‘بھاگ بھری‘ کا ساون آئے، ساون جائے
صاحبو! اس سے پہلے کہ میرا ہم زاد مایوس ہو کر چل دے اور میری تنہائی کی آواز سے آواز ملانے والا کوئی نہ رہے، مجھے اس کی سننا ہوگی۔ جس طرح ایک بوڑھے باپ کا سہارا اس کی جوان اولاد کو سمجھا جاتا ہے اسی طرح ایک بے کار لیکھک کا سب سے بڑا سہارا اس کا ہم زاد ہوتا ہے۔ ہم زادگی کھو دینا پیر زادگی کھو دینے سے زیادہ تکلیف دِہ ہو سکتا ہے۔ سو مجھے اب اپنے ہم زاد کی پسند کی چند باتیں کرنا ہوں گی۔ یوں بھی اس کی یہ بات کچھ کچھ میرے بھی دل کو لگی ہے کہ میں غالباً فکشن کی روایتی تنقید کی ایک مشق میں لگ گیا ہوں۔ چلیں چھوڑیں۔۔۔ اب تک جتنی باتیں اس ناول کے حوالے سے کی گئی ہیں انھیں ننگی تصویروں سے کنوارے دن کاٹنے کی کوشش سمجھتے ہوئے نظر انداز کر دیں۔ آپ کے وقت کے ضیاع پر میں نادم ہوں۔
ضیاع سے ہی اصل بات کی طرف آتے ہیں کہ ‘بھاگ بھری‘ دورِ ضیا سے شروع ہو کر اس اَن دیکھے زمانے تک پھیلا ہوا ہے جب مذکورہ دور کی حشر سامانیاں اس پورے خطے کو ہڑپ کر جاتی ہیں اور یہاں سے زندگی ہمیشہ کے لیے روٹھ جاتی ہے۔ ناول نگار نے سرورق پر ‘بھاگ بھری‘ کے عنوان کے ساتھ ہی ایک وضاحتیہA Story of Nuclear Disaster دے کر قارئین کو کہانی کی بابت ایک اشارہ دے دیا ہے۔ ابھی صرف اتنا ہی کہوں گا کہ یہ ناول بندر کے ہاتھ میں استرا آنے کو موضوع بناتا ہے۔ ناول کے مختلف حصوں پر بات کرتے ہیں، یوں کہانی بھی خود بخود کھلتی جائے گی۔
‘بھاگ بھری‘ کے پہلے حصے میں دورِ ضیا کے دوران جنوبی پنجاب اور اندرون سندھ سے جہاد انڈسٹری کو میسر آنے والے خام مال کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان سمیت یہ پورا خطہ مذہبی جنونیت کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔ آج سے ایک ہزار سال بعد یعنی 3000ء کے انگلستان کا زمانہ ہے اور برباد ہندوستان میں باقی رِہ جانے والی محبت کی آخری علامت تاج محل کو برسوں کی محنت کے بعد دریائے جمنا کے کنارے سے اکھاڑ کر دریائے ٹیمز کے کنارے اتنے ہی باوقار انداز میں کھڑا کر دیا گیا ہے۔ دیوانے کا خواب ایک ایسی حقیقت بن چکا ہے کہ جس میں دلچسپی رکھنے والے کچھ طلبا اور ان کے ایک پروفیسر صاحب تاج محل دیکھنے کے بعد ہندوستان کی تباہی کی داستان سننے کے لیے جمع ہیں۔ البرٹ کئی قسطوں پر محیط یہ داستان سناتا ہے۔ اس دوران طلبا ہندوستانی تہذیب کے مختلف نمونوں پر مشتمل عجائب گھر کا دورہ بھی کرتے ہیں جنھیں دیکھنے اور البرٹ کی بیان کردہ داستان کی ہر قسط سننے کے بعد پروفیسر صاحب سوزن، فلپ اور جمیلہ وغیرہ کے ذہن میں اٹھنے والے سوالات کے جوابات دیتے ہیں۔ یہ جوابات صفدر زیدی کے مسلمانوں کی سیاسی تاریخ، تقسیمِ ہند سے پہلے کی صورتحال، تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان کے سیاسی حالات اور بالخصوص فوج اور ملاکے گٹھ جوڑ، سرحد کے دونوں اطراف مذہب اساس جنونیت اور اس کے اسباب، پاکستان میں سول ملٹری رِلیشن شپ،افغان وار اور ان سب سے قطع نظر انسانی نفسیات کے گہرے مطالعے پر اساس ہیں۔ مذکورہ سوالات و جوابات کا کہانی سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔ طلبا اور پروفیسر صاحب کہانی سے باہر کے کردار ہیں لیکن ان کی گفتگو ‘بھاگ بھری‘ کے قاری پر عصری تاریخ کے ان گوشوں کو وا کرتے ہیں جو ہمارے پالیسی اِنٹی لیکچوئیلزاور روایتی مورخین نے عام ذہنوں پر بند کیے رکھے۔
ناول کا مرکزی کردار ساون ہے جو ایک ہندو عورت بھاگ بھری کے ساتھ ایک وڈیرے جعفر شاہ کی جنسی ہوس ناکی کے نتیجے میں پیدا ہوا۔ وہ بچپن میں وڈیرہ شاہی کے ظلم سے بھاگ کر شہر کے ایک مدرسے کی دیوار تک پہنچ جاتا ہے اور پھر اس مدرسے کے مہتمم کی خصوصی شفقت کے سایے میں پل کر اپنے دور کا سب سے بڑا مجاہد بنتا ہے۔ مدرسے کی انتظامیہ [مستقبل کے جنگی تقاضوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے] اس کو غیر مختون رہنے کی رعایت دے دیتی ہے لیکن اس کا ذہن ہمیشہ کے لیے مختون کر دیا جاتا ہے۔ ساون وڈیرے کی طرف سے ملنے والی جسمانی سزا کے بعد اس زندگی سے بھاگ کر شہر آجاتا ہے اور پھر جوانی تک اپنے گاؤں اور اپنی ماں بھاگ بھری کی طرف نہیں لوٹتا۔ مدرسے کے مہتمم قاری سفیان اسے ہندو سے مسلمان کرکے خالد سفیانی کا نام دیتے ہیں۔ خالد سفیانی جب وہ سیکڑوں انسانوں کو مذہبی جنونیت کے زیرِ اثر قتل کرکے، مقامی و غیر مقامی آقاؤں کی طرف سے ملنے والی کئی خطرناک جنگی اسائن منٹس کامیابی سے مکمل کرکے اور افغانستان، کشمیر اور بھٹکی ہوئی ریاستِ پاکستان میں کئی سال تک جہادکرکے اپنی ‘ہر فن مولائی‘ اور ‘ہرسو انتہائی‘ اہلیت ثابت کرتا ہے تو اسے خالد سفیانی کی بجائے خالد خراسانی کا نام دے کرجلد متوقع غزوہ ہند کا کمانڈرمقرر کر دیا جاتا ہے۔ پھر یہی کمانڈرہندوستان میں یومِ جمہوریہ پر بم بلاسٹس کر کے پاکستان اور ہندوستان میں نیوکلیئر وار کی بنیاد رکھتا ہے۔ ناول کا پہلا حصہ پاکستان کی طرف سے دِلّی اور ہندوستان کی طرف سے اسلام آباد پر داغے گئے نیوکلیئر میزائیلوں کے دونوں اطراف کے مضبوط دفاعی نظام کی بدولت ڈی ٹریک ہو کرشمالی گلیشیئرز سے ٹکرانے پر ختم ہو جاتا ہے۔ صفدرزیدی نے کہانی کے اس حصے میں ریاست کی نظریاتی حدود متعین کرنے کے عمل سے لے کر مذہبی انتہا پسندی کے نتیجے میں بالآخرسامنے کھڑی حشرسامانی کا بہت عمدہ خاکہ کھینچا ہے۔ کسی بھی فکشن نگار کے لیے یہ امر آسان نہیں کہ زندگی اور اس سے جڑے ہوئے حقائق کی خارجی تصویر کے ساتھ ساتھ ایک ایسی داخلی تصویر بھی قارئین کے سامنے رکھے جس میں کرداروں کے جذبات و احساسات اور تجربات کو بعینہ محسوس کیا جا سکے، صفدر زیدی نے یہ کارِ کٹھن بھی انجام دیا ہے۔ دریں اثنا انھوں نے اس کہانی کے ساتھ خصوصی شفقت یہ فرمائی ہے کہ غیر صحت مند جذبات و احساسات اور انسانی تجربات کو صحت مند اور صالح بنا کر پیش کرنے کی کوشش ہرگز نہیں کی۔
‘بھاگ بھری‘ کے پہلے حصے میں صفدر زیدی نے ایک بڑے موضوع یعنی جہاد انڈسٹری کے فروغ کے ساتھ ساتھ کچھ ضمنی موضوعات کو بھی ابھارا ہے۔ مثلاً نوّے کی دہائی کے شیعہ سنی فساد اور اس میں بالخصوص کراچی، بلوچستان اور گلگت کے علاقوں میں ہونے والی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے خون بہانے والوں کی نفسیات کو بھی نشان زد کیا ہے۔ خون کی مہک انتہا پسندوں کے لیے آکسیجن کا درجہ حاصل کر لے تو اینگزائٹی میں وہ اپنا ہی خون بہا کر سکون محسوس کرتے ہیں۔ self-harmیا self-injury شدید تنہائی، غصے، رائیگانی وغیرہ میں پیدا ہونے والا ڈس آرڈر ہے۔ ساون عرف خالد سفیانی کو جب کچھ دن تک مدرسے کی چار دیواری میں قیام کرنا پڑتا اور اسے کسی کا خون بہانے کا ٹاسک نہیں ملتا تو وہ اپنے ہی جسم کو کٹ لگا کر بے چینی سے نکلنے کا سامان کرتا ہے۔ جب افغان وار کی لو تھوڑی سی ہلکی ہوئی تو ایسے مجاہدین کے ذہنی سکون کے لیے مقامی سطح پر مسلکی بنیادوں پر فساد کا بندوبست کیا گیا۔ ‘بھاگ بھری‘ ایسی کہانیوں میں جہاں کرداروں پر زیادہ فوکس ہومختلف موضوعات کی تھوڑی تھوڑی گنجائش نکلتی جاتی ہے۔ صفدر زیدی نے ایک سمجھ دار کہانی کار کی طرح ان سب گنجائشوں سے فائدہ اٹھایا ہے۔ جس طرح یہاں ایک نفسیاتی ڈس آرڈردکھایا گیا ہے اسی طرح انسانی نسل (race) یا بریڈ (Breed) کے تصورکو ابھارا گیا ہے۔ ناول نگار نے دکھایا ہے کہ ساون کے اندر چونکہ ایک جاگیردار وڈیرے کا خون ہے اس لیے اس کا مزاج اپنے باپ اور اس نسل کی طرح بہت تند ہے، اچھوت ماں کا بیٹا ہے لیکن بچپن میں ہی وڈیرے کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوتا ہے اور بھاگ بھری کے بار بار کہنے کے باوجود آنکھ نیچی کرتا ہے نہ معافی مانگتا ہے اور نہ ہی سزا سے ڈر کر خاموش ہوتا ہے، اِسی طرح مدرسے میں پہنچے کے بعد جب ایک دن وہاں کا کرتا دھرتا ملا سواتی اسے اپنی شہوانیت کا شکار بنانے لگتا ہے تو انجام کی پرواہ کیے بغیر وہ اس کا سرپھوڑ کر وہاں سے بھاگ جاتا ہے۔ اپنے ری ایکشنز میں ساون نچلی ذات کا ہندو نہیں بلکہ وڈیرے جعفر شاہ کا خون ہے۔
باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے



