کرنل (ر) نادر علی کی 1971ء کے بارے میں یاد داشتیں (آخری حصہ)

ہیرو بننے سے پاگل پن کی دہلیز پر ڈھاکا میں سوشل لائف کیا تھی۔ دن کو کسی دوسرے شہر جا کر کوئی مشورہ وغیرہ دینا اور شام کو لوٹ آنا۔ شام کو پی اے ایف میس چلے گئے ۔ پی آئی اے میس یا ڈھاکا کلب چلے گئے۔ وہاں بنگالیوں کے ساتھ ڈرنک کرنا۔ ہم ڈھاکا انٹرکانٹی نینٹل جاتے تھے تو بال روم ڈانسنگ روک کر اعلان کیا جاتا ’گڈ ایوننگ میجر نادر‘ اور پھر میوزک شروع ہو جاتا۔ رات

Read more

کرنل (ر) نادر علی کی 1971ء کے بارے میں یاد داشتیں (حصہ دوم)

چھ جون کو میں چٹاگانگ کے شمال میں بلونیہ پہنچا۔ یہاں زمین کی ایک تکون اٹھارہ میل تک انڈین بارڈر کے اندر چلی گئی ہے۔ یہاں ایسٹ پاکستان رجمنٹ کے باغی فوجیوں نے مورچہ لگا رکھا تھا۔ پاکستان فوج نے حملہ کیا تو آس پاس کے پہاڑوں سے انڈین آرٹلری نے ہمارے پچیس تیس فوجی مار ڈالے۔ جب مجھے بلایا گیا تو بلونیہ پر تین بٹالین کے ساتھ حملے کا منصوبہ تھا۔ میں نے کہا آپ مجھے رات ہی کو

Read more

کرنل (ر) نادر علی کی 1971ء کے بارے میں یاد داشتیں (حصہ اول)

سنہرے بنگال سے تعارف – ابتدائی تاثرات میں 1962ء سے 1966ء تک مشرقی پاکستان میں تعینات رہا۔ اس وقت حالات پرامن تھے اور ایک جوان میجر کے طور پر میرا تجربہ خاصا خوشگوار رہا۔ میری ڈیوٹی سنٹرل آرڈیننس ڈپو میں تھی لیکن میں 1965ء کی جنگ میں رضاکارانہ طور پر کمانڈو بٹالین جوائن کرکے دو سال تک چٹاگانگ میں رہا۔ اس دوران ہماری کمپنی شمالی بنگال میں تعینات تھی لیکن 1965ء میں ادھر کوئی جنگی کارروائی ہی نہیں ہوئی۔ 1967ء

Read more

کرنل (ر) نادر علی کی 1971ء کے بارے میں یاد داشتیں

میں 1962ء سے 1966ء تک مشرقی پاکستان میں تعینات رہا۔ اس وقت حالات پرامن تھے اور ایک جوان میجر کے طور پر میرا تجربہ خاصا خوشگوار رہا۔ میری ڈیوٹی سنٹرل آرڈیننس ڈپو میں تھی لیکن میں 1965ء کی جنگ میں رضاکارانہ طور پر کمانڈو بٹالین جوائن کرکے دو سال تک چٹاگانگ میں رہا۔ اس دوران ہماری کمپنی شمالی بنگال میں تعینات تھی لیکن 1965ء میں ادھر کوئی جنگی کارروائی ہی نہیں ہوئی۔ 1967ء کے شروع میں واپس آنے کے بعد

Read more