من کا پاپی اور عشقِ ممنوع
”کیا ہوا ہے، تمھیں‘‘؟
”کیا کھیل کھیل رہے ہیں، تم‘‘؟ منیرہ نے کسی تمہید کے بہ غیر سیدھا تِیر چلایا۔ جب وہ بد تمیزی کرنے پہ آئے، تو ’آپ‘ کے بہ جائے، ’تم‘ پہ اُتر ٓاتی تھی۔
”کیا کیا ہے، میں نے‘‘؟
”اپنے دوست کی بیوی سے معاشقہ لڑاتے ذرا شرم نہیں آئی‘‘؟
”کیا‘‘؟
صفی کے پاوں تلے سے زمیں نکل گئی۔
اُسے معلوم تھا، منیرہ جب لڑنے پہ آتی تھی، تو اُس کی آواز چار گھروں تک جاتی تھی۔
”جو بات کرنی ہے، آرام سے۔ تحمل سے کرو۔ کیا بکواس لگا رکھی ہے، تم نے‘‘‘!
”بکواس؟ میں نے؟ یہ کیا ہے، یہ دیکھو۔ دیکھو یہ‘‘۔
منیرہ نے حقارت سے اپنا سیل فون سامنے کر دیا۔ صفی نے اُس کے ہاتھ سے فون لے کے دیکھنا شروع کیا۔ وٹس ایپ اپلیکیشن میں صفی اور نصرت کے پیغامات کے اسکرین شاٹ تھے۔ وہی میسجز جو وقتا فوقتا وہ ایک دوسرے کو بھیجا کرتے تھے۔ بیچ میں سے کچھ سوال جواب حذف کیے گئے تھے، تو ان کی ترتیب دیکھ کے ایسا لگتا تھا، جیسے صفی، نصرت سے معاشقہ لڑا رہا ہے۔ ان اسکرین شاٹس کو دیکھ کے صفی کے لیے اپنی صفائی میں کچھ کہنا ممکن ہی نہ تھا؛ پھر بھی اُس نے منیرہ کو سمجھانے کی نا کام کوشش کی۔ صفی کے دِل میں کبھی چور تو تھا ہی، بھلے سے وہ اب وہاں آنا جانا چھوڑ چکا تھا۔ اسے اُس دِن پہ افسوس ہوا، جب اُس نے نصرت کو منیرہ کا فون نمبر دیا تھا۔ منیرہ کچھ بھی سننے کو تیار نہ ہوئی۔ تھوڑی دیر میں اُس کا بھائی اُس کو لینے آ گیا۔ منیرہ بچوں کو لے جانے سے پہلے اتنا کَہ گئی۔
”میرا یہ احسان یاد رکھنا، کِہ میں نے تمھارے اس معاشقے کی خبر، تمھارے دوست حفیظ کو نہیں دی؛ ورنہ ہو سکتا ہے، غیرت میں آ کے وہ تمھارا قتل کر دیتا‘‘۔
منیرہ کے جانے کے بعد، بہت دیر تک صفی سر پکڑے بیٹھا رہا۔ آخر نصرت کو کیا سوجھی تھی، کِہ اُس نے منیرہ کو اُس سے بد گمان کیا۔ تو کیا اُس نے حفیظ کو بھی یہ سب کچھ بتایا ہو گا؟ یہ سوچ کر صفی لرز گیا۔ حفیظ کی نظروں میں اُس کی کیا وقعت رہ گئی ہو گی۔ سر درد سے پھٹنے لگا، تو اُس نے غصے میں آ کے نصرت کو کال کرنے کا فیصلہ کیا۔ بار بار کوشش کرتا رہا، ہر بار نصرت اُس کی کال کاٹ دیتی۔ صفی کا پارہ چڑھتا چلا گیا۔ ایسے میں اُس نے انتہائی احمقانہ فیصلہ کیا۔ گھنٹی بجانے پر دروازہ نصرت ہی نے کھولا۔
”آپ پلیز! پلیز کچھ بھی سمجھنے سے پہلے میری بات سن لیں‘‘۔ اس کے سامنے سوفے پر بیٹھی نصرت بہت گھبرائی ہوئی تھی۔
”تمھیں جو کہنا ہے، کہو؛ میرے گھر میں آگ لگانے کا تمھیں کیا فائدہ ہوا‘‘؟
صفی کا دُرشت لہجہ سن کے نصرت کی بیٹی نے رونا شروع کر دیا؛ ننھا بچہ بھی خوف زدہ نظروں سے صفی کو دیکھ رہا تھا۔
”آپ دو منٹ بیٹھیں، میں بچوں کو پڑوس میں چھوڑ آتی ہوں۔ ورنہ ہماری بات نہیں ہو سکے گی‘‘۔
نصرت کو پلٹنے میں کچھ دیر ہو گئی، اِس دوران صفی وہاں بیٹھا بل کھاتا رہا۔ نصرت گھر میں داخل ہوئی تو وہ دونوں ہاتھوں میں اپنا سر دیے بیٹھا تھا۔ اُس نے کھٹکا سن کے سر اُٹھایا؛ صفی کی آنکھیں شدتِ غم دہک رہی تھیں۔
”کیوں‘‘؟
صفی کے منہ سے صرف اتنا ہی ادا ہوا۔ نصرت نے اُسے ہم دردی کی نگاہوں سے دیکھا۔
”آپ کے سر میں درد ہو رہا ہے۔ میں تیل لاتی ہوں، آپ کے سر کا مساج کر دوں‘‘۔
نصرت یہ کہتے ایک طرف بڑھی؛ صفی رُندھے گلے سے پکارا۔
”میرے سوال کا جواب دو‘‘۔
نصرت نے ایک لمحے ٹھٹھک کے اُسے دیکھا، اور آگے بڑھ گئی۔ صفی کو اُس کی آنکھوں میں غم کا فسوں دکھائی دیا۔ وہ کمرے سے بر آمد ہوئی تو اُس کے ہاتھ میں تیل کی شیشی تھی۔ صفی اُس کے عجیب و غریب رویے پہ حیران تھا، کوفت بھی ہوئی۔
”میں نے کہا ناں، مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ نہیں ہو رہا میرے سر میں درد‘‘۔ صفی نے اپنے لہجے کی تلخی پہ قابو پاتے ہوئے کہا۔
نصرت اُس کے سامنے کسی بت کی طرح کھڑی رہی۔ دونوں ایک دوسرے کی نظروں میں نظریں ڈالے ہوئے تھے۔ ایسے میں نصرت نے التجائیہ لہجے میں کہا۔
”میرا سر درد سے پھٹا جا رہا ہے۔ پلیز میرے سر کی مالش کر دیں‘‘۔

