوبار انہوں نے دورانِ گفتگو میں اپنے نوکر کو موٹی موٹی گالیاں دے کر یاد کیا کہ وہ ابھی تک آیا کیوں نہیں۔

آغا صاحب جب خاموش ہوئے تو پنڈت محسن نے ان سے کہا۔ ” آغا صاحب اس وقت آپ کی طبیعت موزوں ہے۔ میں کاغذ قلم لاتا ہوں، آپ وہ کومیڈی لکھوانا شروع کردیجئے۔ ‘‘
آغا صاحب کی ایک آنکھ بھینگی تھی۔ آپ نے اسے گھما کر کچھ عجیب انداز سے پنڈت جی کی طرف دیکھا۔ ”ابے چپ کر۔ آغا حشر کی طبیعت ہروقت موزوں ہوتی ہے۔ ‘‘ پنڈی جی خاموش ہوگئے اور اپنی گُڑگُڑی گُڑگُڑانے لگے۔ دفعتہً مجھے محسوس ہوا کہ میرا سر چکرا رہا ہے۔ تیز خوشبو کے بھبکے آرہے تھے۔ میں نے دیکھا آغا صاحب کے دونوں کانوں میں عطرکے پھول ٹھنسے ہوئے تھے۔ اور غالباً سر بھی عطر ہی سے چپڑا ہوا تھا۔ میں کچھ تو اس تیز خوشبو اور کچھ آغا صاحب کے لاچے اور آزار بند کے شوخ رنگوں میں قریب قریب غرق ہوچکا تھا۔

بازار میں دفعتہً شور وغل برپا ہوا۔ ایک صاحب نے اٹھ کر باہر جھانکا اور آغا صاحب سے کہا۔ ” آغا صاحب تشریف لائیے۔ منہدی کا جلوس آرہا ہے۔ ‘‘
آغا صاحب نے کہا۔ ”بکواس ہے۔ ‘‘ اور حادثہ کربلا پر نہایت ہی محققانہ لکچر دینا شروع کردیا۔ ”دجلے کا منہ بند تھا۔ فرات خشک پڑی تھی۔ پینے کو پانی کی ایک بوند نہیں تھی۔ منہدی گوندھی کس سے گئی۔ آغا حشر۔ ‘‘ اس سے آگے کہتے کہتے رُک گئے۔ ایک صاحب جوغالباً شیعہ تھے۔ محفل سے اٹھ کر چلے گئے۔ آغا صاحب نے موضوع بدل دیا۔
پنڈت محسن کو موقعہ ملا۔ چنانچہ انہوں نے پھر درخواست کی۔ ”آغا صاحب دو ریل کی کامیڈی آپ کولکھنی ہوگی۔ ‘‘

آغا صاحب نے یہ موٹی گالی دی۔ ”کامیڈی کی۔ یہاں ٹریجڈی کی باتیں ہورہی تھیں اور تم اپنی کامیڈی لے آئے ہو۔ ‘‘ یہ کہہ کر آغا صاحب نے حادثہ کربلا کے بارے میں پھر عالمانہ انداز میں بحث شروع کردی کیونکہ وہ جی بھر کے اس موضوع پر اپنی معلومات اور خیالات کا اظہار نہیں کرسکے تھے۔ مگر فوراً جانے کیا جی میں آئی کہ ایک دم اپنے نوکر کو گالیاں دینا شروع کردیں کہ وہ ابھی تک آیا کیوں نہیں۔ چنانچہ وہ سلسلہ منقطع ہوگیا۔

تھوڑی دیر کے بعد اِدھر اُدھر کی باتیں شروع ہوئیں۔ کسی نے آغا صاحب سے مولانا ابوالکلام کے تبحر علم کے بارے میں پوچھا تو آپ نے اس کا جواب کچھ دیا۔ ” محی الدین کے متعلق پوچھتے ہو۔ ہم دونوں اکٹھے امریکی اور عیسائی مبلغوں سے مناظرے لڑتے رہے ہیں۔ گھنٹوں اپنا گلا پھاڑتے تھے عجیب دن تھے وہ بھی۔ ‘‘

یہ کہہ کر آغا صاحب لاچے اور آزار بند کے بھڑکیلے رنگوں اور کانوں میں اڑسے ہوئے پھوئے اور سر میں چپڑے ہوئے عطر کی تیز خوشبو سمیت بیتے ہوئے دنوں کی یاد میں کچھ عرصے کے لئے کھو گئے۔ اس سے گو آپ رنڈیوں کے پیر دکھائی دیتے تھے لیکن ان کا چہرہ بہت ہی بارعب تھا۔ آنکھیں بند تھیں۔ جھکے ہوئے پپوٹوں کی جھریوں والی پتلی جلد کے نیچے موٹی کانچ کی گولیاں سی ہول ہولے حرکت کررہی تھیں۔ انہوں نے جب آنکھیں کھولیں تو میں نے سوچا کتنے برسوں کا نشہ ان میں منجمد ہے۔ کس قدر سُرخی ان کے ڈوروں میں جذب ہو چکی ہے۔

آغا صاحب نے پھر کہا۔ ” عجیب دن تھے وہ۔ آزاد ڈھیل کے پیچ لڑانے کا عادی تھا۔ مجھے آتا تھا مزا کھینچ کے پیچ لڑانے میں۔ ایک ہاتھ مارا۔ اور پیٹا کاٹ لیا۔ حریف منہ دیکھتے رہ گئے۔ ایک دفعہ آزاد بہت بُری طرح گھر گیا۔ مقابلہ چار نہایت ہی ہٹ دھرم عیسائی مشنریوں سے تھا۔ میں پہنچا تو آزاد کی جان میں جان آئی۔ اس نے ان مشنریوں کو میرے حوالے کیا۔ میں نے دو تین ایسے اڑنگے دیے کہ بوکھلا گئے۔ میدان ہمارے ہاتھ رہا۔ لیکن میرا حلق سوکھ گیا۔ قیامت کی گرمی تھی۔ مسجد دوزخ بنی ہوئی تھی۔ میں نے آزاد سے کہا۔ ” وہ بوتل کہاں ہے؟ ‘‘اس نے جواب۔ ” میری جیب میں۔ ‘‘ میں نے کہا خدا کے لئے چلو۔ میرا حلق سوکھ کے لکڑی ہوگیا ہے۔ دور جانے کی تاب نہیں تھی۔ وہیں مسجد میں ایک خانے کے اندر جھک مارنی پڑی۔ ‘‘

مضمون کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے ”اگلا صفحہ“ پر کلک کریں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5