رات کے اندھیرے میں چمکتے موبائل اور  Sexting

ہمارے معاشرہ ارتقائی صورتحال سے دوچار ہے، گزر رہا ہے اس لیے نہیں لکھا کہ ہم مثبت کم اور منفی رجحانات کو زیادہ مستعدی سے قبول کر رہے ہیں، دنیا میں موبائل 80 کی دہائی میں آیا جبکہ پاکستان میں قریب سال 2000 میں آیا ہے، انٹرنیٹ کے عام ہونے سے جہاں دنیا مزید سمٹ گئی وہیں معاشرے میں نئی جہیتیں بھیں دیکھنے کو ملیں،

یہ کہانی گھر گھر کی ہے یا پھر یوں کہہ لیں ہر گھر کی، مرد و زن سب ہی اس لت کا شکار ہیں یا وہ ماضی میں اس کا حصہ رہے ہیں، باقی نئی نسل پورے جوش و خروش سے اس خود لذتی کی شکار ہے، خاموش کمروں میں چیختی یہ خود لذتی کی داستانیں ہر گھر کے تاریک کمروں کی دیواروں میں روشن ہیں، آپ نے سن رکھا ہوگا دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں، شکر خدا کا دیواروں کی آنکھیں نہیں ہوتیں ورنہ اس عریانیت کی چمک سے یا تو خیرہ ہو چکی ہوتی یا پھر سفید،

آج کل سیاہ راتوں کے گہرے اندھیروں میں کمروں میں جگنووں کی مانند چمکتے موبائل پر مسج کیے جا رہے ہوتے ہیں، رات کے پچھلے پہر کیے جانے والے میسجز کو Texting نہیں بلکہ Sexting کہا جاتا ہے، آجکل کے جوانوں کی جنسی خواہشات میں آئے روز اضافہ اس لیے ہوتا جا رہا ہے کہ انکی رسائی جنسی عمل تک زیادہ ہو گئی ہے، آجکل کے بچے بچے نہیں رہے، مڈل پاس کرنے والے بھی اس عمل سے بخوبی آشنا ہیں، جو بچے شرافت میں وقت گزارانا چاہتے ہیں وہ اس قبیح جنسی عمل کا عملی طور پر توحصہ نہیں بنتے لیکن اس معاشرہ کا حصہ ہوتے ہوئے وہ اس سے بچ بھی نہیں پائے، تو وہ اب میسجز کے ذریعے اپنی یہ ضروریات پوری کرتے نظر آتے ہیں، رات گئے مخالف جنس کے ساتھ Sexting کے عمل میں ایسے کھو جاتے ہیں کہ خود لذتی کی بہت سی حدیں پارکر جاتے ہیں، شریف گھرانوں کی لڑکیاں بھی اپنی بے حجاب تصاویر اپنے نائیٹ پارٹنر کو بھیج بیٹھتی ہیں۔۔۔وہ بھی اس شرط پر کہ دیکھ کر دیکھ کر ڈیلیٹ کردینا یا صرف اپنے تک محدود رکھنا

 اس عمل سے نہ صرف بہت سے شریف گھروں کی بیٹیوں کی زندگیاں داو پر لگ چکی ہیں بلکہ کچھ غلط ہاتھوں میں کھیلنے سے نوبت خود کشی تک پہنچ جاتی ہیں، بظاہر عام سے نظر آنے والا عمل کتنے ہی گھر اور زندگیاں اجاڑچکا ہے،

لیکن اس میں ایک اور طبقہ بھی ہے جو جان بوجھ کر لطف اندوز ہونے کےلئے سوشل میڈیا کے استعمال کے ساتھ Sexting کرتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن کی عمر 20 سے 30 کے درمیان ہوتی ہے، ان کے لئے یہ معنی نہیں رکھتا ہے کہ صنف مخالف میں کون مخاطب ہے مطلب ہوتا ہے تو بس ان سے کسی بھی صورت میں لذت لینے کا، یہ سب جانتے ہیں، یہ کیونکہ جسمانی طور پر ایک دوسرے سے دور ہوتے ہیں اس لیے موبائل کے ذریعے ہی کام چلا لیتے ہیں، کچھ خواتین کیونکہ اپنا موبائل نمبر شیئر نہیں کرنا چاہتی تو وہ فیس بک آئی ڈیز سے اس عمل کا حصہ بنتی ہیں،رات ہوتے ہی فاصلے سمٹ جاتے ہیں، یہ منچلے ایک دوسرے کی قربت اختیار کرتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں، اس عمل میں خاص طور پر جنسی عمل میں ملوث خواتین جن کو پہلے فاحشہ کہا جاتا تھا اور آجکل وہ خود کو Sex worker کہتی ہیں اس سارے عمل کا بھرپورحصہ بن کر دیگر نوجوان لڑکوں سے پیسے بٹورنے یا پھر اپنا کام چلانے کےلئے استعمال کرتی ہیں، انکا پہلا اور آخری مقصد پیسے کمانا ہوتا ہے، اور تو اور شادی شدہ خواتین و حضرات بھی اس کا شکار ہیں، کتنی ہیں ایسی زوجین ہیں جن کے شوہر حضرات ملک سے باہر کمانے کی غرض سے ہیں اور وہ اپنی عزت قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ جنسی لذت سے لطف اندوز ہونے کے لیے Sexting کا سہارا لیتی ہیں،اور کچھ تو جنسی عمل کی لت کا شکار ہو کر اپنی عزت تک گوا بیٹھتی ہیں

 اس سارے عمل کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ مزے کےلئے شروع کیا جانے والا یہ عمل نہ صرف جنسی خواہشات کو تقویت بخشتا ہے بلکہ اسکو عملی جامہ پہنانے کےلئے راستے بھی مہیا کر دیتا ہے، پھر بے راہ رووی کا وہ سفر شروع ہوتا ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتا، اس عمل کو چھوٹا مت جاننے، اپنی اور اپنے پیاروں کی حفاظت کیجئے، خود کو اور اپنی نئی نسلوں کو اس سے بچائیے، کل کی فاحشہ جب آج خود کوSexworker کہتی ہے تو یہ عام بات نہیں الفاظ کو سمجھئیے، ان پر اپنا ردعمل دیجئے، خود بھی سمجھئیے اور دوسروں کو بھی آگاہ کیجئے کہ یہ قبیح عمل گناہ ہے نا کہ کام ہے.

Comments - User is solely responsible for his/her words