پروین بابی اور مہیش بھٹ کی ناقابل فراموش محبت
وہ 70 کا دور تھا اور پروین بابی اس دور کی سب سے مشہور اداکارہ تھیں۔ ’امر اکبر انتھونی‘، ’شان‘ اور’ دو اور دو پانچ‘ جیسی کئی کامیاب فلمیں دے چکی تھیں۔ پروین اپنے کیرئیر کی کامیابیوں کو چھورہی تھیں کہ تب ہی پروین کی مہیش بھٹ سے ملاقات ہوئی۔
مہیش بھٹ یوں تو شادی شدہ تھے لیکن پروین کے آگے وہ مجبور ہوگئےاور ان سے محبت کر بیٹھے۔ یہ وہ وقت تھا جب پروین کچھ ہی وقت پہلے کبیر بیدی سے الگ ہوئی تھیں اور وہ اپنے ٹوٹے دل کے حصے سمیٹ رہی تھیں۔
مہیش کے روپ میں پروین کو ایک اچھا دوست ملا۔ 1977ء میں ان دونوں کا پیار پروان چڑھا جب پروین’ امر اکبر انتھونی‘ اور ’کالا پتھر‘ کی شوٹنگ کر رہی تھیں ۔
کافی عرصے بعد مہیش نےایک انٹرویو میں اپنے اور پروین کے رشتے کے بارے میں کئی وضاحتیں دیں۔ انہوں نے کہا کہ میں پروین سے 1970ء میں ملا اور ہم دونوں کی زندگی اس وقت کافی عجیب دور سے گزر رہی تھی۔ پروین کا کبیر بیدی سے بریک اپ ہوا تھا اور وہ مکمل طور پر ٹوٹ چکی تھیں۔ پروین کی ذہانت اور ان کی مسکراہٹ مجھے کافی پسند آئی تھیں۔ وہ بہت پڑھی لکھی اور ذہین عورت تھیں۔ ہمارا رشتہ 1977 سے 1980ء تک چلا اور وہ میرے زندگی کے حسین دن تھے۔ ہم ان دنوں کافی قریب آگئے تھے۔ پروین اپنی زندگی ہمیشہ اپنی شرطوں پر جینے والوں میں سے تھی اور انہیں اس کا کبھی افسوس نہیں ہوا۔
بھٹ صاحب اور پروین بابی کے پیار کو ابھی تھوڑا ہی عرصہ ہوا تھاکہ ایک دن مہیش بھٹ جب پروین بابی سے ملنے گئے تو ان کو اندھیرے کمرے میں چاقو پکڑے دیکھا تو گھبرا گئے اس دن مہیش بھٹ کو معلوم ہوا کہ پروین کو دماغی بیماری ہے جو پروین کو ان کے والد سےوراثت میں ملی ہے۔ ان کی یہ بیماری روز بروز خراب ہو رہی تھی وہ کبھی عبادت کرنے لگتیں جو انہوں نے کبھی نہیں کی تھی تو کبھی خود کو نقصان پہنچانے لگتیں۔
مہیش بھٹ نے اپنی طرف سے پروین کو ٹھیک کرنے کی پوری کوشش کی۔ انہیں علاج کے لیے بیرون ممالک بھی لے کر گئے لیکن پروین کی بیماری دن بہ دن خطرناک ہوتی چلی جا رہی تھی۔
اسی دوران مہیش بھٹ نے فلم ’’ارتھ‘‘ لکھنےکی شروعات کی جو ان کی زندگی سے متاثر تھی۔ اسی دوران مہیش بھٹ کے ایک قریبی دوست نے مہیش کو پروین سے دور رہنے کا مشورہ دیا کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ پروین اب ٹھیک نہیں ہوسکتی ۔
اس بات کا اس وقت تو مہیش نے کچھ نہیں جواب دیا لیکن جب اس بات کا پتا لگنے پر پروین نے مہیش سے پوچھا کہ اگر تمہیں مجھ میں اور تمھارے دوست میں کسی کو چننا پڑے تو تم کس کو منتخب کرو گے تو اس بات پر مہیش بھٹ آدھی رات کو ان کو چھوڑ کر چلے گئے اور اسی دن ان کی زندگی کی راہیں الگ الگ ہوگئی۔
یہ ادھورا اور پیار بھرا رشتہ چاہے اپنے مقام پر نہ پہنچ پایا ہو لیکن اس نے مہیش بھٹ کو وہاں پہنچایا جہاں وہ ہیں۔ فلم ’’ارتھ‘‘ سے انہیں اپنے کیرئیر کی پہلی کامیاب فلم ملی ۔
بریک اپ کے بعد پروین بابی نے خود کو دنیا سے الگ کر لیا تھا۔ وہ لوگوں سے ملنا چھوڑ چکی تھیں اور خود کو گھر میں قید کر لیا تھا اور پھر 2005ء میں ان کی لاش ان کے گھر سے ملی۔ میڈیکل رپورٹس کا کہنا تھا کہ پروین بابی نے خود کو کئی دنوں سے بھوکا رکھا ہوا تھا ۔
پروین بابی اتنی اکیلی تھیں کہ ان کی باڈی کو دفنانے والا بھی کوئی نہیں تھا لیکن پھر مہیش بھٹ نے انہیں سپرد خاک کیا اور دل پر پتھر رکھ کر انہیں الوداع کیا۔
مہیش بھٹ اور پروین بابی جدا تو ہوگئے لیکن مہیش پروین کے جانے کے بعد بھی ان کو بھول نہ پائے۔ ایک انٹرویو میں مہیش کا کہنا تھا کہ پروین مجھ سے جب ملی جب میرے پاس کچھ نہ تھا وہ پھر بھی مجھ سے محبت کرتی تھی۔ پروین نے مجھے مکمل کیا تھا ۔
( تحریر: لائبہ نعمان)






