مردانہ جسم میں پھنسی لڑکی اپنا نربان کروانا چاہتی تھی


وہ جوان آدمی تھا۔ تیس سال سے زیادہ عمر نہیں تھی اس کی۔ زخم جلدی جلدی بھر رہا تھا اور جسم میں بڑی تیزی سے طاقت آتی جارہی تھی۔ آپریشن کے چوتھے دن میں اپنے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا کہ اس نے دروازے پر دستک دی اور کمرے میں آ گیا۔

”کیا بات ہے نیلو‘‘؟ میں نے پوچھا۔
”ڈاکٹر صاحب! میں کتنے دنوں میں گھر چلی جاؤں گی؟ ‘‘
”جلدی بہت جلد، تین چار دنوں کے اندر ہی تمھیں بھیج دیں گے۔ ‘‘ میں نے جواب دیا۔

”آپ سچ کہہ رہے ہیں ناں؟ ‘‘ اس نے بے یقینی سے پوچھا۔
”میں سچ ہی کہہ رہا ہوں، مگر تمھیں اتنی جلدی کا ہے کی ہے؟ ابھی تو تم بالکل ٹھیک بھی نہیں ہوئے ہو، پھر تم نے مجھے بتایا بھی نہیں کہ تم نے یہ سب کچھ کیا کیوں؟ ‘‘
اس کے چہرے پر تاریکی سی آئی اور آ کر گزر گئی۔
’ڈاکٹر صاحب گرو کا تیرہواں ہو گا، ایک ہفتے کے بعد۔ اس وقت تک تو میں چلی جاؤں گی ناں۔ ‘‘ اس نے بڑی لجاجت سے پوچھا تھا۔

ضرور چلے جاؤ گے۔ ‘‘ میں نے یہ سمجھے بغیر جواب دیا کہ وہ اپنے آپ کو لڑکی کی طرح بلا رہا ہے۔ وہ میرے دوسرے سوال کا جواب دیے بغیر ہی کمرے سے باہر نکل گیا۔
آہستہ اہستہ اس کے زخم بھر گئے۔ ڈاکٹروں اور نرسوں نے بتایا کہ وہ ہر وقت ایک اُداس سی کیفیت سے دو چار رہتا ہے۔ اس کے سارے ملنے والے ہیجڑے تھے اور ہر وقت کوئی نہ کوئی وہاں موجود رہتا تھا۔ نرسوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ لوگ اس کا بہت خیال کر رہے ہیں۔ جو بھی چیزیں منگائی جاتی ہیں فوراً مہیا کر دیتے ہیں۔

میں بچپن سے ہیجڑوں کودیکھتا چلا آرہا تھا، مگر میں نے کبھی بھی ان کے بارے میں سوچا نہیں تھا کہ ان کی سماج میں حیثیت کیا ہے؟ یہ کہاں سے آئے ہیں؟ کون لوگ ہوتے ہیں؟ کیا ان کا گھر ہوتا ہے، ان کے خاندان ہوتے ہیں، رشتے ہوتے ہیں، ذمہ داری ہوتی ہے؟ اس قسم کے سوالات کا کبھی بھی کسی نے کوئی جواب نہیں دیا تھا بلکہ ایک عجیب نا محسوس طریقے سے میرے اور میرے جیسے بچوں کے ذہنوں میں یہ بات ڈال دی جاتی ہے، کہ یہ لوگ بھٹکے ہوئے ہیں، قابل نفرین ہیں، جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ لوگ انھیں چھیڑتے ہیں، ان کا مذاق اُڑایا جاتا ہے، انھیں تکلیف پہنچائی جاتی ہے اورمحلے کا کوئی بہادر مرد ان کو مارتا بھی رہتا ہے۔

نیلو میرے لیے ایک معما تھا۔ بہت سارے ہیجڑوں کا میرے وارڈ میں آنا جانا بھی میرے لیے بالکل ہی ایک نیا تجربہ تھا۔ میں دیکھ رہا تھا کہ کس طرح سے یہ لوگ ایک گروپ کی شکل میں آتے جاتے تھے، نیلو کی ایک ایک ضرورت کا خیال رکھتے۔ مجھے کچھ ایسا احساس سا ہوا کہ ہر وقت کوئی نہ کوئی وہاں موجود رہ کر نیلو کی اہمیت کا احساس دلا رہا ہے۔ ان لوگوں کے درمیان ایک مل جل کر رہنے کا جذبہ تھا، ایک کمیونٹی اسپرٹ تھی۔ ایک دوسرے کے لیے قربانی دینے کا جذبہ تھا اور ایک دوسرے کے لیے خلوص اورپیار کی بھر مار تھی۔

