مردانہ جسم میں پھنسی لڑکی اپنا نربان کروانا چاہتی تھی


وہ مجھے غور سے دیکھتا رہا پھر بولا، ”ڈاکٹر صاحب! میں پیدا ہوا تو لڑکا تھا۔ ہر کوئی مجھے لڑکا ہی سمجھتا تھا۔ مجھے لڑکا ہی بنا کر پالا گیا، لڑکا ہی بنا کر بڑا کیا گیا، مگر میں لڑکا نہیں تھا۔ مجھے اپنی بہنوں کے ساتھ رہنا اچھا لگتا تھا۔ مجھے ان کے رنگ برنگے کپڑے بھاتے تھے، ان کے لمبے بال، ان کی رِبن، ان کی چوڑیاں، ان کی ایئر رنگ، ان کی لپ اسٹک، ان کی کریم اور ان کے پرفیوم سب اچھے لگتے تھے۔ میرا دل کرتا تھا مجھے ان کے کپڑے پہنائے جائیں مگر میری کوئی سنتا تھا۔

ایک دن اسکول سے آ کر میں نے اپنی بہن کے کپڑے پہن لیے اور اپنے آپ کو آئنے میں دیکھ رہی تھی، کہ میری ماں کمرے میں آ گئیں۔ میری ماں بڑی اچھی عورت تھیں، مجھے بے انتہا پیار کرتی تھیں، مگر اس کے باوجود وہ یہ برداشت نہیں کر سکی تھیں۔ انھوں نے اس دن مارا تھا مجھے۔ میری بہن کو ڈانٹا تھا جس نے مجھے کپڑے دیے تھے۔ مگر میرا شوق ختم نہیں ہو سکا، ان کی ڈانٹ مار اور بار بار کی سرزنش کے باوجود۔ میں بڑی ہو گئی۔ میری آواز بھاری ہو رہی تھی۔ مگر میں بنا بنا کر دھیمی دھیمی باریک آواز میں بولتی تھی۔ میری چال مردانہ تھی مگر میں لچک لچک کر لڑکیوں کی طرح چلنے کی کوشش کرتی تھی۔ میں لڑکیوں کے ساتھ رہنا چاہتی مگر مجھے لڑکوں کے ساتھ آنا جانا پڑتا تھا۔ کوئی بھی میری بات نہ سمجھتا اور نا ہی سمجھنے کی کوشش کرتا۔ یہاں تک کہ میں نے میٹرک کا امتحان پاس کرلیا۔

میرے بڑے اچھے نمبر تھے مجھے داخلہ بھی ڈی جے سائنس کالج میں ملا۔ میں پڑھنے میں بہت اچھی تھی ساتھ ہی مجھے اپنے آپ سے محبت اور اپنے جسم سے شدید نفرت ہوگئی تھی۔ میں ایک لڑکی تھی مگر قدرت نے مجھے ایک مرد کے جسم میں قید کر دیا تھا۔ ایک ایسا جسم مجھے دیا گیا تھا، جو میرا نہیں تھا۔ یہ کمر، یہ کولہے، یہ چھاتی تو کسی مرد کے تھے، جو نہ جانے کیسے میری روح کے حوالے کردیے گئے تھے۔ میری روح قید تھی ایک ایسے جسم میں جو اجنبی تھا میرے لیے۔ مجھے سمجھ نہیں آتا تھا، کہ کس طرح سے میں اپنے اس مردانہ جسم سے جان چھڑاؤں۔ میرے جسم کے اعضا میرے نہیں تھے۔

میں خواب میں دیکھتی تھی کہ میری چھاتیاں بن گئی ہیں، میری کمر نازک ہو گئی ہے اور میں امراؤ جان کی ”ریکھا‘‘ کی طرح اپنے جسم کو مٹکا مٹکا کر ناچ رہی ہوں۔ مگر یہ سب کچھ خواب ہی ہوتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دن اور رات مجھے مرد بن کر ہی رہنا ہوتا تھا۔ میں گھر میں اجنبی تھی اور گھر کے باہر لڑکے میرا مذاق اُڑاتے تھے۔ میں نے فرسٹ ایئر کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کر لیا۔ مگر اپنے اندر میں اکیلی تھی، بالکل تنہا۔ میں گھنٹوں اپنے چہرے اور مونچھوں کے بالوں کو نوچتی رہتی۔ اپنے آپ سے لڑتی رہتی اور اپنے اندر مرتی جیتی رہتی تھی۔ ‘‘

میں بڑی توجہ سے اس کی باتیں سن رہا تھا۔ میرے دماغ میں جیسے سنسناہٹ سی ہورہی تھی اور مجھے یقین تھا کہ میرے چہرے پر میرا تعجب عیاں ہو چکا ہے۔
”ڈاکٹر صاحب! آپ کو بھی حیرت ہو رہی ہے اورمیری ساری زندگی اسی قسم کی حیرتوں اور نفرتوں سے لڑتے ہوئے گز رگئی ہے، صرف گرو نے میری بات سمجھی تھی اور مجھے سکھ دیا تھا۔ کتنے اچھے تھے وہ۔ ایک عورت کے جسم میں قید مرد بھرپور مرد جنھوں نے مجھے زندگی کی بھیک دی، مجھے اپنایا۔ اور اس دنیا میں رہنا سکھایا تھا۔ ‘‘

”ہاں مجھے حیرت تو ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مجھے تم سے نفرت ہے۔ مجھ پر بھروسا کرو، میں تمھاری مدد کروں گا۔ ‘‘ میں نے جواب دیا۔
”مدد تو میری آپ کر چکے ہیں مگر میں آپ کو بتاوں گی کہ یہاں تک میں کیسے پہنچی ہوں۔ ‘‘

