امریکہ، امی، ابو اور سوزانا
پہلے تو میں نے پیسے جمع کرکے بھیجے تاکہ میری آنے کی تیاری، ٹکٹ، نیویارک کے لیے خریدے جانے والے کپڑوں اور تحفے تحائف کا قرض اُترے۔ ابو کی لگی بندھی آمدنی تھی جس سے گھر جیسے تیسے ہی چلتا تھا، ایک اسکول کے ٹیچر کی آمدنی ہی کیا ہوتی ہے۔ وہ بے چارے صبح سے شام تک محنت کرتے، پھر مختلف گھروں میں جا کر دوسروں کے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتے تو ہمارے اور ہمارے مرحوم چچا کے گھر کا کام چلتا تھا۔ ایسے میں امریکا آنے کے لیے سب کچھ قرض لے کر ہی کیا گیا تھا۔ کیسی زندگی تھی ان کی اور کتنے غریب تھے ہم لوگ، کتنا کٹھن تھا ان کا جینا اور کیسے گزاردیے انہوں نے سالہا سال بغیر کسی شکایت کے۔ محض اس لیے کہ ہم سب اچھے سے رہیں اور دو وقت کی روٹی کھالیں اور ہمارے بدن پر کپڑے ہوں، پیروں میں جوتے ہوں اور ہم سب تعلیم حاصل کریں۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں تو آنکھوں میں آنسو اُتر آتے ہیں۔
چچا جان کا میرے بچپن میں ہی انتقال ہوگیا تھا۔ چچی جان اور ان کے چار بچوں کی ذمے داری بھی ابا جان پر ہی تھی۔ وہ اپنے بھائی اور ان کے بچوں سے بہت محبت کرتے تھے۔ چچا جان نے بھی بھائی ہو کر ہمیشہ میرے ابو سے شدید محبت کی تھی ہندوستان سے پاکستان آنے کے بعد دونوں بھائیوں نے مل کر حالات کا سامنا کیا، زندگی سے لڑے جدوجہد کی اور نئے ملک، نئے شہر میں بس گئے تھے انہوں نے ہمیں بتایا تھا کہ ہندوستان سے آنے والے قافلے پر حملے کے بعد صرف وہ دونوں ہی زندہ بچے تھے۔ ہم کزن بھی ایک دوسرے کو بھائی بہن ہی سمجھتے تھے۔ بڑا میل تھا ہم دونوں خاندانوں کے درمیان۔
بہت جلد میں نے اتنے پیسے جمع کرلیے کہ ابو ایک مکان خرید کر وہاں منتقل ہوگئے۔ ابو چاہتے تھے کہ فرحت اور ریحانہ جو مجھ سے بڑی میری چچا زاد بہنیں تھیں ان کے ہاتھ پیلے کردیں، یہ بات انہوں نے کہی نہیں تھی مگر مجھے اندازہ تھا کہ یہ شدید خواہش ان کے دل میں اسی شدّت سے موجود ہے جس طرح دِل کی دھڑکن موجود ہے۔ وہ اپنے بڑے بھائی کے بچوں کو بہت عزیز رکھتے تھے۔
اس زمانے کے نیویارک میں ٹیکسی کے دھندے میں بڑی کمائی تھی۔ میں جوان اور تھکنے کی عمر سے بہت دُور تھا۔ کم از کم خرچ کرکے رہ رہا تھا اور زیادہ سے زیادہ بچت کرکے پیسے پاکستان بھیج رہا تھا تاکہ فرحت اور ریحانہ آپا کی شادی ہوجائے۔ مجھے پتہ تھا کہ اس میں ابو اور امی دونوں کی خوشی تھی۔ میں چاہتا تھا کہ وہ دونوں خوش رہیں۔
فرحت اور ریحانہ دونوں کی شادی بھی ہوگئی۔ میری بہن کا کالج میں داخلہ ہُوا اور کالج میں پڑھنے کے دوران اس کا بھی رشتہ ہوگیا۔ امریکا آنے کے چھ سال کے بعد میں اس کی شادی میں شرکت کے لیے گیا۔ مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ امریکا کی کمائی سے میں نے اپنے خاندان کو نہ صرف یہ کہ قرض کے بوجھ سے آزاد کرایا بلکہ ہم لوگوں کا اپنا مکان بھی ہوگیا تھا، بہنوں کے ہاتھ پیلے ہوگئے تھے اور دونوں چچا زاد بھائی بھی اچھا پڑھ رہے تھے۔ مجھے لگا جیسے بڑا بوجھ اُتر گیا تھا۔
میں نے پہلی دفعہ ابو اور امی کی آنکھوں میں خوشیاں اور چہرے پر روشنی دیکھی تھی۔ کیسی زندگی گزاری تھی انہوں نے، کتنی محنت کی تھی ان دونوں نے انہیں نہیں پتا تھا کہ زندگی کے مزے کیا ہوتے ہیں۔ چھٹیاں، سیرسپاٹے، طرح طرح کی خریداریاں، سینما میں فلم دیکھنے کے بعد ریسٹورنٹ، ہوٹلوں میں کھانا اور بے دریغ پیسے خرچ کردینا بھی زندگی کا حصہ ہے۔ مجھے ان دونوں کو دیکھ کر پیار سا آجانا۔ میرا دل کرتا تھا کہ دونوں کو ڈھیر سارے پیسے دے کر کسی ٹرین پر بٹھا کر طویل چھٹیوں پر بھیج دوں مگر وہ دونوں میری بات سن کر ہنس دیے تھے۔
امریکا واپس آکر میں ٹیکسی چلانے میں مصروف ہوگیا، تھوڑے دنوں کے بعد ہی میں نے نیویارک کے ایک ٹریول ایجنٹ کے ذریعے ابو امی اور چچی جان کے لیے حج کا بندوبست کردیا تھا، ان کے خطوں سے اندازہ ہوا کہ انہیں کتنی خوشی ہوئی ہے۔ ان سے کہیں زیادہ میں خوش ہوا تھا۔ پہلی دفعہ مجھے احساس سا ہوا تھا کہ میں نے اپنے والدین اور چچی کے لیے کچھ کیا ہے، ان کے دلوں میں خوشی بھری ہوئی تھی جس کا اندازہ فون پر بھی بات کرنے سے ہوجاتا تھا۔ کچھ ہی دنوں کے بعد ایک ہی دن دو باتیں ساتھ ساتھ ہوگئی تھیں۔
مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

