وادی گوسر سے جاہلر لیک ویو پوائنٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب ہم نے اپنے گروپ ہائیکنگ ٹریکنگ اینڈ آرکیالوجی کے بینر تلے وادی سون کی ٹریکنگ کا سلسلہ شروع کیا تھا تو اس کا مقصد وادی سون کے ان حصوں کو ایکسپلور کرنا تھا جہاں لوگ بہت کم جاتے ہیں ساتھ ہی ساتھ یہ مقصد بھی تھا کہ مہینے میں کم از کم ایک دن ایسا ہو جب ہم اپنی مشینی زندگی سے ہٹ کر نیچر کے بہت قریب ہو کر کچھ وقت گزاریں ۔ نئے لوگوں سے ملیں ۔ ان کے ساتھ گپ شپ ہو ۔ لطائف کا تبادلہ ہو ۔ وہ جو دور دراز سے آئے ہیں تو ان کے خیالات سے شناسائی ہو ۔ کچھ نئے دوست بنائے جائیں ۔ ٹریکنگ کے لئے گھر سے نکلنے والے عام طور پر ایک جیسے ہوتے ہیں جنونی قسم کے لوگ جو بہت سی آسائشیں چھوڑ کر موسم کی شدت کو برداشت کرتے ہوئے اونچے نیچے پہاڑوں پر چلتے ہیں ۔ ایسے لوگوں سے دوستیاں بہت پائیدار ہوتی ہیں کیونکہ سبھی کو ایک جیسے شوق ہوتے ہیں ۔ جب سے ہم نے ٹریکنگ شروع کی بہت سے لوگوں سے دوستی ہوئی ۔ بہت سے عمدہ تجربات ہوئے ۔

تو جناب ہم نے اس سلسلے کے 19 ٹریک کئے اور اب ٹریک نمبر 20 کی تیاریاں تھیں ۔ وادی سون موسم گرما میں کچھ گرم ہوجاتا ہے اس لئے ٹریکنگ کا سلسلہ عارضی طور پر روکنا پڑ تا ہے ۔ لیکن عید الاضحیٰ آئی تو دوستوں کا اصرار بڑھا کہ اب اور انتظار نہیں کیا جاتا ۔ عید کا لطف دوبالا تبھی ہو سکتا ہے جب ایک عمدہ ٹریک بھی کیا جائے نائٹ کیمپنگ بھی کی جائے ۔کچھ طعام کا بندوبست بھی ہو نا چاہئے ۔ عدنان بھائی نے بھی شرکت کا اعلان کر دیا ۔

25 اگست کو ہم ایک ٹریک کا اعلان کیا تو بہترین ریسپانس ملا ۔ ابتدا میں بہت سے لوگ ٹریک میں شامل ہونے کا وعدہ کرتے ہیں لیکن جیسے جیسے ٹریک کا دن قریب آتا ہے احباب کو کوئی نہ کوئی ضروری کام یاد آنے لگتا ہے لیکن یہ واحد ٹریک تھا جس پر جتنے لوگوں نے آنے کا وعدہ کیا وہ سبھی آئے ۔ سوائے ایک بندے کے جس کی گاڑی رستے میں خراب ہو گئی تھی اور اس نے باقاعدہ طور پر گاڑی کا بونٹ کھول کر کچھ تصویریں وٹس ایپ کیں اور سزا کے طور پر اگلے ٹریک کا لنچ اپنے ذمے لیا ۔

وادی سون ضلع خوشاب کی ایک خوبصورت وادی گوسر ہماری منزل تھی جہاں سے ہم نے پیدل چل کر گھنے جنگلات سے گھری ایک چوٹی تک جانا تھا جہاں کی اونچائی سے  وادی سون کی تیسری بڑی جھیل جاہلر لیک کا دلکش منظر دکھائی دیتا ہے ۔ یہ ایک وسیع و عریض وادی ہے جہاں کئی چشمے پھوٹتے ہیں اور ماحول کو سرسبز بناتے ہوئے وادی میں دور تک اپنے پھیلاتے چلے جاتے ہیں ۔ وادی تک رسائی کا ایک ہی رستہ ہے اس لئے یہاں آمدورفت بہت کم ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں سیاحوں کو قدرتی ماحول ملتا ہے ۔

