افسانہ نگار رمز کریم اور شمیم ہیجڑے کی کتابیں
دروازہ بجایا۔ صبا نے دروازہ کھولا۔ صبا شمیم کا ہم جنس دوست تھا دونوں میں بڑی گہری دوستی تھی
کیسی ہو؟ میں نے پوچھا
اچھی ہوں ہوں۔ آپ بتا یئے عرفان بابو۔ بہت دن بعد آئے؟
ہاں بس فرصت ہی نہیں ملی۔ مین نے ادھر ادھر نظر دوڑائی۔
شمیم تو اب تک نہیں آئی۔ صبا میری متلاشی نظروں کو مطلب سمجھ گئی تھی
مگر میرے گھر سے تو ایک گھنٹہ ہوا نکل گئی تھی۔
ارے اللہ ماری کسی پرانی کتابوں کے ٹھیلے پر چپک گئی ہو گی۔
ریشم کا کیا حال ہے؟ میں نے بات ٹالنے کی غرض سے پو چھا۔
ارے اپنے گرو کیا کیا پوچھتے ہو بڑھاپے میں تو اچھے بھلے زنخے ہو جا تے ہیں۔ ہم تو ٹھہرے اصیل ذنخے۔ ہماری تو کوئی حرامی اولاد بھی نہیں۔ جو گھڑی دوگھڑی حال پوچھ لے۔
ٹاٹ کا پردہ اٹھا اور شمیم اندر آگئی۔
ائے لو ابھی تو تمہیں چھوڑ کر آئی تھی
چلو کمرے میں چل کر بیٹھتے ہیں۔ میں لہجے میں مٹھاس بھر کر کہا۔
نہ بابا نہ۔ تمہا را کیا بھروسہ۔ وہ ایک ادا سے اٹھلائی۔
سیدھی طرح چلو ورنہ۔ میں نے اسے تھپڑ دینے کا شارہ کیا۔ وہ ہنستی ہو ئی میرے آگے آگے چل دی۔
مجھے معلوم ہے تم چور کی کہانی سننا چاہتے ہو۔
چور نہیں۔ رمز کریم کی۔
ایک بات بتاؤں۔ چور تو وہ بعد میں بنا۔ پہلے تو وہ خدا تھا۔ ۔ میں ابھی آتی ہوں۔ اس نے اپنی چھوٹی انگلی دکھائی اور سامنے صحن میں بنے ٹوائلٹ کے ٹاٹ کے پردے کو ہٹا کر اندر داخل ہو گئی، لیکن فوراً ہی باہر آگئی اور اور پیٹ پکڑ کر زور زور سے قہقہے لگا کر لوٹ پوٹ ہو نے لگی۔ اگلے ہی لمحے صبا شلوار کے ازار بند تو دونوں ہاتھوں سے تھامیں اسے گالیاں دیتی ہوئی باہر نکلی۔ اس مضحکہ خیز منظر سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔
چور خدا۔ خدا چور۔ لا حول ولا قوّۃ
یہ شمیم بھی کہانی کی ابتدا ہی میں تجسس ڈال رہی ہے۔
تکیے کے نیچے سے جھانکتی کتاب اٹھا کر میں یوں ہی بے دھیانی میں ورق گردانی کرنے لگا۔
پندرہ منٹ بعد شمیم کمرے میں آگئی۔
لو اب میں تمہیں سنا ہی دیتی ہوں خدا کی کہانی۔ وہ ایک ٹانگ موڑ کر پلنگ پر بیٹھ گئی اور میرے سامنے سے کتاب اٹھا کر تکیے کے نیچے دبا دی۔
خدا کی۔ کہانی ہے؟ میں نے سوال کیا۔
ہاں خدا کی کہانی نہیں مگر ساری کہانیاں اسی کی وجہ سے ہیں۔ یہ ہی کچھ حال رمز کریم کا بھی ہے اس کی کہانیوں کی ہی وجہ سے ہم اس کا وجود مانتے ہیں۔ وہ فلسفیانہ انداز سے بولی۔
مگر تم نے کہا تھا کہ وہ چور تھا اس کا کیا مطلب ہے۔
ہاں مگر بتایا تو اس سے پہلے وہ خدا تھا۔ قریب رکھے سگریٹ کے پیکٹ میں سے ایک سگریٹ نکال کر میری طرف بڑھایا۔ میں نے ہاتھ کے اشارے سے منع کر دیا۔
یہ چور اور خدا کی رٹ چھوڑو اور اور سیدھی طرح بتاؤ۔ میں اس کے فلسفیانہ داؤ پیچ سے الجھ کر بولا۔
وہ پلنگ پر لیٹ گئی دونوں ٹانگیں سیدھی کر لیں، دونوں ہاتھوں میں سگریٹ پکڑا اور مجھے سلگانے کا اشارہ کیا، میں نے جیب سے ماچس نکالی اور ایک ہاتھ کی اوٹ اس کے ہاتھ پر رکھ کر سگریٹ کو جلتی تیلی دکھا دی۔
مضمون کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے "اگلا صفحہ” کا بٹن دبائیں


