من کا پاپی اور عشقِ ممنوع
”رات کے وقت لکیریں مدھم پڑ جاتی ہیں؛ کبھی دِن میں دکھانا۔ ویسے بھی اس وقت میں سر میں درد ہے‘‘۔
”اوہ! حفیظ کو جگاؤں، وہ دوا لے آئیں‘‘؟
”نہیں! ضرورت نہیں ہے؛ اُسے سونے دو‘‘۔
”اچھا میں تیل لے کے آتی ہوں، آپ کے سر کی مالش کر دیتی ہوں۔ اُس سے آرام آ جائے گا‘‘۔
نصرت اٹھی کہ دوسری کمرے سے تیل لائے۔
”رہنے دو؛ اچھا نہیں لگتا۔ پھر حفیظ اُٹھ گیا تو کیا کہے گا‘‘۔
صفی دل سے چاہتا تھا، کہ وہ اُس کے سر کی مالش کرے؛ لیکن وہی ازلی بز دِلی کِہ بہانے تراشتی رہتی۔
”ایسے نہیں ہیں، حفیظ؛ میں اُن کے سامنے بھی آپ کے سر کا مساج کر سکتی ہوں؛ وہ کچھ نہیں کہیں گے‘‘۔
صفی فرش پہ آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا، اور نصرت اُس کے پیچھے بیٹھی اُس کے سر کی مالش کرنے لگی۔
”آپ کو پتا ہے؛ حفیظ میں یہ خرابی ہے کِہ وہ کبھی تعریف نہیں کرتے‘‘۔
”یہ تو اُس کی کم ظرفی ہوئی‘‘۔
تھوڑی دیر میں صفی کے سر میں نشہ سا سرایت کر گیا۔ صفی نے دانستہ پیچھے کو ہوتے، اپنا بدن ڈھیلا چھوڑ دیا۔ اُسے اپنی پشت پہ نصرت کے سینے کا گرم گداز محسوس ہوا۔ اُس کا نشہ دو آتشہ ہو گیا۔ پھر اِس خیال نے اُسے باز رکھا، کِہ ایسے اُس کی عزت خاک میں مل جائے گا۔ اپنے آپ میں رہا جائے۔ وہ سنبھل کے بیٹھ گیا۔ صفی نے سوچا، یہ سب کچھ اتنے سے وقفے میں ہوا ہے، کہ نصرت اپنے سے چھو جانے کو اتفاق ہی سمجھی ہو گی۔ سنبھل کے بیٹھنے سے اُس کی پارسائی کا بھرم ہی قائم ہوا ہو گا۔
”تمھارے مساج کرنے سے تو سکون آ رہا ہے۔ نیند آنے لگی ہے، مجھے‘‘۔
”سو جائیں‘‘۔
”نہیں سونا نہیں ہے، مجھے۔ یہ بتاو، حفیظ کے سر کے مالش بھی کرتی ہو‘‘؟
”ہاں! بالکل کر دیتی ہوں۔ جس دِن وہ بہت تھکے ہوں، تو اُن کے سارے بدن کی مالش کرتی ہوں۔ وہ اس دوران سو جاتے ہیں‘‘۔
نصرت نے روانی میں کَہ دِیا؛ صفی نے اِس سے اگلا منظر تصور ہی تصور میں دیکھ لیا تھا۔
”اور کبھی۔ اُس نے بھی کبھی‘‘؟
”نہیں! مجھے اچھا نہیں لگتا، کِہ مرد ایسا کرے‘‘۔ نصرت نے ہاتھ روکے بہ غیر جواب دیا۔
”کیوں؟ مرد اور عورت والی کیا بات ہے، اِس میں؟ میں تو اپنی بیوی کو پاوں اس شرط پہ دبانے دیتا ہوں، کہ جب وہ تھکی ہوئی ہو، ، میں اُس کے پاوں دبا سکوں‘‘۔
”تو دباتے ہیں، آپ؛ اُن کے پاوں‘‘؟ لمحہ بھر کو اُس کے چلتے ہاتھ ٹھیرے۔
”ہاں دباتا ہوں‘‘۔ صفی جھوٹ نہیں بول رہا تھا۔
”انھوں نے کبھی منع نہیں کیا‘‘؟
”شروع شروع میں کیا تھا۔ میں نے اُسے سمجھایا کہ اس میں کوئی بری بات نہیں ہے‘‘۔
”آپ کے بیچ میں بہت انڈر اسٹینڈنگ ہے‘‘؟
”اچھا بس کرو؛ تھک گئی ہو گی۔ لاؤ میں تمھارے سر کا مساج کر دوں‘‘۔ صفی نے بات پلٹ دی۔
”نہیں! مجھے ضرورت نہیں‘‘۔ نصرت جیسے گھبرا سی گئی ہو۔
اُس لمحے صفی نے دیکھا، کِہ نصرت کی آنکھوں میں لال لال ڈورے تیر رہے ہیں۔
”ضرورت کی کیا بات ہے، میں تمھارا اُدھار نہیں رکھنا چاہتا‘‘۔
”بالوں میں تیل لگ گیا، تو مجھے صبح اُٹھ کے نہانا پڑے گا، اور میں نہانا نہیں چاہتی؛ رہنے دیں‘‘۔
