‘بھاگ بھری‘ کا ساون آئے، ساون جائے


 ‘بھاگ بھری‘ کا مصنف معاصر سیاسی، سماجی اور مذہبی فضا کی عکاسی میں بھی بہت سنجیدہ نظر آتا ہے لیکن اس نے وفادار عاشق کی طرح اپنی محبوبہ یعنی کہانی سے رشتہ مضبوط رکھا ہے۔ کہانی خود ہی تاریخ لکھ رہی ہے۔ تاریخ کے اندر سے کہانی نکالنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ ہمارے یہاں دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے ہاں دہشت گردی اور انتہا پسند ی کے حوالے سے آج بھی یہ مقبول بیانیہ رائج ہے کہ اس عفریت کے بنیادی اسباب غربت، بے روزگاری، جہالت، نا انصافی اور بنیادی انسانی حقوق کاعدم حصول ہیں۔ یعنی اگر ریاست لوگوں کو ان کے بنیادی انسانی حقوق دیتی،انھیں انصاف ملتا، غربت اور بے روزگاری نہ ہوتی، تعلیم مہیا کی جاتی تو دہشت گرد پیدا نہ ہوتے۔ بہ ظاہر ‘بھاگ بھری‘ بھی اس بیانیے کی توثیق کرتا ہے کیونکہ ساون وڈیرے کے ظلم اور اپنی غربت کی وجہ سے گھر سے بھاگ کر جہادی مرکز پہنچتا ہے لیکن غور کیا جائے تو ظلم اور غربت سے بھاگنے والا کردار اس زندگی کا ٹارگٹ سیٹ کرکے نہیں بھاگا جو اسے ملی۔ ‘بھاگ بھری‘ کے پہلے حصے میں ایک جگہ 3000ء  کے انگلینڈ میں بیٹھے طلبا اور پروفیسر صاحب کے درمیان سوال و جواب کے سیشن میں مذکورہ بیانیے کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ایک مکالمہ ملاحظہ کیجیے:

سب سے پہلے فلپ نے سوال کیا کہ: ‘کیا غربت اور انتہا پسندی میں کوئی مضبوط رشتہ ہے؟ ‘

پروفیسر صاحب نے جواب دیتے ہوئے کہا:

‘نہیں غربت اور انتہاپسندی میں رشتہ ضروری نہیں۔ مثال کے طور پر پچاس کی دہائی میں پاکستان زیادہ غریب تھا، لیکن معاشرہ انتہاپسندی کی جانب مائل نہ تھا۔ جنرل ضیاالحق کے دور میں ملک میں ڈالرز کی ریل پیل تھی لیکن معاشرہ انتہاپسندی کی جانب مائل ہو گیا۔ وہ غربت نہیں جہالت ہے۔ اور اگر ایک نوجوان غریب بھی ہو اور ذہنی سطح بھی پست ہو تو اس کے دماغ کو انتہا پسندی کی جانب مائل کرنا قدرے آسان ہوتا ہے۔ ‘

۔۔۔ جمیلہ نے کہا: ‘ایک بڑی تعداد میں یونیورسٹیز سے فارغ التحصیل طلبا بھی انتہا پسندی کا شکار ہوئے۔۔۔ تو اس سے آپ کی بات کی نفی نہیں ہوتی کہ جہالت انسان کو انتہا پسندی کی طرف لے جاتی ہے ‘؟

پروفیسر صاحب نے مسکراتے ہوئے یوں جواب دیا:

‘مجھے تمہارے تنقیدی اندازِ فکر سے بہت خوشی ہوئی ‘۔ خود اس زمانے کی انتہا پسند دہشت گرد تنظیم کے رہبر ایمن الظواہری طب کے پیشے سے منسلک تھے۔ پاکستان، مشرق وسطیٰ بلکہ دنیا کے بیشتر ترقی پذیر ممالک میں تعلیم کی بنیاد ایسی نہیں ہوتی تھی کہ جس سے طلبا میں منطق کی بنیاد پر سوال کرنے کی اہلیت پیدا ہو سکے۔ مثال کے طور پر لوگ اگر میڈیسن پڑھتے تھے تو انھیں تاریخ یا فلسفے کا کچھ پتہ نہیں ہوتا تھا۔ بلکہ عجیب بات ہے کہ پاکستان میں تو ہائی اسکول تک میں جغرافیہ نہیں پڑھایا جاتا تھا۔ تاریخ کے نام پر جو کچھ پڑھایا جاتا تھا وہ تاریخ نہیں بلکہ کچھ اور ہی تھا۔ ایسے معاشرے میں یونیورسٹیز سے نکلے ہوئے طلبا کی اکثریت فکر سے عاری ہوتی تھی۔ اسی لیے یونیورسٹیز نے بھی جہادی کلچر کو ترویج دی اور وہاں سے باقاعدہ انتہا پسند نوجوانوں کے غول کے غول تیار ہوئے تھے۔ ‘

 اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گردی میں ملوث جتنے لوگ ہمارے یہاں سے پکڑے گئے ہیں ان میں سے بہت سے یونیورسٹیوں کے طلبا اور اساتذہ بھی تھے یا پھر اعلیٰ اداروں کے تعلیم یافتہ پروفیشنلز۔ جہالت کا تعلق اس روایتی تعلیم سے نہیں جو ہمارے اداروں میں دی جا رہی ہے بلکہ انسانی ذہن اور اس کی مختونیت سے ہے۔ جہاں تعلیم سرمایہ داری کے شکنجے میں چلی جائے وہاں ضرورت اور اہمیت ذہانت کی نہیں بلکہ اس رٹا لگانے والے کی ہوتی ہے جو کل کو اپنی تصویر کے سر پر ادارے کے اعزاز کا ٹائٹل اٹھا کرشہر کے بیچ چوراہے970 x 250 کے بل بورڈ پر آویزاں ہو سکے۔ منطق نام کی شے سے ہمیں کوئی واسطہ نہیں۔ فلسفے تو کوخیر سمجھا ہی شیطانی چیز جاتا ہے۔ گویا ہماری روایتی تعلیم میں سوچ کی سپلائی لائن بالکل منقطع ہے۔ ‘بھاگ بھری‘ میں دکھائے گئے مدرسے میں جب کہیں سے‘داستانِ امیر حمزہ ‘ اور‘رستم و سہراب ‘ نکل آتے ہیں توملّاؤں کے وضو شکست ہونے لگتے ہیں، اِسی طرح انھیں افلاطون، ارسطو اور ابنِ رشدکے افکار سے اپنی روایتی مذہبی تعلیم کے مقاصد خطرے میں نظر آتے ہیں۔ یہ صورتِ حال صرف ہمارے مدارس کی نہیں بلکہ اب تو اعلیٰ تعلیمی اداروں کی بھی ہے۔ صفدر زیدی نے ‘بھاگ بھری‘ میں مذہبی انتہا پسندی کو موضوع بنایا تو اسلام کے ساتھ ساتھ ہندوازم کے بنیاد پرستوں کو بھی اس خطے کی مفروضہ تباہی کا برابر حصہ دار ٹھہرایا ہے۔ اس طرف اِحیائے ہندوازم کی تحریکیں ہماری مذہبی تحریکوں کی نسبت زیادہ مضبوط ہیں۔ لیکن دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ‘بھاگ بھری‘ میں پاکستان کی طرف دکھائی گئی مذہبی انتہا پسندی کے پیچھے مقتدر قوتوں کا ہاتھ واضح ہے جبکہ ہندوستان کی طرف دکھائی گئی مذہبی انتہا پسندی از خود ایک ایسی قوت ہے جس کے سامنے مقتدر حلقے بے بس ہیں۔

 ناول کا دوسرا حصہ‘ایٹمی حملوں کے بعد ‘اور تیسرا حصہ‘خشک سالی کا دور ‘کے عنوان سے ہے۔ دوسرا حصہ نسبتاً مختصر ہے کیونکہ اس کا موضوع صرف پاکستان اور ہندوستان کے ایک دوسرے پر ایٹمی میزائل داغنے کے بعد آنے والی تباہی،اس کے ابتدائی مناظراور دونوں ممالک کی انتظامیہ اور فوج کا آفت کی گھڑی میں اپنے لوگوں کے ساتھ روّیہ ہے۔ ایٹمی میزائل دونوں اطراف کی دفاعی ڈھال ایکٹو ہونے پر ڈی ٹریک ہوئے تو شمالی گلیشیئرز سے ٹکرا کر ایک جناتی سیلاب کا باعث بنے۔ وہ سیلاب تاب کاری سے آلودہ زہریلا پانی لیے میدانی علاقوں کا مہا قاتل بن کر آگیا۔ سرحدیں ختم ہو گئیں اوروہ پانی دونوں اطراف کے لوگوں کو ان کے عقائد، نفرتوں، محبتوں، دکھوں، سکھوں اور مادی ترقی کے بڑے بڑے دعووں سمیت بہا کر وادی عدم کو لے گیا۔ مسجدیں، مندر، چرچ سب صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ ایک دوسرے کے منھ سے چھین کر اکٹھی کی گئی خوراک اور دولت کے ذخیرے بھی بہہ گئے۔ حکومتی مشینری کو البتہ بنیادی انفراسٹکچر کے ساتھ عارضی طور پر اونچے مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔ ہمارا دارلحکومت اسلام آباد چونکہ ویسے ہی اونچے مقام پر تھا سو وہ سیلاب سے محفوظ رہا لیکن خوراک کا ذخیرہ ختم ہونے پر وہ بھی بالآخر اجڑ گیا۔

 ‘بھاگ بھری ‘ کے تیسرے حصے میں سیلاب کا پانی اترنے کے بعد خشک سالی اور قحط کا دور دکھایا گیا ہے۔ وہ دور اِس خطے میں بالآخر زندگی کے خاتمے پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ ‘بھاگ بھری‘ کے دوسرے اور تیسرے حصے پر داستانی رنگ حاوی ہے۔ یہ دونوں حصے فنی اعتبار سے ناول کو کمزور بنا رہے ہیں تاہم بھاگ بھری کے اپنے بیٹے ساون اور اس کے مجاہد ساتھی معاویہ کے ساتھ مکالمے بہت جاندار ہیں۔ ان مکالموں میں بھاگ بھری کی لوک دانش اور اس کے بیٹے اور معاویہ کی مدرسہ جاتی برین واشنگ میں مقابلے کی فضا بھی ملتی ہے۔ ناول کے آخری حصے میں صفدر زیدی نے ساون اور معاویہ دو کرداروں کے ذریعے دو مختلف طرح کے حالات کا سامنا کرنے والے انسان دکھائے ہیں۔ ساون نے سیلاب کی تباہ کاریاں،سارے ملک کا اجڑنا، بھوک، افلاس اور لوٹ مار میں سے کچھ بھی نہیں دیکھا۔ وہ اور اس کی ماں سیلاب کے ریلے کے ساتھ لکڑی

ایک تخت پر تیرتے ہوئے ایک اونچے پہاڑ اور اس پہاڑ کے پار اللہ وسایا کی چھوٹی سی آبادی تک خیر و عافیت سے پہنچ گئے تھے اور پھر آٹھ برس وہیں مقید رہے۔ وہاں اللہ وسایا کی بیٹی سے شادی کے باوجود ساون کے دل سے جدال و قتال کا خیال گیا نہ ہی اسے اپنی سابقہ زندگی اور مہتممِ مدرسہ قاری سفیان کی طرف سے غزوہ ہند کی کمان کی ذمہ داری بھولی۔ جبکہ دوسرا کردار معاویہ ہے جو مجاہدِ وادی سوات ہے اور خالد کا پرانا ساتھی ہے۔ تباہ کن سیلاب، آبکاری سے آلودہ پانی کے اثرات،خشک سالی، بھوک کے لالے، لوٹ مار سب اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہے بلکہ اس کا حصہ رِہ چکا ہے۔ معاویہ کی ساری ‘ برین واشنگ ‘ سیلاب کی ساتھ ہی بہہ چکی ہے۔ جب یہ پرانے ساتھی اتفاقاً ملتے ہیں تو دونوں کے بیچ مکالمہ دیکھئے:

‘جہادی سرگرمیوں کی کیا اطلاعات ہیں؟ ‘

معاویہ نے جواب کہا: ‘اب کیسا جہاد اور کہاں کا اسلام ‘!

‘کیا مطلب ہے تمہارا ‘؟

معاویہ نے کہا: ‘ اب ہمارا جہاد صرف پانی اور خوراک پر قبضہ حاصل کرنا ہے ‘۔

خالد نے بہت سنجیدہ لہجے میں کہا: ‘اگر جہاد و قتال کے ساتھ اسلام کی دعوت نہ دی جائے تو جہاد باطل ہو جاتا ہے ‘۔

معاویہ نے کہا: ‘شاید تم کسی نئی دنیا سے اس دنیا میں وارِد ہوئے ہو، لوگ کھانے اور پانی کے سوا کوئی دوسرا لفظ نہ سننا چاہتے ہیں اور نہ ہی انھیں کوئی دوسرا لفظ سمجھ میں آتا ہے ‘۔

خالد نے جواب میں کہا:

‘حالات کیسے بھی ہوں، ہمیں یہ عہد نہیں بھولنا چاہیے کہ ہم کو سارے خراسان و ہند پر خلیفتہ المسلمین کا پرچم لہرانا ہے ‘۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5

خاور نوازش

ڈاکٹر خاور نوازش بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے شعبہ اُردو میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ اُردو اور ہندی تنازع کی سیاسی، سماجی اور لسانی جہات پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔ اُن کے پہلی کتاب‘ مشاہیرِ ادب: خارزارِ سیاست میں’ 2012ء میں مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد سے شائع ہوئی۔ ‘ادب زندگی اور سیاست: نظری مباحث’ کے عنوان سے اُن کی دوسری کتاب مثال پبلشرز فیصل آباد نےشائع کی۔ اُردو کی ادبی تحقیق و تنقید کے ساتھ ساتھ عصری سیاست اور سماجی موضوعات پر بھی لکھتے ہیں۔ اُن سے اس میل ایڈریس پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔[khawarnawazish@bzu.edu.pk]

khawar-nawazish has 5 posts and counting.See all posts by khawar-nawazish