امریکہ، امی، ابو اور سوزانا
ایک تو یہ ہُوا کہ نیویارک میں غیرقانونی طور پر کام کرنیوالوں کی پکڑدھکڑ شروع ہوگئی، دوسری طرف نہ جانے کیسے یہ میرے ذہن میں آیا کہ گزشتہ سالوں میں پیسے کما کر میں نے گھر کا قرض تو چُکادیاہے، بہنوں کی شادیاں توکردی ہیں، ماں باپ کے سروں سے بوجھ تو اُتاردیا ہے، انہیں حج تو کرادیا ہے۔ مگر میں جہاں تھا وہیں کھڑا ہوں۔ دوسرے کئی اور پاکستانیوں کی طرح میں نے حاصل کچھ بھی نہیں کیا تھا۔ جیسا انٹر پاس آیا تھا ویسا ہی انٹرپاس رہ گیا تھا۔ میرے ساتھ کے دوست پاکستان میں ڈاکٹر، انجینئر بن گئے تھے جنہوں نے کالج اور یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا ان میں سے کچھ امریکا آکر ماسٹرز یا پی ایچ ڈی کررہے تھے اور میں نے جس ٹیکسی میں سفر شروع کیا تھا ابھی تک میں اسی ٹیکسی میں تھا۔
مجھے یہ شدید افسردگی کا دورہ پڑا، میں اس گومگو میں تھا کہ مجھے امی کے انتقال کی خبر آئی۔ وہ یکایک رات کو سوئیں تو پھر اُٹھی نہیں تھیں۔ شاید خاموش دِل کے دورے نے ان کی جان لے لی تھی۔ میں چاہنے کے باوجود کراچی نہیں جاسکا۔ میرے کاغذات مکمل نہیں تھے۔ میں نے جلدی جلدی میں امیگریشن کے مسائل سے بچنے کے لیے کاغذی شادی کرلی اور اب ڈر ڈر کے زندگی گزاررہا تھا۔
نہ جانے یہ کیسے ہُوا مگر یہ ہوگیا کہ پاکستان سے میرا رابطہ تقریباً ختم ہوگیا۔ میں امی کو بہت پابندی سے فون کرتا تھا لیکن ان کے انتقال کے بعد میں کسی کونہ تو فون کرسکا اور نہ ہی کسی کو فون کرنے کی خواہش ہوئی۔ ابو اور چھوٹی بہن کے خط آئے، چچی جان نے خط لکھا، فرحت اور ریحانہ نے خط لکھا، ان سب کے خط میرے کمرے کی ایک دراز میں جمع ہوتے رہے، ایسے میں ہی میری سوزانا سے ملاقات ہوئی۔
کہتے ہیں لڑکیاں زندگی میں طوفان بپا کردیتی ہیں، اس نے بھی ایک طوفان بپا کردیا تھا۔ اس کا خاندان یورپ سے مہاجر بن کر برازیل پہنچا تھا، دو نسلوں کے بعد اس کے ماں باپ برازیل سے امریکا آئے تھے جہاں وہ پلی اور بڑھی تھی۔ میں اسے اپنی ٹیکسی میں بٹھا کر ایک تعلیمی مرکز کے باہر چھوڑنے آیا تھا۔ چھوٹے سے اس سفر میں وہ مجھے اتنی اچھی لگی کہ اسے چھوڑنے کے بعد میں اس مرکز کے پارکنگ سے باہر نہیں نکلا تھا۔ وہ چار گھنٹوں کے بعد باہر آئی تھی۔ تھکن اس کے چہرے پر تھی اور مجھے وہیں کھڑا دیکھ کر اس کی تھکن حیرانگی میں بدل گئی تھی، میں نے اس سے دوستی کرلی تھی۔ اس نے بتایا تھا کہ وہ کالج میں داخلے کے لیے امتحان کی تیاری کررہی ہے، میں نے اس سے کہا تھا کہ مجھے بھی کالج میں داخلہ لینا ہے۔
پھر نہ جانے کیسے سب کچھ ہوگیا۔ بارہ سال گزرگئے تھے، سوزانا کے ساتھ ساتھ میں نے بھی پڑھ لیا۔ ہم دونوں نے ساتھ ہی کالج ختم کیا تھا، اس زمانے میں کمپیوٹر کوآئے ہو ئے زیادہ دن نہیں ہُوئے تھے۔ مجھے ایک ایسی نوکری مل گئی جس کے بعد میرے لیے ترقی کے دروازے کھلتے چلے گئے تھے۔ سوزانا نے بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کیا تھا اور ایک کمپنی میں اچھے عہدے پر کام کررہی تھی۔ ہم دونوں نے شادی بھی کرلی۔ ہم دونوں کے تین بچے بھی تھے، دو لڑکے اور ا یک چھوٹی سی لڑکی۔
سوزانا کے ماں باپ بھائی بہن نہیں ہوتے تو شاید ہم دونوں ہی نہیں پڑھ سکتے تھے۔ انہوں نے مجھے وہی پیار دیا جومیرے ماں باپ دے سکتے تھے۔ اتنا پیار، اتنا پیار، اتنا پیار کہ میں انہیں بھول بیٹھا۔ میرے گھر والوں کے بارے میں سوزانا ہی مجھ سے پوچھتی تھی وہ ان سے ملناچاہتی تھی لیکن میں تو آہستہ آہستہ سب سے رابطہ کھو بیٹھا تھا۔ مجھے تو اب کچھ بھی نہیں پتا تھا کہ ابو کہاں ہیں؟ میری بہن، میری چچی اور چچا زاد بھائی کہاں ہیں، کیسے ہیں، کیا کررہے ہیں، امی کے جانے کے بعد نہ جانے یہ سب کچھ کیسے ہوگیا تھا۔ پڑھائی کی مصروفیت اور زندگی کی محنت میں، میں ان سب کو بھلا بیٹھا تھا۔
یہ سوزانا تھی جس نے میرے دل میں اپنے گھر والوں سے ملنے کی خواہش کا دِیا جلادیا تھا۔ ایک دن اس نے مجھے اس بات پر آمادہ کرلیا کہ میں کراچی جاؤں، اپنے گھروالوں کی تلاش کروں، ان سے ملوں، ان کے ساتھ رہوں پھر وہ بھی آئے گی بچوں کے ساتھ۔ انہیں ملائے گی ان کے گرانڈ پیرنٹ سے، ان کی پھوپیوں اور چچاؤں سے جن کے بارے میں وہ ہر وقت پوچھتے رہتے تھے۔ ڈیڈ ویئر از یور فادر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ڈیڈ ویئر از مائی گرانڈ پیرنٹس، ویئر آز دے۔ کہاں ہیں وہ میرے دادا دادی، میرے انکل اور کزن۔
جہاز رات گئے کراچی پہنچا تھا۔ ائرپورٹ سے میں میریٹ ہوٹل چلا گیا تھا۔ دوسری صبح تیارہوکر میں نے ہوٹل سے ہی ٹیکسی لی اور گلشن اقبال میں اپنے گھر پہنچ گیا، بہت سے خدشات کے ساتھ بہت کچھ سوچتے ہوئے ابو زندہ ہوں گے، وہیں ہوں گے۔ کوئی تو ہوگا، میں نے سوچا تھا کہ آنے سے پہلے خط لکھوں، فون کروں مگر نہ جانے کیوں میں نے فیصلہ کیا تھا کہ گھر اچانک ہی پہنچنا اچھا ہوگا۔
وقت کے ساتھ سب کچھ بدل گیا تھا مگر اتنا بھی نہیں کہ میں کراچی اور کراچی میں اپنے مکان کوپہچان نہیں سکتا۔ لیکن وہاں جو لوگ رہ رہے تھے وہ اچھے نہیں تھے۔ انہوں نے بڑی بدتمیزی سے بات کرنے کے بعد مجھے وہاں سے چلے جانے کوکہا تھا۔ ٹیکسی ڈرائیور نے مجھے اشارے سے کہا کہ میں وہاں سے چلا چلوں۔ ٹیکسی میں بیٹھتے ہی اس نے کہا کہ یہ لوگ اچھے نہیں لگتے ہیں صاحب، شاید انہوں نے مکان پر قبضہ کرلیا ہے۔ شاید آپ بہت سالوں کے بعد آرہے ہیں، کراچی میں اب یہی ہوتا ہے، کمزور لوگوں کے مکان پر قبضہ ہوجاتا ہے، شاید آپ کے ابو گزرگئے ہوں، شاید ان لوگوں نے انہیں ماردیا ہوگا۔ گھر پر قبضہ کرنے کے بعد انہیں ایدھی ہوم میں ڈال دیا ہوگا۔ آپ کے اور بھائی بہن ہیں، ان سے پتہ کریں، کراچی کو کراچی والوں نے ہی لوٹ لیا ہے مار دھاڑ کر، کاٹ پیٹ کر، جگہ جگہ سے دلوں کے اندر تک یہاں سب کچھ ہوسکتا ہے، کسی بھی وقت کسی کے ساتھ۔