اس مرتبہ دوستوں کی شرکت نے سابقہ ٹریکس کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے ۔ایک لوکل سمیت بیسویں ٹریک میں بیس ٹریکر شریک ہوئے ۔ گروپ کی کور ٹیم کے لئےیہ واقعی ایک یادگا ر دن تھا ۔ اتنے ٹریکر کبھی ہمارے ساتھ نہیں آئے تھے جتنے اس گرم دن میں شریک ہوئے ۔ شائد ہمارے گروپ پر کچھ منحوس سائے تھے جن کی وجہ سے پچھلے کچھ ٹریکس میں چار پانچ ہی لوگ آ پاتے تھے ان منحوس سایوں کے ہٹ جانے سے جہاں گروپ کی مقبولیت میں اضافہ ہوا وہیں ٹریکرحضرات کی تعداد میں بھی قابل ذکر اضافہ ہوگیا۔

ہمارے گروپ کے بانی اور روح رواں عدنان عالم ملک اپنے بچپن کے دوست احسن بلال کے ہمراہ اسلام آباد سے علی الصبح چلے احسن بلال بینکر ہیں اور بینکر کا ہائیکنگ کا شوقین ہونا عجیب لگا لیکن احسن صاحب تو بہت عمدہ اور زندہ ٹریکر نکلے ۔ ذوالفقار احمد صاحب اپنے چھوٹے بھائی کے ہمراہ فیصل آباد سے آئے ۔ ہمارے گروپ کی سب سے دلچسپ شخصیت ممتاز ناظر صاحب نوشہرہ ورکاں ضلع گوجرانوالہ سے آئے  اور سب کو اپنا دوست بنا لیا۔ قمرالحسن میانوالی چشمہ بیراج سے تشریف لائے ۔ احسان اعوان سی ایم ایچ سیالکوٹ میں ہوتا ہے ۔ پہلے تو اس نے بتایا کہ وہ آئے گا ایک دن پہلے بتایا کہ عید پر چھٹی نہیں ملی نہیں آ رہا ۔ ٹریک سے ایک دن پہلے بتایا کہ چھٹی مل گئی ہے شام کو نکل رہا ہوں ۔ احسان ساری رات سفر کر کے صبح چار بجے وادی سون پہنچا اور نو بجے ہمارے ساتھ ٹریک میں شامل ہو گیا ۔

چنیوٹ کے وجدان ہاشمی نے چنیوٹ وائلڈ رائڈرز کے نام سے ایک بائیکر گروپ بنا رکھا ہے جو شمال کے کئی علاقوں ، کشمیر وغیرہ کی سیاحت کر چکے ہیں وہ تین عدد بائیکس پر اپنے پانچ ساتھیوں کے ہمراہ جمعہ کے دن چنیوٹ سے چلے اور وادی سون آن پہنچے ۔

ان سب احباب کی ملاقات ہوئی وادی سون کے مرکزی شہر نوشہرہ میں۔ جہاں عدنان عالم اعوان نے سبھی ممبران کو لذیذ ناشتہ کرایا ۔ جہاں ہمارے گروپ کے باقاعدہ ممبر نیاز اعوان اپنے کزن ارسلان اور عدنان احسن ملک بھی ان سے ملے اور یہ سب مل کر چلے  براستہ سُرکی وادی گوسر کی طرف ۔ حال یہ ہے کہ وادی سون میں جوں جوں سیاحوں کی آمدورفت میں اضافہ ہو رہا ہے وادی کی سڑکیں اسی تیزی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی ہیں اس وقت وادی سون  پر سیاحت کے فروغ کے لئے ایک ارب روپے سے زائدخرچ ہو چکے ہیں اور کوئی ایک بھی ایسی سڑک نہیں جس کو سیاحت کے فروغ کا نشان بنا کر پیش کیا جا سکے ۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •