تبلیغی جماعت کے دو بزرگ مبلغین کے قاتل اکرام کو سزائے موت
آج ایڈیشنل سیشن جج چنیوٹ کی عدالت نے مشہور قتل کیس کافیصلہ سنا دیا۔ ملزم اکرام نے دو افراد کو مسجد آسیاں والا چنیوٹ میں قتل کر دیا تھا۔ ملزم کو دو دفعہ سزائے موت اور چھ لاکھ روپے جرمانہ کی سزا دی گئی۔ اس مقدمے میں مقتول پارٹی کی طرف سے ثناءاللہ خان نیازی ایڈووکیٹ (ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج)نے وکالت اور پیروی کی۔
اگست 2017 میں دو سگے بھائیوں نے مسجد میں سوئے ہوئے تبلیغی جماعت کے افراد پر آدھی رات کو کسّی سے حملہ کر دیا تھا۔ ایک بزرگ موقع پر دم توڑ گیا جبکہ دوسرا شدید زخمی حالت میں ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا جہاں وہ بعد میں دم توڑ گیا۔ ایک ملزم آلہ قتل سمیت گرفتار کر لیا گیا تھا دوسرا فرار ہو گیا۔
تفصیلات کے مطابق رائیونڈ سے تقریباً نو ماہ قبل تشکیل پا کر ایک سال کے لئے تبلیغ کے لئے سیالکوٹ سے اپنے سفر کا آغاز کرنے والی کراچی سے تعلق رکھنے والے گیارہ افراد پر مشتمل جماعت نمبری 83 جس کے ذمہ دار محمد رفیق تھے جب نواحی علاقہ قلعہ آسیاں کی جامع مسجد میں پہنچی تو دو دن گزرنے کے بعد ایک نوجوان اکرام خان ہمراہ اپنے سگے بھائی عمران سکنہ موضع قلعہ آسیاں جن کا گھر مسجد کے قریب تھا آئے اور جماعت کے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھ گئے۔ انہیں کہنے لگے کہ تم سب گستاخ و منکر ہو۔ جماعت کے ذمہ دار نے انہیں سمجھایا کہ ہم گستاخ نہیں۔ وہ چلے گئے۔
یاد رہے کہ دونوں بھائی پیر کرم شاہ کے مدرسہ دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ میں زیر تعلیم تھے۔ جماعت کے لوگ بعداز نماز عشاء مسجد کے صحن میں سو گئے تو اکرام خان بھائی عمران کے ہمراہ مسجد میں رات 1:30 بجے داخل ہوا، کسّی کے پے درپے وار کر کے 70 سالہ ولی الرحمان ولد منیر قوم سواتی سکنہ ملیر کراچی کو ابدی نیند سلا دیا، 57 سالہ عبداللہ سکنہ اورنگی ٹاؤن کراچی کو شدید زخمی کر دیا جسے تشویشناک حالت کے پیش نظر الائیڈ ہسپتال فیصل آباد منتقل کر دیا گیا جہاں وہ بعد میں دم توڑ گیا۔ ملزم اکرام خان کو پولیس نے گرفتار کر کے آلہ قتل برآمد کرلیا، دوسرا ملزم عمران فرار ہو گیا۔


