کرنل (ر) نادر علی کی 1971ء کے بارے میں یاد داشتیں
باریسال اور سٹالن گراڈ میں کیا مماثلت نکلی؟
باریسال سب سے آخری ضلع تھا جسے 25 اپریل کے قریب واپس لیا گیا کیونکہ یہ ڈھاکا سے بہت دور تھا اور یہاں سڑک نہیں صرف دریائی راستہ جاتا تھا۔ میں نے اس کارروائی میں 6 پنجاب بٹالین کے ساتھ بطور کمانڈو میجر حصہ لیا۔ اس بٹالین کے کمانڈنگ افسر بریگیڈئیر عاطف تھے۔ ہم باریسال پہنچے تو وہاں بارش ہو گئی۔ میں نے تو کمانڈو ایکشن کے لیے شہرکی دوسری جانب لینڈ کرنا تھا لیکن بارش کی وجہ سے ہیلی کاپٹر اڑا ہی نہیں۔ ہم پچھلی رات میجر نادر پرویز کے ساتھہ اپنی گن بوٹس روانہ کر چکے تھے تاکہ وہ دوسری جانب ساحل پرکچھ علاقہ قبضے میں لے لیں اور بٹالین کے اترنے کی جگہ بن جائے۔ بٹالین نے ایم آئی ایٹ ہیلی کاپٹروں میں جانا تھا۔ اب بارش کی وجہ سے پلان میں یہ تبدیلی کی گئی کہ مجھے بٹالین کا گائیڈ بنا دیا گیا۔ اس دوران میجرنادر پرویز شہر کی دوسری جانب پہنچ چکا تھا۔ جب وہاں پہنچا تو وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔ اس نے وائرلیس پر رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن میں تو بارش کی وجہ سے پہنچ ہی نہیں پایا تھا۔ سو وہ اپنے چالیس فوجیوں کے ساتھ پہلے شہر کی ایک جانب گیا پھر دوسری جانب اور پھر شہر میں داخل ہو گیا اور شہر فتح ہو گیا۔
ہم شام کو بٹالین لے کر دریا پر پہنچے اور باریسال پر حملے کی تیاریاں کرنے لگے۔ عاطف صاحب نے کہا کہ رات کو ناواقف جگہ پر حملہ نہیں کرنا چاہیے، سو ہم نے رات وہیں گزاری۔ اگلی صبح ہم حملہ کرنے گئے۔ ہم مارچ کرتے ہوئے شہر کی طرف جا رہے ہیں تو آگے سے نادر پرویز جیپ میں شہر سے باہر آ رہا ہے۔ ہم نے کہا ’تم کدھر؟ ہم تو ساری رات تمہیں ڈھونڈتے رہے۔ ‘ تو اس نے کہا ’میں نے تو آپ کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے شہر فتح کر لیا ہے۔ ‘
اب یہ انتہائی مضحکہ خیز ایکشن تھا جس میں ہم نے بٹالین کا حملہ کرنا تھا، دو ہوائی جہازوں نے علاقے پر گولیاں بھی برسائیں تاکہ بٹالین کا راستہ صاف ہو سکے۔ یہ ساری کارروائی ہوئی اور آگے کچھ بھی نہیں تھا۔ شہر میں ہمارے اپنے ہی بندے بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک ہفتے بعد کلکتہ سے ٹائمز آف انڈیا آیا تو اس میں سرخی تھی ”باریسال پر فضایہ، بحریہ اور بّری فوج کا سہ طرفہ حملہ پسپا“۔ اس اخبار کو بنگالی آزادی پسند خبریں فراہم دیتے تھے۔
کچھ اپنا جھوٹ، کچھ ان کا سچ