اس نے چائے کا ایک گھونٹ بھرا اور بولنے لگی، ”ڈاکٹر صاحب پھر میں نے انٹر بڑے اچھے نمبروں سے پاس کرلیا اور میرا داخلہ میڈیکل کالج میں ہو گیا، مگر میڈیکل کالج مجھے بالکل ہی راس نہیں آیا۔ وہ سب میرا مذاق اُڑاتے، مجھے تنگ کرتے، میری نقل کرتے، یہاں تک کہ میں رو رو دیتی تھی۔ ایسے میں مجھے سلیم ملا۔ وہ مجھے بہت اچھا لگا۔ اس نے میرا مذاق بھی نہیں اُڑایا۔ اچھے طریقے سے بات بھی کی تھی۔ میں ذہین تھی، پڑھنے میں بہت تیز ایک اسپیسی مین (speciemen) میں نے ہی اسے سمجھایا تھا۔ اس نے میرا شکریہ ادا کیا، پھر ہماری دوستی ہو گئی، ٹک شاپ پر پہلی دفعہ میرے چائے کے پیسے بھی اسی نے دیے تھے۔

وہ میری زندگی کا پہلا رومانس تھا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ میں اس پر عاشق ہو گئی تھی۔ وہ مجھے اچھا لگا، بہت اچھا۔ میں ہر وقت اس کے ساتھ رہنا چاہتی تھی، اس کے ساتھ گھومنا چاہتی تھی، لائبریری میں اس کے ساتھ بیٹھنا چاہتی تھی، مگر یہ سب کچھ نہ ہو سکا۔ لڑکے میرے ساتھ اسے بھی چھیڑنے لگے، اس کا بھی مذاق اُڑانا شروع کر دیا؛ پھر اس نے ایک دن بڑی درشتی سے مجھے اپنے ساتھ گھومنے سے منع کر دیا اور ہماری دوستی یکایک ختم ہو گئی۔

یہ صدمہ میں برداشت نہ کر سکی تھی۔ سلیم نے صحیح ہی کیا، اس کے لیے میں ایک لڑکا تھی اورلڑکے سے لڑکے کے تعلقات نہیں ہو سکتے۔ مگر مجھے پتا تھا کہ میں لڑکا نہیں ہوں، میں لڑکی ہوں، لڑکے کے جسم میں گرفتار۔ مجھے ایک بوتل میں بند کر دیا گیا تھا۔ مجھے نکلنا تھا اس بوتل سے اور بوتل ٹوٹ نہیں رہی تھی۔ میں نے میڈیکل کالج جانا بند کر دیا۔ میری ماں اورمیرے بڑے بھائی نے مجھے بہت سمجھایا پھر مجھے سول اسپتال ایک سائیکاٹرسٹ کے پاس لے گئے، مجھے ابھی تک وہ بدتمیز ڈاکٹر یاد ہے۔

میری ماں اور بھائی باہر بیٹھے ہوئے تھے۔ اس نے مجھے کئی لڑکے اور لڑکیوں کے سامنے ننگا کر دیا۔ میرے چاروں طرف گھوما، ایک ایک لڑکے لڑکی کو بلا کر دکھایا، پھر بڑے زور سے ہنس کر بولا کہ یہ بے وقوف اپنے آپ کو لڑکی سمجھتا ہے، میاں اپنا دماغ درست کرو، تمھیں اللہ نے مرد بنا کر بھیجا ہے، مرد ہی بن کر رہو۔ عجیب عجیب شوق ہیں لوگوں کے آج کل۔ اس نے اندر کی بھرپور نفرت کے ساتھ مجھے دیکھ کر کہا تھا۔ مجھے باہر بھیج کر پھر میری ماں اور بھائی سے بھی اس نے یہی کہا تھا۔ میری ماں رو دی۔ میرا بھائی پہلے ہی ناراض تھا اور اب مزید ناراض ہو کر مجھ پر چیخا تھا۔
”ہم سب کی زندگی اجیرن کردی ہے تم نے۔ تم یہ دماغ سے فتور نکال دو کہ تم ایک لڑکی ہو۔ تم مرد ہو! مرد ہو! مرد ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اورمرد بن کر رہو‘‘۔

میں گھر آ کر بے چین ہو گئی، میں کلنک کا ٹیکہ تھی، خاندان کے نام پر۔ لیکن میں کیا کرتی، کس طرح سے سمجھاتی کہ میں قدرت کا ایک مذاق ہوں۔ کہیں کسی سے غلطی ہو گئی ہے۔ میں مرد نہیں ہوں، میں لڑکی ہوں۔ کبھی کبھی میرا دل کرتا کہ چاقو سے اپنے جسم کے فالتو حصے کو کاٹ پیٹ کر پھینک دوں، شہر کے بیچ چوراہے پر ننگی کھڑی ہو کر اعلان کردوں کہ لوگو! لو دیکھو میں وہ نہیں ہوں جو تم سمجھتے ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں لڑکی ہوں! لڑکی ہوں! لڑکی ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !

میں کمرے میں بند رہتی، خدا سے دُعا کرتی کہ اللہ یا تو میرا جسم بدل دے، یا پھر اسے میرے ذہن کی طرح بنا دے۔ مگر میری دعائیں محض دعائیں ہی رہیں۔ میری التجائیں محض التجائیں رہیں، میری خواہشیں صرف خواہشیں رہیں۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5