آغا حشر سے دو ملاقاتیں


اتنے میں آغا صاحب کا نوکر آگیا۔ آغا صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں اس کو گالیاں دیں اور وجہ پوچھی کہ اس نے اتنی دیر کیوں کی۔ نوکر نے جو گالیوں کا عادی معلوم ہوتا تھا کاغذ کا ایک بنڈل نکالا اور کھول کر آگے بڑھایا۔ ” ایسی چیز لایا ہوں کہ آپ کی طبیعت خوش ہو جائے۔ ‘‘

آغا صاحب نے کھلا ہوا بنڈل ہاتھ میں لیا۔ شوخ رنگ کے چار ازار بند تھے۔ آغا صاحب نے ایک نظر ان کو دیکھا اور آنکھوں کو بہت ہی خوفناک انداز میں اوپر اٹھا کر اپنے نوکر پر گرجے۔ ” یہ چیز لایا ہے تو۔ ایسے واہیات ازار بند تو اس شہر کے کنجڑے بھی نہیں پہنتے‘‘۔ یہ کہہ کر انہوں نے بنڈل فرش پر دے مارا۔ کچھ دیر نوکر پر برسے، پھر جیب میں سے غالباً دو تین ہزار روپے کے نوٹ نکالے اور اسے حکم دیا۔ ” جاؤ، پان لاؤ۔ ‘‘

پنڈت محسن نے گڑگڑی ایک طرف رکھی اور کہا۔ ” نہیں نہیں آغا صاحب، میں منگواتا ہوں۔ ‘‘
آغا صاحب نے سب نوٹ تماش بینوں کے انداز میں اپنی جیب میں رکھے اور کہا۔ ” جاؤ تمہارے پاس کچھ باقی بچا ہوا ہے۔ ‘‘
نوکر جانے لگا تو انہوں نے اسے روکا۔ ”ٹھہرو۔ وہاں سے پتہ بھی لیتے آؤ کہ وہ ابھی تک کیوں نہیں آئیں۔ ‘‘

نوکر چلا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد سیڑھیوں کی جانب سے ہلکی سی مہک آئی پھر ریشمیں سرسراہٹیں سنائی دیں۔ آغا صاحب کا چہرہ بشاش ہوگیا۔ مختار جو ہرگز ہرگز حسین نہیں تھی۔ خوش وضع کپڑوں میں ملبوس صحن میں داخل ہوئی۔ آغا صاحب اور حاضرین کو تسلیمات عرض کی اوراندر کمرے میں چلی گئی۔ آغا صاحب کی آنکھیں اس کو وہاں تک چھوڑنے گئیں۔

اتنے میں پان آگئے۔ جو اخبار کے کاغذ میں لپٹے ہوئے تھے۔ نوکر اندر چلا تو آغا صاحب نے کہا۔ ” کاغذ پھینکنا نہیں سنبھال کے رکھنا۔ ‘‘
میں نے ایک دم حیرت سے پوچھا۔ ” آپ اس کاغذ کو کیا کریں گے آغا صاحب؟ ‘‘
آغا صاحب نے جواب دیا۔ ” پڑھوں گا۔ چھپے ہوئے کاغذ کا کوئی بھی ٹکڑہ جو مجھے ملا ہے۔ میں نے ضرور پڑھا ہے۔ ‘‘ یہ کہہ کر وہ اٹھے۔ ” معافی چاہتا ہوں، اندر ایک معشوق میرا انتظار کررہا ہے۔ ‘‘
پنڈت محسن نے گڑگڑی اٹھائی اور اسے گڑگڑانے لگے۔ میں اور ہری سنگھ تھوڑی دیر کے بعد وہاں سے چل دیے۔

میں کئی دنوں تک اس ملاقات پر غور کرتارہا۔ آغا صاحب عجیب وغریب ہزار پہلو شخصیت کے مالک تھے۔ میں نے ان کے چند ڈرامے پڑھے جو اغلاط سے پُر تھے اور نہایت ہی ادنےٰ کاغذ پر چھپے ہوئے تھے۔ جہاں جہاں کامیڈی آتی تھی وہاں پھکڑ پن ملتا تھا۔ ڈرامائی مقاموں پر مکاملہ بہت ہی زور دار تھا۔ بعض اشعار سوقیانہ تھے، بعض نہایت ہی لطیف، سب سے پُر لطف بات یہ ہے کہ ان ڈراموں کا موضوع طوائف تھا۔ جن میں آغا صاحب نے اس کے وجود کو سوسائٹی کے حق میں زہر ثابت کیا تھا۔ اور آغا صاحب عمر کے اس آخری حصے میں شراب چھوڑ کر ایک طوائف سے بہت پرجوش قسم کا عشق فرما رہے تھے۔ پنڈت محسن سے ایک دفعہ ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا۔ ” عشق کے متعلق تو میں نہیں جانتا۔ لیکن ترکِ شراب نوشی بہت جلد ان کو لے مرے گی۔ ‘‘
آغا صاحب تو کچھ دیر زندہ ہے لیکن پنڈت محسن یہ فرمانے کے تقریباً ایک ماہ بعد اس دنیا سے چل بسے۔

میں نے اب مختلف اخباروں میں لکھنا شروع کردیا تھا۔ چند مہینے گزر گئے۔ لوگوں سے معلوم ہوا کہ آغا حشر لاہور میں” رستم وسہراب‘‘ نام کا ایک فلم بنا رہے ہیں جس کی تیاری پر روپیہ پانی کی طرح بہایا جارہا ہے۔ اس فلم کی ہیروئن جیسا کہ ظاہر ہے مختار تھی۔

امرتسر سے لاہور صرف ایک گھنٹے کا سفر ہے۔ آغا صاحب سے پھر ملنے کو جی تو بہت چاہتا تھا۔ مگر خدا معلوم ایسی کون سی رکاوٹ تھی کہ لاہور جاناہی نہ ہوسکا۔
بہت دنوں کے بعد باری صاحب نے بلایا تو میں لاہورگیا۔ وہاں پہنچ کر کچھ ایسا مشغول ہوا کہ آغا صاحب کو بھول ہی گیا۔ شام کے قریب ہم نے سوچا کہ چلو اُردو بک اسٹال چلیں چنانچہ میں اور باری صاحب دونوں عرب ہوٹل سے چائے پی کر ادھر روانہ ہوئے۔ اردو بک سٹال پہنچے تو میں نے دیکھا آغا صاحب یعسوب کے میز کے پاس کرسی پر بیٹھے ہیں۔ میں نے باری صاحب کو بتایا کہ آغا حشر ہیں۔ انہوں نے غور سے ان کی طرف دیکھا۔ ” یہ ہیں آغا حشر؟ ‘‘

آغا صاحب کا لباس اسی قسم کا تھا۔ سفید بوسکی کی قمیض، گہرے نیلے رنگ کا ریشمی لاچا، سر سے ننگے بیٹھے ایک کتاب کی ورق گردانی کررہے تھے۔ پاس پہنچا تو ایک دم میرا دل دھڑکنے لگا۔ کیونکہ آغا صاحب کے ہاتھ میں میری ترجمہ کی ہوئی کتاب”سرگزشتِ اسیر‘‘ تھی۔

مضمون کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے ”اگلا صفحہ“ پر کلک کریں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5