بظاہر تو یہ کہانی یہاں ختم ہو گئی لیکن وہ بٹالین وہیں رہی اور اس نے بہت زیادتیاں کیں۔ اس ضلع کے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر سیاہ و سفید کے مالک تھے۔ مجھے کسی کا فون آیا کہ فلاں بندہ سونے کی بھری پیٹی مغربی پاکستان لے کر جا رہا ہے، اسے روکو۔ میں نے کہا کئی بندے پیٹیاں لے کر جا رہے ہیں، یہ میرا کام تو نہیں کہ میں لوگوں کا سامان چیک کروں؟ اکثر افسر ایک دوسرے کا نام لگا دیتے تھے کہ فلاں افسر نے یہ زیادتی کی، فلاں نے لوٹ مار کی۔
میں باریسال آپریشن میں اپنے ساتھ شریک ایک ممتاز فوجی افسر سے ملا۔ میں نے اسے بتایا کہ ایک بھارتی تاریخ دان سے بنگلہ دیش کے بارے میں بات ہوئی تو میں نے اسے کہا کہ میں نے تو کوئی بنگالی نہیں مارا اور اگر کسی نے مارنے کی کوشش کی تومیں نے اس کو روکا۔ میری طرح اور بھی پاکستانی افسر ہوں گے۔ کیونکہ مرنے والوں کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر بھی پیش کیا جاتا رہا ہے۔ میری بات سن کر وہ ساتھی افسر بولا ’میں نے تو بہت مارے تھے‘ ۔ میں ہکا بکا رہ گیا۔ اس شخص کو میں شریف آدمی سمجھتا تھا۔ اسے قتل و غارت کی کوئی ضرورت تھی بھی نہیں کیونکہ باریسال آپریشن میں تو کوئی مزاحمت ہی نہیں تھی۔ بعد ازاں یہ شخص پاکستانی حکو مت میں وزیر بھی رہا۔
بنگالیوں میں مزاحمت کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا تھا۔ مثلا یہ کہ کچھہ لوگ رات کو بتیوں سے اشارے کرکے ہندوستانی ہوائی جہازوں کو گائیڈ کرتے ہیں۔ حالانکہ نہ وہاں ہندوستان کا جہاز آتا تھا اور نہ کوئی کسی کو گائیڈ کرتا تھا۔ یہ سلسلہ 1965ء سے چلا آرہا تھا جب ہم ساری رات پرچھائیوں کے پیچھے بھاگتے رہتے تھے۔
میجر صاحب ہیرو کیسے بنے؟
فوجی آپریشن 25 مارچ کو شروع ہوا اور میں 10 اپریل کو ڈھاکا پہنچا۔ ڈھاکا کے دونوں طرف میگھنا اور بوڑھی گنگا نامی دو دریا ہیں۔ میگھنا کے اوپر ایک بڑا پل تھا جو کمانڈوز نے مزاحمت کاروں سے کچھ ہی روز پہلے چھینا تھا۔ جب میں وہاں پہنچا تو جوش و خروش کا عالم تھا۔ ایک پرجوش شخص مجھ سے کہنے لگا کہ کمانڈوز نے تو کمال کر دیا۔ تم خوش قسمت ہو کہ اسی بٹالین میں جا رہے ہو۔ یہ سنتے ہی میں ایک اور دنیا میں داخل ہو گیا اور حقیقت سے میرا رشتہ کٹ گیا۔
جب بھی کوئی فوجی مشرقی پاکستان پہنچتا، اس کو مکتی باہنی کے مظالم کی تصویروں پر مشتمل ایک فوٹو البم دکھائی جاتی۔ مثلا ایک تصویر مغربی پاکستانیوں کی مسخ شدہ لاشوں کی تھی۔ یہ واقعات چٹاگانگ میں آرمی کے پہنچنے سے پہلے ہوئے۔ مجھے بھی یہ البم دکھائی گئی مگر میری ذہنی حالت ایسی نہ ہوئی کہ میں اندھا دھند بندے مارنے شروع کر دوں۔ میں نے سوچا ٹھیک ہے، ان کو پرانا غصہ تھا، جو اب باہر آیا ہے۔