میں نے سوچا کہ نیلو کو ڈسچارج کرنے سے پہلے نیلو اور زلفی کو بٹھا کر ان سے باتیں کر کے ان کے اندر کے حالات کا پتا کرنے کی کوشش کروں گا۔ دوسرے دن صبح صبح میں اپنے کمرے میں پہنچا تو نیلو پہلے ہی سے میرے کمرے کے باہر میرا انتظار کر رہا تھا۔ ایک اُداس سی مسکراہٹ سے اس نے میرا استقبال کیا۔

”سویرے سویرے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خیر تو ہے؟ ‘‘ میں نے بھی مسکرا کر پوچھا۔ ”آ جاؤ اندر آ جاؤ۔ ‘‘
وہ اندر آکر میرے سامنے کرسی پر بیٹھ گیا۔
”بولو، کیا بات ہے۔ ‘‘ میں نے پوچھا۔

”ڈاکٹر صاحب! اپ میرے مائی باپ ہو، میرے سب کچھ ہو۔ آپ سے صرف یہ بولنے آئی ہوں کہ آپ کو کبھی بھول نہیں سکتی ہوں۔ آپ نے مجھے پورا کیا ہے، مجھے بنا دیا ہے، میری زندگی صحیح کردی ہے۔ گرو نے مجھے زندگی دی تھی، جب میں مرنے جا رہی تھی اس نے مجھے اپنایا تھا، بچایا تھا، سینے سے لگا کر گھر میں بسایا تھا، آپ نے اس زندگی کو جو گرو نے بچائی تھی، صحیح کر دیا ہے۔ اب میں صحیح ہو گئی ہوں تو گرو مر گئے ہیں۔ کیوں مر گئے ہیں، وہ ڈاکٹر صاحب! کیوں مر جاتے ہیں لوگ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سارے اچھے لوگ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ زلفی نے صرف اتنا ہی بتایا تھا کہ گرو کراچی کے ہیجڑوں کے ایک گروپ کا گرو تھا۔ وہ سب لوگ ساتھ رہتے تھے، ایک کمیونٹی کی صورت میں۔ سب مل کر کماتے اور مل کر ہی کھاتے تھے۔ ایک دوسرے کے غم سے آشنا اور ایک دوسرے کے سکھ دکھ میں شامل۔ نیلو ابھی نیا آیا تھا۔ گرو ہی اسے لے کر آئے تھے اور نیلو گرو سے شدید محبت کرتا تھا۔

میں نے ٹشو پیپر کے ڈبے سے ٹشو پیپر نکال کر نیلو کو دیا اور کہا، ”نیلو زندگی موت تو اوپر والے کے ہاتھ میں ہے۔ کوئی کیوں مرتا ہے، جیتا ہے یہ تو اسی کے کھیل ہیں؛ کوئی کیوں تمھاری طرح اور تمھارے گرو کی طرح رہتا ہے، یہ بھی اسی کے بھید ہیں۔ میں نے تو وہی کیا جو مجھے کرنا چاہیے۔ مجھے اس کے پیسے ملتے ہیں۔ حکومت تنخواہ دیتی ہے مجھے؛ مگر تم یہ بتاؤ تم نے کیوں کیا تھا ایسا؟ کیوں لے رہے تھے جان اپنی؟ تھوڑا سا اور خون بہہ جاتا تو تم مر جاتے۔ ایسے کوئی کاٹتا ہے اپنے آپ کو؟ ‘‘

میں نے دیکھا تھا کہ اس کی کاجل بھری بڑی بڑی آنکھوں میں آنسو کے قطرے ٹمٹا رہے ہیں، جو تھوڑی دیر میں آنکھوں سے چھلک چھلک کر گالوں پر بہتے ہوئے زمین پر ٹپکنے لگے تھے۔ میں نے ایک اور ٹشو پیپر اس کو دیا۔ خدایا، اس کی آنکھوں کا کرب اس کے اندر کا دکھ! میرے بہت اندر کسی انسان کی جیسے چیخ نکل گئی تھی، میں اُٹھ کر اس کے قریب چلا گیا اس کے ہاتھ کو پکڑ کر کہا، ”مت روو نیلو! مجھے بتاو، تمھارا کیا مسئلہ ہے؟ میں تمھاری مدد کروں گا۔ ‘‘

اس نے مجھے ایسے دیکھا جیسے اعتبار کرتا ہو۔ میں نے گھنٹی بجا کر ماسی رحیمہ سے کہا کہ چائے لے کر آئے اور فرج سے پانی نکال کر گلاس اس کے سامنے رکھ دیا۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5