یک دم نصرت دروازے کی طرف بڑھی۔
”میں بچوں کو دیکھ کے آتی ہوں۔ اُن کی فِیڈ کا ٹائم ہو گیا ہے‘‘۔
اُس رات صفی کو وہیں ٹھیرنا تھا۔
”آپ بھی سو جائیں، اب‘‘۔
نصرت جاتے جاتے مشورہ دے گئی۔ نیند صفی کی آنکھوں سے کوسوں دُور تھی۔ وہ بستر پہ لیٹا کروٹیں بدلتا رہا۔ اُس کی پشت پہ نرم گرم احساس چپکا ہوا تھا۔ کوئی گھنٹا ڈیڑھ بھر بعد اُس کے کمرے کا دروازہ کھلا۔ حفیظ مسکراتا ہوا داخل ہوا؛ اُس کے بال بے ترتیب تھے۔ نیند سے جو اُٹھ کے آیا تھا۔
”ہاں بھئی! نیند پوری ہو گئی، تمھاری‘‘؟ صفی نے شکر ادا کیا، کِہ کوئی تو اُس کی تنہائی بٹانے آیا۔
”گرمی سے آنکھ کھل گئی۔ آج گرمی کچھ زیادہ نہیں ہے‘‘؟ حفیظ نے پوچھا۔
”موسم تو ٹھیک ہے؛ ایسی گرمی بھی نہیں‘‘۔
موسم معتدل تھا، لیکن کچھ لوگوں کو گرمی زیادہ لگتی ہے۔ حفیظ وہیں بیٹھ گیا، جہاں پہلے نصرت دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔
”میں سوچ رہا ہوں، اے سی لے لوں۔ سارا دِن آفس میں اے سی میں رہ رہ کے، عادت سی ہو گئی ہے۔ گھر میں بھی لگوا لوں‘‘۔
حفیظ کی بات ختم بھی نہ ہوئی تھی، کِہ نصرت وہیں چلی آئی۔ صفی نے دیکھا کہ اُس کی بغلیں پسینے سے بھیگی ہوئی ہیں۔ بال کچھ بے ترتیب ہیں۔ آتے ہی حفیظ سے مخاطب ہوئی۔
”آپ نے سونا نہیں ہے‘‘؟
نصرت کی قمیص کے چاک سے اُس کے جسم کا کچھ حصہ دکھائی دے رہا تھا۔ پسینے کی بوندوں سے تر چکنی جلد، اور بغلوں سے رِستا پسینا صفی کو وحشی بنانے کے لیے کافی تھا۔ یوں تو صفی نفاست پسند تھا، لیکن نصرت کی بھیگی بغلیں اُس کے دِل میں نا مناسب تحریک پیدا کر رہی تھیں۔ ان دونوں کے سوا وہاں کوئی اور نہ ہوتا، تو اُس لمحے صفی سے خطا ہو کے ہی رہتی۔ حفیظ، صفی سے مخاطب ہوتے اُٹھ کھڑا ہوا۔
چلیں آپ بھی سوئیں، میں نے آپ کو ڈسٹرب کر دیا‘‘۔
صفی کو میاں بیوی کی حالت سے اندازہ ہو گیا، حفیظ کے جاگنے کا سبب کیا ہو سکتا ہے، اور کیوں نصرت پہلے سے ہلکی پھلکی دکھائی دے رہی ہے۔ آنکھوں کے لال لال نشئی ڈورے کہاں گئے، اُس کا چہرہ کیوں کر مہ تاب ہوا ہے۔ وہ کروٹیں بدلتے سویا تو صبح کا اُجالا پھیل رہا تھا۔
صفی دن دیر تک سوتا رہا۔ حفیظ کام پہ جا چکا تھا۔ نصرت نے اسے دُپہر کا کھانا بنا کے دیا۔ کھانا کھانے کے بعد صفی کو کسل مندی سی محسوس ہوئی، اس کے لیے بیٹھنا دُشوار ہوا، تو جا کے کمرے میں لیٹ گیا۔ وہ غنودگی کی حالت میں تھا، جب نصرت نے چائے کا کپ لا کے رکھا۔ آنکھ کھلی تو سرہانے چائے کا ٹھنڈا کپ دھرا دکھائی دیا، جس پہ پھٹی ہوئی ملائی جمی تھی۔ صفی کو احساس زیاں ہوا۔ وقت دیکھا، تو شام کے چار سے اوپر کا تھا۔ وہ سیدھا غسل خانے میں گیا اور شاور لیا۔ جب کنگھی پٹی کر کے کمرے سے باہر آیا تو نصرت سوفے پہ بیٹھی، اپنے سیل فون میں محو دکھائی دی۔
”آج تو آپ بہت سوئے۔ میں نے ایک دو بار آواز بھی دی، لیکن آپ بے ہوش پڑے تھے۔ اس وقت بڑے فریش لگ رہے ہیں‘‘۔
مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