یہاں سے کہانی 1947 کی طرح ہو جاتی ہے۔ جس وقت سارے ضبط ٹوٹ جاتے ہیں۔ بندے کے اندر دبے ہوئے پرانے تعصبات باہر آ جاتے ہیں۔ کسی کے اندر جہاد کا جذبہ، کسی میں بغاوت کا، کسی میں کافروں کو مارنے کاجوش۔ انسان نے تہذیبی طور پر صدیوں میں جو سیکھا ہوتا ہے، اسے بھول جاتا ہے۔ اس کی سماجی اور ثقافتی جڑیں اکھڑ جاتی ہیں۔ وہ انسان سے پھر حیوان بن جاتا ہے اور بغیر کسی خلش کے تمام ظالمانہ حرکتیں کر بیٹھتا ہے۔
کسی فعل میں مل کر شریک ہونا بنگالیوں کی نفسیات کا حصہ ہے۔ کسی بھی واقعہ پر مشتعل ہو کر وہ ایک دم گروہ بنا لیتے ہیں۔ ان کی یہ خصوصیت بھی کچھ حد تک پرتشدد واقعات کی وجہ بنی۔ میں ساٹھ کے عشرے میں ڈھاکا میں تھا۔ ایک دفعہ بازار گیا تو دیکھا کہ ایک ہجوم جمع ہے۔ نزدیک جانے پر معلوم ہوا کہ ہجوم ایک ڈرائیور کی پٹائی کر رہا ہے جس کی بس کے نیچے آ کر ایک بندہ مر گیا ہے۔ میں وہاں کھڑا تھا تو ایک بندے نے بے دھیانی میں مجھے اپنی ٹوکری پکڑائی اور جا کر ڈرائیور کو دو چار ٹھوکریں لگائیں۔ واپس آیا اور اپنی ٹوکری لے کر چلا گیا۔
چھ جون کو میں چٹاگانگ کے شمال میں بلونیہ پہنچا۔ یہاں زمین کی ایک تکون اٹھارہ میل تک انڈین بارڈر کے اندر چلی گئی ہے۔ یہاں ایسٹ پاکستان رجمنٹ کے باغی فوجیوں نے مورچہ لگا رکھا تھا۔ پاکستان فوج نے حملہ کیا تو آس پاس کے پہاڑوں سے انڈین آرٹلری نے ہمارے پچیس تیس فوجی مار ڈالے۔
جب مجھے بلایا گیا تو بلونیہ پر تین بٹالین کے ساتھ حملے کا منصوبہ تھا۔ میں نے کہا آپ مجھے رات ہی کو بھیج دیں تاکہ میں تاریکی کا فائدہ اٹھا سکوں۔ رات کو ہم ادھر ادھر فائرکرتے رہے، ہم پر بھی فائر ہوا۔ اس افراتفری میں باغی فوجی بھاگ نکلے۔ صبح جب ہماری فوج کا حملہ ہو¿ا تو سارا علاقہ خالی تھا اور میں اپنے چالیس فوجیوں کے ساتھ ایک خراش بھی لگے بغیر واپس آ گیا۔
میرا کمانڈنگ افسر یہ ایکشن کرنے سے انکار کر چکا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ جہاں اتنے بندے مرے ہیں وہاں اور بندے بھیجنا خود کشی کے مترادف ہے۔ لیکن مجھے یقین تھا کہ اگر میں دشمن کے پیچھے پہنچ جاو¿ں تو وہ لوگ اپنے ہی عقب میں تو فائر نہیں کریں گے۔ میرا منصوبہ تھا کہ ان کے بیچ پہنچ کر کنفیوزن پھیلاو¿ں اور راتوں رات واپس نکل آو¿ں۔ میرا ایکشن کامیاب ہوا اور میرے سی او کو ایکشن سے انکار کرنے پر معطل کر دیا گیا۔ میں ہیرو بن گیا۔ مجھے اطلاع دی گئی کہ آج سے میں بٹالین کمانڈ کروں گا۔
یہ بہت بڑی بات تھی کہ ایک میجر بٹالین کمانڈ کر رہا ہے۔ اب میں براہ راست نیازی صاحب سے آرڈر لیتا اور روز ڈھاکا میں جرنیلوں سے ملاقات کرتا تھا۔ زیادہ آپریشن میرے علاقے میں ہوئے اور میں اکثر جنرل قاضی کے ساتھ ہوائی جہاز میں سفر کرتا۔ ایک نوجوان میجر ہوتے ہوئے مجھے بہت زیادہ اہمیت مل رہی تھی۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں



