پاکستان سالانہ ایک ہزار ارب ڈالر منی لانڈرنگ کا شکار ہے: صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان
پنجاب کے صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے سوشل میڈیا پر اپنے دھواں دھار پیغامات سے ہل چل مچا دی ہے۔ وفاقت وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی طرف سے ہیلی کاپٹر میں 55 روپے فی کلو میٹر سفر کی خوش خبری کے بعد پنجاب کے صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے زور دار بیانات سے پاکستانی قوم، بالخصوص پاکستان تحریک انصاف کی صفوں میں جوش و جذبہ بھر دیا ہے۔
فیاض الحسن چوہان نے ٹویٹ کیا کہ عمران خان کے وژن کو آگے لے کر جائیں گے۔ ڈوبتی ہوئی معیشت کو بحال کرنا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ پاکستان سالانہ ایک ہزار ارب ڈالر منی لانڈرنگ کا شکار ہے۔ سابق حکمرانوں کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کی وجہ سے ملک یہاں تک پہنچا۔ ماہرین معیشت نے بے ساختہ خوشی کا اظہار کیا ہے کہ جاری بجٹ میں حکومت پاکستان کی کل آمدنی صرف 44 ارب ڈالر ہے۔ اگر 284 ارب ڈالر کے کل جی ڈی پی والے ملک سے سالانہ ایک ہزار ڈالر چرائے جا رہے ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کو آئی ایم ایف، ایشیائی ترقیاتی بینک، شنگھائی تعاون تنظیم اور قریبی دوست ممالک سے دس بارہ ارب ڈالر کے لئے قومی حمیت کا سودا کرنے کی ضرورت نہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو صرف منی لانڈرنگ کا راستہ روکنا ہے، اور اس کے بعد پاکستان پلک جھپکتے میں ایشیا بلکہ دنیا کی بیس بڑی معیشتوں میں شمار کیا جائے گا۔
پنجاب کے صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے ایک اور پیغام میں کہا ہے کہ وزراءکا ایجنڈا پہلے کی طرح اپنےمفاد کو پروان چڑھانا نہیں ہو گا۔ پچھلی حکومتوں کا صرف ایک مقصد تھا کہ مخالف کو کس طرح نشانہ بنانا ہے۔ ماہرین قانون نے اس پر مسرت کا اظہار کیا ہے کہ عید الضحیٰ سے پہلے نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کی سزا میں معطلی کا فیصلہ موخر کرنے سے شبہات پیدا ہو رہے تھے کہ سیاسی مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ فیاض الحسن چوہان کے بیان سے واضح ہو گیا ہے کہ نومنتخب حکومت کسی سیاسی مخالف کے خلاف انتقامی کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتی۔ تاہم فیاض الحسن چوہان نے یہ بھی نتایا ہے کہ پاک پتن شریف واقعے پر آئی جی پنجاب باقاعدہ تحقیقات کروا رہے ہیں۔ نیز یہ کہ ڈی پی او پاک پتن شریف کی تبدیلی پولیس کا اندرونی معاملہ ہے
فیاض الحسن چوہان نے ایک اور بیان میں کہا ہے کہ وزیراعلیٰ کے پروٹوکول کی وجہ سے پاک پتن بند نہیں ہے۔ تاہم دائیں بازو کے معروف نجی ٹیلی ویژن چینل 92 نیوز نے اطلاع دی ہے کہ پولیس نے ڈپٹی کمشنر آفس سے دربار بابا فرید تک تمام دکانیں بند کروا دی ہیں۔
یاد رہے کہ ایسے ہی تہلکہ خیز بیانات کی بنا پر پاکستان تحریک انصاف نے 5 نومبر 2015 کو فیاض الحسن چوہان کو پارٹی میں ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات کے عہدے سے برطرف کر دیا تھا۔






