میرے بھی ہیں کچھ خواب!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Martin Luther King, Jr.

28 اگست 1963ء کو امریکہ کے لاکھوں سیاہ فام اور سفید فام شہریوں نے واشنگٹن میں ایوان نمائندگان سے انسانی غلامی کے عظیم ترین مخالف ابراہم لنکن کی یادگار تک پرامن مارچ کیا تھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ امریکی آئین، قوانین اور پالیسیوں میں رنگ و نسل کی بنیاد پر ہر قسم کا سیاسی، سماجی اور اقتصادی امتیاز ختم کیا جائے۔ اس موقع پر تحریک کے قائدڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ نے لنکن میموریل کی سیڑھیوں پہ سیاہ فام امریکیوں کے مساوی شہری حقوق کی وکالت کرتے ہوئے جو شعلہ بجاں خطبہ ارزاں کیا تھا اسے تاریخ انسانی کی عظیم ترین تقاریر میں شمار کیا جاتا ہے۔ اگست 2018ء کو انسانی مساوات، حقوق اور حقیقی جمہوریت کی تاریخ میں ”میرے بھی ہیں کچھ خواب! “کے عنوان سے موسوم اس روح پرور خطاب کو پنتالیس برس مکمل ہو گئے۔ لندن میں مقیم محترم دوست تنویر افضال نے پرامن جدوجہد اور اتھاہ اخوت انسانی میں رچی اس دستاویز کو اردو کا قالب پہنانے کی سعی کی ہے۔

٭٭٭  ٭٭٭

میں آج آپ کے ساتھ ایک ایسے اجتماع میں شامل ہو کر بے پایاں خوشی محسوس کر رہا ہوں جو ہماری قوم کی تاریخ میں آزادی کے عظیم ترین مظاہرے کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

امریکہ کی اُس عظیم شخصیت نے جس کی علامتی یادگار کے سائے میں ہم اِس وقت کھڑے ہیں ، آج سے ٹھیک ایک صدی قبل اعلان آزادی پر دستخط کئے تھے۔ یہ اہم ترین تاریخی اعلان اُن لاکھوں حبشی غلاموں کے لیے عظیم مینارئہ نور بن کر اُبھرا جو ناانصافی کے جھلسا دینے والے شعلوں میں جل کر راکھ ہو رہے تھے۔ یہ اعلان آزادی، غلامی کی طویل و تاریک شب کے خاتمے پر سپیدہ سحر بن کر پھوٹا تھا۔

مگر ایک سو برس کی طویل مدت گزرنے کے بعد بھی ہمیں آج اِس افسوس ناک حقیقت کا سامنا ہے کہ سیاہ فام امریکی کو ابھی تک پوری طرح آزاد، مساوی اور مکمل انسان تسلیم نہیں کیا گیا، ہماری ہڈیوں کے آبنوس نے ایک اور صدی دیکھ لی۔ آج بھی ایک حبشی کی زندگی نسلی تنہائی کی دیواروں میں گزرتی ہے اور امتیازی سلوک کی زنجیروں میں پابجولاں ہے۔ اسے اپنی صلاحیتوں کے اظہار میں گوناگوں پابندیوں اور رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ 100 برس بیت گئے مگر آج بھی کالا امریکی مادی خوشحالی کے ایک بے کنار سمندر میں غربت کے ایک دوراُفتادہ جزیرے کا باسی ہے جسے اجتماعی حافظے سے فراموش کر دیا گیا ہے۔ ایک سو سال گزر گئے آج بھی حبشی امریکی معاشرے کے تاریک کونوں میں بے چارگی اورغربت کی زندگی گزار رہا ہے۔ وہ اپنی ہی سرزمین پر پاﺅں دھرتا ہے اور اپنے سینے میں جلاوطنی کی کیفیت محسوس کرتا ہے۔

سو آج ہم یہاں ایک دردناک صورتِ حال کی تصویر کشی کرنے آئے ہیں ، دوسرے لفظوں میں ہم اپنے قومی سرمائے کے مرکز میں اپنا چیک کیش کروانے آئے ہیں ۔ جب ہماری جمہوریہ کے دانشمند معمار اعلانِ آزادی اور آئین کے بامعنی، بلیغ اور فصیح الفاظ کو ضبط تحریر میں لا رہے تھے تو درحقیقت وہ ایک ہنڈی پر دستخط ثبت کر رہے تھے جس کی وراثت میں سے ہر امریکی کو حصہ ملنے والا تھا۔ یہ وثیقہ ایک عہد تھا جس کے مطابق تمام انسانوں کو ”زندگی، آزادی اور خوشی کے لیے جدوجہد“ کے ناقابلِ تنسیخ حق کی ضمانت دی گئی تھی۔

لیکن یہ بات واضح ہے کہ امریکہ نے اِس ہنڈی کی ادائیگی میں اپنے رنگ دار شہریوں کے ساتھ عہد شکنی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اِس مقدس ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کی بجائے امریکہ نے اپنے سیاہ فام شہریوں کو ایک جعلی چیک تھما دیا ہے جسے بینک کے اہل کار کاغذ کے ایک ردی ٹکرے کی طرح واپس ہمارے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں مگر ہم یہ ماننے سے انکارکرتے ہیں کہ انصاف کا بینک دیوالیہ ہو چکا۔ ہم یہ دلیل ماننے سے منکر ہیں کہ اِس قوم میں موجود مواقع اور امکانات کے بے کنار خزینے میں موجود وسائل یہاں بسنے والوں کے لئے ناکافی ہیں ۔ لہذا ہم اپنا چیک کیش کروانے یہاں آئے ہیں … ایسا چیک جس پر ہمیں عندالطلب آزادی کی دولت اور انصاف کا تحفظ فراہم کرنے کا عہد تحریر ہے۔

ہم اِس مقدس مقام پر اہل امریکہ کو معاملے کی سنگینی اور عجلت کے بارے میں یاد دہانی کرانے کے لیے آئے ہیں ۔ اب معاملات کے ٹھنڈا ہونے کا انتظار کرنے کی عیاشی کا وقت باقی نہیں رہا اور نہ ہم ’ رفتہ رفتہ سب ٹھیک ہوجائے گا ‘ کی نیند آور افیون قبول کریں گے۔ اب وقت ہے کہ تنہائی کی تاریک گپھا اور بے آب و گیاہ وادی سے نکل کر نسلی انصاف کی روشن شاہراہ پہ پاﺅں دھرا جائے۔ یہ موقع ہے کہ اپنی قوم کو نسلی ناانصافی کی ریت دھرتی سے کھینچ کر مساوات کی مضبوط چٹان پر کھڑا کیا جائے۔ وہ گھڑی آن پہنچی کہ انصاف کو خدا وند کے تمام بچوں کے لیے یکساں طور پر جیتی جاگتی حقیقت بنایا جائے۔

ہماری قوم کے لیے اِس لمحے کی سنگینی کو نظر انداز کر دینا مہلک ثابت ہو گا۔ سیاہ فام انسانوں کی جائز بے اطمینانی کاموسم حبس اُس لمحے تک ختم نہیں ہو گا جب تک آزادی اور مساوات کا زندگی بخش جاڑہ ہمیں اپنی آغوش میں نہیں لے لیتا۔ 1963ءکا سال ہمارے سفر کی منزل نہیں ، ہماری جدوجہد کا نقطہ آغاز ہے۔ وہ لوگ جو یہ امید باندھے بیٹھے ہیں کہ سیاہ فام عوام اپنا غبار نکالنے کے بعد جلد ہی خاموش ہو کر بیٹھ جائیں گے، یہ بات سُن رکھیں کہ اگر ہماری قوم نے اپنے طور طریقے تبدیل نہ کئے تو اسے خود کو ایک طوفان کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

امریکہ میں اُس وقت تک امن اوراطمینان قائم نہیں ہو سکتا جب تک سیاہ فام باشندوں کو ان کے شہری حقوق نہیں ملتے۔ بغاوت کی آندھیاں اُس وقت تک ہماری قوم کی بنیادیں ہلاتی رہیں گی جب تک انصاف کا سویرا طلوع نہیں ہو تا لیکن میں انصاف کے اس محل کی گرم اورتسکین آمیز دہلیز پر کھڑے اپنے لوگوں سے بھی ایک بات ضرور کہنا چاہوں گا کہ ہمیں اپنا جائز مقام طلب کرنے میں بھی کسی غلط کام میں آلودہ نہیں ہونا، ہمیں آزادی کے لیے اپنی پیاس تلخی اور نفرت کے پیالے سے بجھانا منظور نہیں ۔ ہمیں اپنی لڑائی ہمیشہ وقار اور نظم و ضبط کے ارفع میدانوں میں لڑنا ہے۔ ہم اپنے مثبت احتجاج کو تشدد کی دلدل میں ڈوبنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ جسمانی طاقت کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں بار بار اخلاق کی اعلیٰ اقدار کا سہارا لینا ہو گا۔ ہم اس جدید جارحیت پسندی کو جس نے سیاہ فام معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے کبھی بھی اپنے سفید فام ہم وطنوں کی دل آزاری کا سبب نہیں بننے دیں گے کیونکہ ہمارے بہت سے سفید فام بھائی بھی، جن کی آج یہاں موجودگی اِس دعوے کا واضح ثبوت ہے، اِس حقیقت کا ادراک کرنے لگے ہیں کہ اُن کا مقدر بھی ہماری قسمت سے وابستہ ہے۔ وہ اِس بات کو تسلیم کرنے لگے ہیں کہ اُن کی آزادی بھی لاینفک طور پر ہماری آزادی سے منسلک ہے۔ ہم اکیلے نہیں چل سکتے، ہم جب بھی قدم بڑھائیں تو یہ عہد کر کے چلیں گے کہ ہمیں آگے ہی بڑھنا ہے۔ ہمارے لئے واپسی کا کوئی راستہ باقی نہیں ۔

باقی خطاب پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •