امریکہ، امی، ابو اور سوزانا
میں دن بھر ابو کے ساتھ بیٹھا رہا، وہ ہوش و حواس میں تھے، انہوں نے بتایا کہ انہیں میرے چچازاد بھائی اپنے گھر لے آئے تھے اور انہوں نے اپنا مکان کرائے پر دے دیا تھا کہ جب کبھی بھی میں آؤں گا تومجھے ضرورت ہوگی مگر مکان پرقبضہ ہوگیا تھا۔ کراچی میں یہی ہوتا ہے، کرایہ دار مکان پر قبضہ کرلیتے ہیں اور مالک در در کے چکر کاٹتے رہتے ہیں، یہی کچھ ہمارے مکان کے ساتھ ہُوا۔ گزشتہ کئی سالوں میں کراچی میں وہ سب کچھ ہوگیا تھا جو شہروں میں نہیں ہوتا۔ معصوم لوگ قتل کردیے گئے، مخالفوں کے جسموں کو چاقوؤں سے کاٹا گیاتھا، دشمنوں کے سرکاٹ کاٹ کر پھینک یے گئے، لڑکیوں کوپامال کیا گیا، گھروں پر قبضہ اور پارکوں پر مسجدیں اور پلازے بنادیے گئے تھے، شہر کی کوئی سڑک سلامت نہیں تھی۔ بچے اسکولوں سے دُور ہوگئے، تعلیمی ادارے مذاق بن کر رہ گئے، نہ جانے ابو مجھے کیا کیا بتارہے تھے اور میں ان کے چہرے کو تک رہا تھا، سن رہا تھا اور اندر ہی اندر رورہا تھا۔
دوپہر کو بچے اسکول سے آگئے اور دوپہر کے بعد میری بہن اپنے دونوں بچوں اور شوہر کے ساتھ آگئی، شام تک سارے گھر والے جمع ہوگئے۔ ہر ایک خوش تھا اور ہرایک کے چہرے، لہجے سے جیسے کرنیں پھوٹ رہی تھیں۔ ان سب کی بات میں نے سوزانا سے کرائی تھی۔ شاید ہم سب کبھی بھی اتنے خوش نہیں ہوئے تھے۔
مجھے بار بار رونا آجاتا تھا، ان سب کا پیار ان کے لہجے کی مٹھاس، ان سب کی خوشبو، مجھے حالات نے سب سے دُور کردیا تھا۔ رات گے کھانے کے بعد میں اپنے چچا زاد بھائیوں کے ساتھ میریٹ ہوٹل سے اپنا سامان اُٹھا کر لے آیا۔ ابا جان کے کمرے میں ہی ان کے بستر کے سامنے کسی ہوئی چارپائی کے اوپر محبت و خلوص کی چاشنی و نرمی کے ساتھ میرے لیے بھی بستر لگادیا گیا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ جتنے دن بھی کراچی میں رہوں ان کے ساتھ ان کے قریب رہوں، انہیں دیکھتے ہوئے سونگھتے ہوئے۔
دو ہفتوں کے بعد سوزانا بھی دونوں بچوں کے ساتھ کراچی آگئی تھی، اس نے بھی ہوٹل میں رہنا پسند نہیں کیا۔ چچی جان نے اپنا کمرہ صاف ستھرا کرکے ہم لوگوں کے حوالے کردیا تھا۔
دو ہفتے تیزی سے گزرگئے۔ سوزانا نے مجھے مشورہ دیا کہ میرے کام کی نوعیت ایسی نہیں ہے کہ میں فوراً واپس امریکا جاؤں۔ مجھے کچھ دن ابو کے ساتھ گزارنا چاہیے۔ سوزانا کا تو پورا خاندان وہاں تھا، وہ سب کچھ دیکھ لیں گے، مجھے اس نے ایک بار پھر حیران کردیا تھا۔ وہ میرے بغیر بچوں کے ساتھ رہنے کو تیار تھی تاکہ میں کچھ وقت اپنے بوڑھے باپ کے ساتھ گزارلوں۔ جنہیں میں نے کئی سال سے نہیں دیکھا تھا۔
یہ ٹھیک تھا کہ سوزانا کے والدین ہمارے قریب تھے اور روزانہ کی زندگی میں ہمارے شامل حال تھے اس کے باوجود گھر میں تو وہ اکیلی ہی ہوگی، بچوں کے ساتھ جن کے مسئلے بڑھتی عمر کے ساتھ بڑھ ہی رہے تھے۔ اس نے میرے جسم و دل کے ساتھ میری روح بھی جیت لی تھی۔ وہ ایسی ہی تھی، یورپین امریکن برازیل کی رہنے والی وہ جتنی شدت سے مجھ سے محبت کرتی تھی اس کا اندازہ کوئی بھی نہیں کرسکتا تھا۔ میری خوشی میں اس کی خوشی تھی، میں اپنی خوش قسمتی پر رشک ہی کرسکتا تھا۔
سوزانا اور بچے امریکا واپس چلے گے، میں نے سوچا تھا کہ کچھ عرصے ابو کے ساتھ ہی گزاروں گا۔ بچھڑے ہوئے سالوں کوواپس تو نہیں لایا جاسکتا تھا اور نا ہی ان برسوں کومستقبل میں سجایا جاسکتا تھا مگر جو چند دن تھے میرے پاس ان میں سپنوں کو تو جگایا جاسکتا تھا۔ اچھی بات یہ تھی کہ وہ ذہنی طور سے مکمل طور پر صحت مند تھے۔ انہیں سب کچھ یاد تھا، اپنی زندگی کی کہانی، واقعات، ہمارے بچپن کے قصے، گھر کی باتیں۔ اکثر میری بہن بھی آجاتی اور ہم سب گھر والے ان کے سامنے بیٹھے باتیں کرتے، ہنستے مسکراتے رہتے تھے۔ میرے لیے تو جیسے وقت رُک گیا تھا۔ امریکا میں گزرے ہوئے کئی سالوں کے بعد میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ میں اتنے اچھے دن گزاروں گا۔
ابو نے صحیح بتایا تھا کراچی، پاکستان، لوگ سب بدل گئے تھے، تھوڑے ہی دنوں میں اندازہ ہوگیا کہ شہر میں کس قسم کی مارا ماری چل رہی تھی، مکان، دوکان، زمین، عزت کچھ بھی تو محفوظ نہیں تھا، شہر کا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ سڑکیں ٹوٹی ہوئیں، گٹر اُبلتے ہوئے اور بوریوں میں بند لاشیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں مختلف گروہوں نے قبضہ کرلیا تھا۔ یہ شہر اس قابل ہی نہیں تھا کہ یہاں رہا جاتا۔ امریکا میں اتنا عرصہ گزارنے کے بعد شاید میں پاگل ہوگیا تھا، میرے معیار بدل گئے تھے، میرا ذہن وہ ذہن نہیں تھا جو کراچی پاکستان کا ذہن ہے۔ ابو اگر زندہ نہ ہوتے تومیں ایک دن بھی اس شہر میں نہیں رہتا۔ یہ شہر نہیں تھا بستر مرگ پر پڑا ہُوا ایک لاشہ تھا جس کا نہ کوئی والی تھا نہ وارث، جس کا ماضی محض خواب تھا اور مستقبل ایک بھیانک حقیقت کی طرح نظر آرہا تھا۔
بڑے دنوں کے بعد شہر میں بارش ہوئی، تمام شہر پانی میں ڈوبا ہُوا تھا۔ بیشتر علاقوں سے بجلی غائب تھی، ابونے بتایا تھا کہ پچھلی بارش میں گیارہ لوگ بجلی سے مرگئے تھے۔ ہم لوگوں کے گھرمیں بھی روشنی نہیں تھی، رات دیر گئے تک ہم دونوں باتیں کرتے رہے۔ میں نے آہستہ آہستہ ابو کے پیروں کودبایا تھا، پھر وہ سوگئے تھے۔ اور میں بھی ان کے برابر ہی اپنے بستر پرلیٹ گیا۔ موم بتی کی ٹمٹماتی روشنی میں سائے لرز رہے تھے جنہیں میں دیکھتا ہوا سوگیا۔
آدھی رات کے آخری پہر میں ابو جاگ گئے، شاید کوئی خواب دیکھا تھا انہوں نے۔ مجھے ان کا لرزتا ہُوا ہاتھ نظر آیا تھا۔ انہوں نے اپنی انگلیاں میری جانب پھیلادی تھیں، میں نے بچپن کی طرح سوتے سوتے ان کی انگلیاں تھام لی تھیں، انہوں نے مضبوطی سے میری انگلیوں کو پکڑنے کی کوشش کی تھی ویسے ہی جیسے میں پکڑلیتا تھا، لیکن مجھے ایسا لگا کہ مجھے زندگی دینے والی انگلیاں، میری انگلیوں میں محفوظ نہیں۔ اسی وقت بجلی چمکی اور دیر تک بادلوں کی گڑگڑاہٹ کانوں میں گونجتی رہی، ساتھ ہی بارش پھر جم کر برسنے لگی، میں نے جاگ کر نئی موم بتی جلائی اور پھر لرزتے ہوئے سایوں کو تکنے لگا تھا۔ تھوڑی دیر میں ہی احساس ہوگیا کہ موم بتی ہمیشہ کے لیے بجھ گئی ہے۔

