من کا پاپی اور عشقِ ممنوع
نصرت نے بڑی لگاوٹ سے خوش آمدید کہا۔ صفی نے اپنی نگہ اُس کے گریبان سے ہٹائی۔ وہ دُپٹے سے بے نیاز تھی، اور ماہ و خورشید طلوع ہو رہے تھے۔
”بچے کہاں ہیں‘‘؟
”پڑوسن لے گئی ہے؛ ابھی تھوڑی دیر پہلے‘‘۔
پڑوسن کے اولاد نہیں تھی۔ صفی جانتا تھا، کِہ پڑوسن نصرت کے بچوں سے بہت پیار کرتی ہے، اور کبھی کبھی انھیں اپنے گھر لے جا کے نہلاتی دھلاتی، کھلاتی ہے۔ بچے بھی پڑوسن کے ساتھ بہت اٹیچڈ تھے۔
”کیا ایک کپ چائے بنا دو گی‘‘؟
”ہاں کیوں نہیں‘‘!
نصرت نے سوفے کی پشت سے اپنا دُپٹا اُٹھایا، اور کچن میں داخل ہو گئی۔ صفی نے وہیں دوسرے سوفے پر بیٹھ کے اپنے آپ کو کوسا، کہ یہ میں کس طرف جا رہا ہوں۔ حفیظ اُس پہ اتنا اعتبار کرتا ہے، بھائیوں کی طرح خیال رکھتا ہے، اسے اپنے گھر ٹھیراتا ہے، اس کی غیر موجودی میں گھر آنے جانے پہ اعتراض نہیں کرتا؛ اپنی بیوی کے ساتھ رات دیر دیر تک بیٹھ کے باتیں کرنا معیوب نہیں لگتا، تو ایسے بھولے بھالے شخص کو دھوکا دینا، کہاں کی شرافت ہے! صفی نے وہیں بیٹھے بیٹھے فیصلہ کر لیا، کہ اُسے اِن سے دُور ہو جانا چاہیے۔ یہ تعلق اُسے ذِلت کے گڑھے میں لے جا پھینکے گا۔
نصرت چائے کا کپ تھما کے وہیں سامنے بیٹھ گئی۔
”طبیعت ٹھیک ہے، ناں؛ آپ کی‘‘؟
صفی ہنس دیا۔ ”بالکل ٹھیک ہے۔ تمھارا شکریہ‘‘!
”کس بات کا شکریہ‘‘؟ نصرت نے حیرت سے پوچھا۔
”یہی! جو تم نے خیال رکھا‘‘۔
”میں نے کیا خیال رکھا؟ کچھ بھی تو نہیں‘‘!
نصرت کی آواز میں کچھ تھا، کِہ صفی تھوڑی دیر پہلے جو فیصلہ کر بیٹھا تھا، اُسے لگا اس فیصلے پر عمل کرنا آسان نہ ہو گا۔ رات جس شےکا نشہ دماغ میں خناس بھر رہا تھا، وہ نشہ تازہ ہونے لگا۔
”میں چائے پی کے، تمھارے سر کا مساج کرتا ہوں‘‘۔
”میں نے تو ایسا نہیں کہا‘‘؟ نصرت نے صفی کی پیش کش پہ حیرانی کا اظہار کیا۔
”تم نے نہیں کہا، لیکن مجھے تمھارا قرض نہیں رکھنا‘‘۔
”کیسا قرض‘‘؟
”تم نے میرے سر کا مساج کیا، اب جب تک میں بدلہ نہ چکاوں، چین نہیں آئے گا۔ تم بھی تو سارا دِن گھر کا کام کر کر کے تھک جاتی ہو‘‘۔ صفی کے اندر کا شکاری پوری طرح سے بیدار ہو چکا تھا۔
نصرت سوفے پر بیٹھی تھی؛ صفی اُس کے سر پہ کھڑا تھا۔ نصرت کے گھنیرے گیسو کھل کے اور بھی بہار دکھلانے لگے۔ صفی کو اُن میں سے مہک اُٹھتی محسوس ہوئی۔ وہ اپنی انگلیوں کے پوروں سے اُس کے سر کی جلد کا مساج کرنے لگا۔ نرمی سے اُس کو بھنووں کی چٹکی لی، کِہ تھکی آنکھوں کو سکون پہنچائے؛ کن پٹیوں کو محبت سے مسلا، کہ سر کا غبار جاتا رہے؛ اور انگلیوں کو دھیرے دھیرے کانوں کے پیچھے لے آیا۔ ایک مشاق شکاری کی طرح جانتا تھا، کہ عورت کے کان اور گردن کے کون سے حصوں کو چھونے سے موم پگھلایا جا سکتا ہے۔ موم پگھلتا دکھائی دینے لگا۔