تھوڑی دیر کے لیے میری سمجھ میں نہیں آیا کہ میں کیا کروں۔ ٹیکسی والا ٹیکسی کواس گلی سے باہر لے کرآگیا تھا۔ پھر مجھے چچا جان کا خیال آیا، میں نے اسے ناظم آباد چلنے کو کہا تھا۔ ناظم آباد میں بھی بڑی تبدیلیاں آگئی تھیں مگرچچا جان کا گھرموجود تھا اور اس میں ایک اور منزل کا اضافہ ہوگیا تھا۔
صبح کے دس بجے گھر کے باہر کاگیٹ چچی جان نے ہی کھولا تھا۔ بوڑھی ہونے کے باوجود انہیں میں نے پہچان لیا تھا۔ ان کے چہرے پر وہی پیار اور رونق تھی جوبچپن میں میں دیکھتا رہا تھا۔ پہلے تو انہوں نے مجھے نہیں پہچانا مگر آوازسنتے ہی بولی تھیں کہ یہ تو صفدر کی آواز ہے۔
میں صفدر ہی ہوں، امریکا سے آیا ہوں۔ ابو کہاں ہیں، ٹھیک ہیں نا، زندہ تو ہیں نا، میں نے سارے سوال ایک ساتھ کرڈالے تھے۔
انہوں نے روتی ہوئی آنکھوں سے بڑھ کر مجھے اپنے گلے لگالیا تھا۔ مجھے لگا جیسے میرے پورے جسم کے اندر سمندر کی طرح اُٹھنے والاجوار بھاٹا تھم کر بیٹھ گیا ہے۔ مجھے پتا بھی نہیں تھا کہ میری آنکھوں سے کتنے آنسو بہہ رہے ہیں۔
وہ اندر ہیں بیٹے، زندہ ہیں، بیمار ہیں، تمہیں تلاش کرتے ہیں، پوچھتے رہتے ہیں، تم کیوں ناراض ہوگئے ان سے۔ ایسا باپ، ایسا بھائی، ایسا دیور کسے ملتا ہے۔ ان کے لہجے میں شکایت کی تلخی نے جیسے میرے دل کو چھیل کر رکھ دیا۔ میں ان کے پیچھے پیچھے سامنے والے کمرے میں گیا تھا۔ وہ ایک آرام کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ وہی چہرہ، وہی پیشانی، وہی آنکھ، وہی ناک، وہی ہونٹ۔ میں نے انہیں فوراً ہی پہچان لیا۔ وہ مجھے دیکھ کرآہستہ آہستہ کھڑے ہوگئے تھے۔ میں نے بڑھ کر ان کے دُبلے پتلے جسم کواپنے سینے سے لگالیا تھا۔ ان کے بدن کی خوشبو نہیں بدلی تھی۔ ان کے گالوں کے لمس میں وہی جان تھی، ان کے ہونٹوں میں وہی پیار تھا جو بچپن سے وہ میرے جسم کے ایک ایک حصے پر لُٹاتے رہے تھے۔ میرے ابوزندہ تھے میرے سامنے اپنے وجود کے ساتھ۔
میں نے ٹیکسی والے کو واپس بھیج دیا۔ بچے اسکول گئے ہوئے تھے، میرا ایک چچا زاد بھائی اور اس کی بیوی ڈاکٹر تھے اور ساتھ ہی ایک جگہ پر اپنا دوا خانہ چلارہے تھے۔ دوسرا بھائی بینک میں تھا اور اس کی بیوی عبداللہ کالج میں لیکچرر تھی۔ چچی نے کہا کہ وہ سب کو فون کرکے بلالیتی ہیں، مگر میں نے منع کردیا کہ انہیں اپنے وقت پرآنے دیں۔ اتنی دیر میں ابو کے ساتھ بیٹھوں گا، باتیں کروں گا۔ چچی کی خوشی دیکھنے کے قابل تھی۔
میں نے سوزانا کو فون کرکے بتایا تھا کہ مجھے ابو مل گئے ہیں، مجھے اس کی آواز سے ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ خوش ہے۔ میں نے اسے گھر کا فون نمبر بھی لکھا دیا تھا۔
مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

