مردانہ جسم میں پھنسی لڑکی اپنا نربان کروانا چاہتی تھی
انھوں نے سچ ہی کہا تھا۔ میں اپنی ماں سے ملا تھا، انھیں بتایا تھا کہ اب میں واپس نہیں آؤں گا۔ میں وہاں چلا گیا ہوں، دُور ان لوگوں کے درمیان جو میرے جیسے ہیں، جن کے جسم الگ ہیں اور روحیں الگ ہیں، جو نہیں رہ سکتے مکمل لوگوں کے ساتھ۔ میری ماں کے آنکھوں میں آنسو آئے تھے وہ گم صم بیٹھی رہی تھی، مجھے تکتی رہی تھی پھر کہا تھا، بیٹے خوش ہے ناں وہاں پر۔ بس خوش رہنا۔
گرو جی میرے نربان کی تیاری کر رہے تھے، انھوں نے بتایا تھا کہ ملتان میں بغیر درد کے بھی نربان ہوتا ہے۔ جس کے پچیس ہزار روپے لگتے ہیں۔ وہاں ایک حجام انجکشن لگا کر کرتا ہے، مگر انھوں نے کہا تھا کہ یہیں پر میری نربان ہو گی۔ شیلو کی نربان میرے سامنے ہی ہوئی تھی۔ اس دن صبح سے شیلو کو گرو جی نے خاص شراب پلانی شروع کی تھی، صبح نذرانہ بٹا، دعا ہوئی اور شیلو کے نیچے والے جسم کی جڑوں میں ربر کا پھندا ڈال دیا گیا۔ رات تک شیلو پورے نشے میں تھا اور جسم ربر کے پھندے کی دوسری جانب مکمل طور پر لٹک کر رہ گیا۔
پیپل کے پیڑ کے ساتھ ایک پہلے سے کھدے ہوئے گڈھے کے اوپر شیلو کو شیدا، چھنو، زلفی اور نجمہ نے پکڑ لیا تھا اور گرو جی نے تیز استرے سے ایک دھار مار کر ’جسم‘ جدا کر دیا، جو گڈھے میں گر گیا، وہ کہتے جا رہے تھے کہ تیرا مردانہ پن ختم ہو گیا۔ اس بہتے خون کے ساتھ مردانگی بہہ رہی ہے تو زنانہ بن رہا ہے، تو عورت بن گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد ڈیٹول میں بھیگی ہوئی روئی کے پھاہے کس کر باندھ دیے گئے اورشیلو سو گیا تھا۔ اس کے بعد دعوت ہوئی اور نذرانے کی بریانی سب نے کھائی تھی۔
میں نربان کے لیے تیار ہو گئی تھی اور جلد از جلد اپنے جسم کو مکمل زنانہ بنانا چاہتی تھی کہ یکایک گرو جی بیمار پڑ گئے۔ دیکھتے دیکھتے دو دنوں میں بخار چڑھا، ہم اسپتال لے گئے۔ سب کچھ کیا تھا، دوا، خون، دعا مگر گرو جی ہم سب کو چھوڑ کر چلے گئے۔ ڈاکٹر صاحب ہم لوگ جنازے خود نہیں اُٹھاتے ہیں، جنازہ بنا دیتے ہیں، تیار کر دیتے ہیں اور محلے والوں کے حوالے کر دیتے ہیں، وہی ان کی نماز پڑھتے ہیں اور وہی انھیں دفنا دیتے ہیں، مگر دفنانے سے پہلے ہم جسم کو پورا بنا دیتے ہیں، مکمل کر دیتے ہیں تا کہ قبر میں فرشتوں کو اپنی غلطی پر شرمندگی نہ ہو۔
گرو جی کا جسم بنانے کے لیے، انھیں پورا کرنے کے لیے مکمل بنانے کے لیے میں نے اپنا جسم کاٹا تھا۔ برا تو نہیں کیا، میں نے۔ مجھے تو مرجانا چاہیے تھا؛ ان کے لیے۔ انھوں نے مجھے نئی زندگی دی تھی، میں ان کے بغیر کیسے رہ سکوں گی، کیسے رہ سکتی ہوں۔ میرا سب کچھ تو انھی کا ہے، انھی کا تھا۔ انھوں نے مجھے سمجھایا تھا، سمجھا تھا، پیار دیا تھا، اپنایا تھا، اپنا بنایا تھا، مجھے اس سنسار میں جینا سکھایا تھا، میں اتنا تو کر سکتی تھی، اتنا تو حق تھا ان کا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہائے میں مر ہی کیوں نہ گئی۔ ‘‘
یہ کہہ کر اس نے آنکھیں بند کرلی تھیں۔
سب کچھ میری سمجھ میں آ گیا، میں نے کہا، ”تم وعدہ کرو، اپنی جان نہیں لوگی تو میں تمھیں کل ہی واپس تمھارے لوگوں میں بھیج دوں گا۔ جاو، ضرور جاو، گرو جی کے تیرہویں میں، وہیں رہو۔ وہاں سب کچھ ہے تمھارا۔ میں بھی تمھیں لڑکی سمجھتا ہوں۔ اب تم لڑکی ہی ہو۔ عورت بن گئی ہو، تمھارا نربان ہو چکا ہے، خوب صورت نام رکھا گیا ہے تمھارا، نیلو! تم اپنے نام ہی کی طرح خوب صورت ہو۔ ‘‘
اس کی آنکھوں میں خوشی کے قمقمے جل اُٹھے۔ مجھے لگا تھا جیسے دور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہیں دُور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہت دُور آسمانوں سے بھی اوپر سارے جہانوں سے بہت آگے، جہاں اندھیرے ختم ہو جاتے ہیں، جہاں روشنیاں ہی ہوتی ہیں، وہاں کہیں پر نیلو کے گرد دھیرے سے مسکرا رہے ہیں۔

