امریکہ، امی، ابو اور سوزانا


رات میں گہری نیند کے دوران کوئی ڈراؤنا خواب دیکھ کر میری آنکھیں کھل جاتیں تو میں گھبرا کر اُٹھ جاتا اور نہ جانے کیسے ابو بھی بیدار ہوجاتے تھے۔ میں زور سے ان کی انگلیاں پکڑلیتا اور مجھے ایسا محسوس ہوتا جیسے میں محفوظ ہوگیا ہوں پھر میں ان کی انگلیاں پکڑے پکڑے گہری نیند سوجاتا تھا۔ مجھے تو یادبھی نہیں ہے کہ نہ جانے کتنی دفعہ ایسا ہُوا ہوگا۔ ان انگلیوں نے کبھی مجھے مایوس نہیں کیا اور ان انگلیوں کو میں کبھی بھول نہیں سکا۔ تحفظ کا جو احساس ان انگلیوں سے پیدا ہوتا تھا وہ ذہن کے کسی حصے میں ایک علامت کی طرح محفوظ رہا۔

میں سولہ سال کے بعد کراچی واپس آیا تھا۔ انٹر کے بعدجب میرا داخلہ این ای ڈی انجینئرنگ کالج میں نہیں ہُوا تو بجائے بی ایس سی میں داخلہ لینے کے میرے سر پر امریکا جانے کا بھوت سوار ہوگیا۔ اس زمانے میں کراچی میں ہی امریکی قونصلیٹ کے دفتر میں ٹوفل کا امتحان ہوتا تھا جسے پاس کرنے کے بعد امریکا کا ویزا مل جاتا تھا۔ پھر نئی دنیا کے نئے تقاضے تھے۔ نئی زندگی شروع کرنے کے نئے مواقع تھے۔ کراچی شہر کے ناجانے کتنے میری طرح کے جوان جوان لوگ ٹوفل کا امتحان پاس کرکے دھڑا دھڑ امریکا جارہے تھے۔

ابو، امی، چھوٹی بہن، میری بیوہ چچی اور میرے چچا زاد بھائی بہنوئی نے بڑے چاؤ، محبتوں اور آنسو بھری آنکھوں سے مجھے رخصت کیا تھا۔ کراچی کاچھوٹا سا ائرپورٹ جہاں مسافروں کو چھوڑنے کے بعد رشتے دار سیڑھیاں چڑھ کرچھت پر چلے جاتے اور اپنے پیاروں کو جہاز پر چڑھتے ہوئے دیکھ سکتے تھے، ہاتھ ہلاکر بتاسکتے تھے کہ وہ وہاں موجود ہیں اور آواز دے کر زور سے خدا حافظ کہہ سکتے بھی تھے اس وقت تک اللہ حافظ کا رواج شروع نہیں ہوا تھا۔

میری کے ایل ایم کی فلائٹ تھی، اس وقت تک دنیا بھر کی جہاز کمپنیوں کے جہاز کراچی آتے تھے، ان کی ائرہوسٹسیں کراچی کے ہوٹلوں میں محفوظ تھیں اور ان کے جہازوں کا عملہ زینب مارکیٹ اور صدر کے کوآپریٹیو مارکیٹ میں دستکاری سے بنی ہوئی چیزیں خریدتا اور صدر کے پوسٹ آفس میں گورے لوگ مغربی لباسوں میں ملبوس کراچی کے پوسٹ کارڈ پوسٹ کیا کرتے تھے۔ کراچی کا ہر ساحل سمندر گھر کی طرح محفوظ تھا۔

سامان دینے اور پاسپورٹ پر اندراج کے بعد جب میں جہاز پر چڑھنے کے لیے عمارت سے نکل کر جہاز کی طرف جارہا تھا تو مجھے ابو کی آواز آئی۔ میں نے مڑ کر اوپر کی طرف دیکھا تو وہ سب کھڑے تھے۔ میری چھوٹی سی بہن ہاتھ ہلارہی تھی، میرے ابو مجھے دیکھ رہے تھے اور میری ماں کا چہرہ آنسوؤں سے دھل رہا تھا، چچی جان اور سارے کزن دھندلے دھندلے سے نظر آئے تھے، میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس طرح سے انہیں چھوڑکر امریکا جاؤں گا۔ وہ رات، وہ چھت اور ہاتھ ہلا کر جُدا ہونا میں کبھی بھی نہیں بھول سکا۔

کراچی سے ایمسٹرڈم پھر ایمسٹرڈم میں اٹھارہ گھنٹوں کا قیام تھا، میں نے زندگی میں پہلی دفعہ ایک یورپی شہر دیکھا۔ کے ایل ایم کی طرف سے ہوٹل میں رہنے کا انتظام تھا۔ وہ زمانہ اچھا تھا جب پاکستانی پاسپورٹ گالی نہیں تھی اور مسلمانوں جیسا نام مشکوک نہیں سمجھاجاتا تھا۔ پاکستانیوں اور مسلمانوں کو بھی وہی عزت دی جاتی تھی جو دوسرے ملکوں اور مذاہب کے ماننے والوں کو ملتی تھی۔ ہم جیسے گندمی رنگ والے پاکستانیوں سے لوگ بات کرنا چاہتے تھے۔ میں ہوٹل میں سامان رکھ کر آٹھ دس گھنٹوں تک شہر کے مختلف علاقوں میں پیدل گھومتا رہا تھا۔ ایمسٹرڈم یورپ کا ایک پرانا ترین شہر ہے۔ اتنا منظم اتنا خوبصورت، نہروں سے بھرا ہُوا اور سائیکلوں سے اَٹا ہُوا یہ شہر کبھی بھی میرے دماغ سے نہیں نکلا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ پاکستان کے باہر پہلی دفعہ میں نے یہی شہر دیکھا تھا۔

نیویارک کے جے ایف کے ائرپورٹ پر میرا ایک کلاس فیلو مجھے لینے آیا تھا۔ وہ مجھ سے ایک سال پہلے ٹوفل کا امتحان پاس کرکے امریکا پہنچا اور پہنچنے کے ساتھ ہی اپنے رشتے داروں کی مدد سے کام کاج میں لگ گیا تھا۔ کراچی میں سب کو پتہ تھا کہ وہ ”سیٹ‘‘ ہوگیا ہے۔

نیویارک میں کام کی کوئی کمی نہیں تھی۔ پیٹرول پمپ، کارپارکنگ، ریسٹورانٹ، میکڈونلڈ جیسے بہت سارے کھانے پینے کی جگہوں پر ہر وقت بھرتی ہوتی رہتی تھی۔ فضل نے ہی مجھے امریکا میں ابتدائی زندگی گزارنے کا طریقہ سکھایا۔ ائرپورٹ سے وہ مجھے اپنے چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں لے گیا تھا۔

اسی شام کو ایک بڑے اسٹور کے بڑے سے پارکنگ لاٹ میں جو اسٹور کے بند ہونے کے بعد خالی پڑا تھا۔ میں فضل کی گاڑی چلاتا رہا، جس کے بعد فضل مجھے نیویارک کے مختلف سڑکوں پر لے کر گھومتا رہا اور وہاں کے ٹریفک کے اصول سمجھائے۔ جگہ جگہ پر رُکنے، مڑنے کے طریقے بتائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سڑکوں اور بازاروں میں گاڑی کیسے پارک کرتے ہیں۔

جلد ہی میں نے امریکا میں گاڑی چلانے کا لائسنس حاصل کرلیا۔ فضل نے ہی مجھے ایک ایسی کمپنی کے مالک سے ملایا جس کی بہت ساری ٹیکسیاں نیویارک میں چل رہی تھیں۔ قانونی طور پرمیں امریکا پڑھنے آیا تھا، کام کرنا میرے لیے غیرقانونی تھا۔ فضل نے مجھے ایک پرانی گاڑی خرید کر دے دی تھی۔ ایک مہینے تک میں نیویارک کے مختلف علاقوں، مختلف سڑکوں پرگاڑی دوڑاتا رہا، یہاں تک کہ مجھے اس بات کا اندازہ ہوگیا کہ مسافروں کو کیسے اور کس راستے سے لے کر جانا ہے۔ فضل کی وجہ سے بہت جلد میں نیویارک میں کام پر لگ گیا تھا۔ پھر زندگی کا ایک عجیب سلسلہ شروع ہوگیا۔ صبح سے رات تک کام کرنا اور جلد از جلد بہت سارے پیسے کمانے کی دُھن لگ گئی تھی۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4