نصرت کا سینہ تنا ہوا تھا، اُس کی آنکھیں بند تھیں۔ سرُور کی انتہا پہ آ کے اُس نے اپنا سر سوفے کی پشت سے ٹِکا دِیا؛ چہرہ اوپر کو اُٹھا تھا، جیسے دعوت گناہ دیتی ہو۔ بس صفی کو جھکنا تھا، اور اُس کے لب چوم لینے تھے۔ اُسے پتا تھا، یہی موقع ہے، اب ہمت نہ کر سکا، تو شاید کبھی نہ کر سکے۔ تصور ہی میں حفیظ اُس کے سامنے آ کھڑا ہوا، لیکن اُس نے تصور کو ایک زور دار کِک (ٹھوکر) لگا کے جھٹک دیا۔ تو کیا وہ اُس کو اپنا آپ سونپنے کو تیار تھی۔ کیا نصرت کا انگ انگ یہی پکار رہا ہے، کِہ پیش قدمی کرو؟ صفی متذبذب تھا۔ بہ ہر حال اب پیچھے ہٹنے کا کیا مطللب۔
جونھی اُس نے جھک کے اُس کے کپکپاتے ہونٹوں کا رس چوس لینا چاہا، اُسی لمحے بیرونی دروازے پہ دھڑ دھڑ ہونے لگی، ساتھ ہی ڈور بیل چنگھاڑی۔ اتنی محنت سے جو حصار باندھا تھا، وہ یک لخت ٹوٹ گیا۔ نصرت چھلانگ مار کے اُٹھی، جیسے نیند سے جگی ہو۔ دروازے کے باہر سے بچوں کی کلکاریوں کی آواز آ رہی تھی۔ پڑوسن بچوں کو واپس لے آئی تھی۔ نصرت دروازہ کھولنے کے لیے بڑھی، تو صفی کمرے میں چلا گیا۔
اس واقعے کے تیسرے روز ہی صفی، منیرہ کو منا کے گھر لے آیا۔ اُسے پتا تھا عورت سے دُوری اُسے گم راہی کی طرف مائل کر رہی ہے؛ گر چہ اُسے اندازہ تھا، کہ بیوی کو منا تو لایا ہے، لیکن اس کا خمیازہ اُسے منیرہ کے نخروں کی صورت بھگتنا پڑے گا۔ منیرہ اُن عورتوں میں سے تھی، جنھیں جتنی توجہ دو، وہ اپنے آپ کو اتنا ہی خاص سمجھنے لگتی تھیں۔ اُن میں سے تھی، جو جیون ساتھی سے جنسی ربط کو سودے بازی کے لیے استعمال کرتی ہیں؛ بستر کے تعلق کو اپنی کوئی بات منوانے سے مشروط کرتی ہیں۔
کوئی ہفتہ دس دِن ہوئے تھے؛ صفی پلٹ کے حفیظ کے گھر نہیں گیا۔ جو ہوا سو ہوا؛ اُسے اب وہاں نہیں جانا چاہیے۔ صفی اپنے فیصلے پہ قائم تھا۔ اُس نے اپنے آپ کو سمجھایا، کِہ کسی کا اعتبار توڑنا، انسانیت کی، دوستی کی توہین ہے۔ وہ اتنا گرا پڑا آدمی نہیں ہے، کہ جنسی میلان کے ہاتھوں مجبور ہو کے دوست کا مان توڑ دے؛ اپنے پرائے کی تمیز بھلا بیٹھے۔ گیارہویں روز نصرت کی کال آ گئی۔
”آپ کہاں ہیں، اتنے دِنوں سے آئے کیوں نہیں‘‘؟
یہ نصرت ساحرہ ہے، کِہ اِس کی آواز سن کے دل پگھلنے لگتا ہے۔ صفی نے دِل ہی دِل میں اعتراف کیا، لیکن زبان سے کہا۔
”مصروف ہوں؛ میں آ نہیں سکوں گا‘‘۔
”کب تک‘‘؟
”کچھ کَہ نہیں سکتا‘‘۔
”کوئی غلطی ہو گئی ہے، ہم سے؟ حفیظ سے، یا مجھ سے‘‘؟
”نصرت میں اس وقت بزی ہوں‘‘۔
صفی نے یہ کَہ کے کال منقطع کر دی۔ صفی کو لگا اُس کے سر سے کوئی بوجھ اُتر گیا ہے۔ اگلے آٹھ دس دن میں ایک دو بار حفیظ سے بات ہوئی، معمول کی بات چیت۔ نصرت جب جب کال کرتی، صفی کال رِجیکٹ کر دیتا، یا فون سائلنٹ موڈ پہ لگا دیتا۔ آہستہ آہستہ نصرت کی کال میں وقفہ بڑھا، اور ایک دِن یہ سلسلہ ختم ہوا۔
حفیظ کے گھر گئے مہینے ڈیڑھ سے اوپر ہو چلا تھا۔ ایک دن صفی گھر آیا، تو منیرہ منہ سجائے بیٹھی تھی۔ صفی کو خطرے کی بو محسوس ہوئی۔
مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

