مردانہ جسم میں پھنسی لڑکی اپنا نربان کروانا چاہتی تھی


ایک دن میری ماں نے مجھ سے کہا، کہ وہ مجھے ایک بابا کے پاس لے جانا چاہتی ہیں۔ انھوں نے بہت سے مسئلے حل کیے ہیں، وہ مجھے بھی ٹھیک کر دیں گے۔ میں خوشی سے بے قابو ہو گئی تھی۔ مجھے ایسا لگا جیسے میری دُعائیں رنگ لائی ہیں۔ اوپر والے تک میری آواز پہنچ گئی ہے، سن لی ہے پکار میری۔ میرے بنانے والے نے، کچھ ہونے والا ہے۔ میری قید ختم ہو جائے گی، ایک تتلی کی طرح اُڑوں گی میں۔ شاخ شاخ، درخت درخت پھول پھول۔ مگر وہ میری زندگی کا سب سے بھیانک تجربہ ہے۔

اس بابا نے میری ماں سے کہا تھا کہ میرے اوپر سایہ ہے اور ہندوؤں کی ایک خبیث روح نے میرے جسم میں گھس کر مجھے ناپاک کردیا ہے۔ مجھے تعویذ باندھ دیا گیا اور بابا نے کہا کہ اکیس دن کے عمل کے بعد میرا دماغ خود بخود درست ہو جائے گا۔ بابا نے کمرا بند کر کے اکیلے میں مجھ سے کہا تھا کہ مجھے یہ ڈھونگ چھوڑنا ہو گا، جیسے وہ کسی روح سے بات کر رہا ہو، میرے سامنے روحانی بابا کی تصویر چٹخ کر ٹوٹ گئی، مجھے اندر سے پتا تھا کہ یہ جھوٹا ہے، یہ جھوٹ بول رہا ہے۔

میرے اندر خبیث ہندو کی روح نہیں ہے۔ یہ لوگ سمجھتے کیوں نہیں ہیں؟ یہ مانتے کیوں نہیں ہیں؟ ماں کے پیٹ میں اگر فرشتے انسان کو بناتے ہیں تو کیا فرشتوں سے غلطی نہیں ہو سکتی۔ میں نے ماں کے کہنے پر تعویذ بھی باندھا، بابا نے پیسے لے کر اکیس دن کا وظیفہ بھی کیا مگر میں نہیں بہل سکی۔ سوائے میری ماں کے میرے تمام گھر والے مجھے دیوانہ سمجھنے لگے تھے۔ وہ مجھ سے نفرت کرتے، میں ان کے لیے ایک شرمناک اشتہار بن کر رہ گئی تھی۔ مجھے بھی اپنے جسم سے مزید نفرت ہو گئی، مجھے اوپر والے کی اس نا انصافی پر شدید غصہ آنے لگا تھا۔

ایسے ہی ایک دن میری پریشان پریشان ماں مجھے ایک اور سائیکاٹرسٹ کے پاس لے گئی۔ میں اسے نہیں بھول سکتی ہوں۔ وہ مہربان چہرہ، وہ سمجھدار آنکھیں، انہوں نے بڑے غور سے میری بات سنی، میری آنکھوں میں دیکھا، میرے ہاتھوں کو تھاما اور بہت اچھے طریقے سے میری ماں کو سمجھایا کہ میں لڑکا نہیں ہوں، میں لڑکی ہوں اور میرا آپریشن ہونا چاہیے۔ میرے دل نے کہا کہ اس ڈاکٹرنی کے گلے لگ جاؤں، میری آنکھوں سے بے شمار آنسو چھلک گئے تھے۔

اس ڈاکٹرنی کی کوشش کے باوجود کوئی سرجن یہ آپریشن کرنے کو تیار نہیں تھا۔ وہ کہتے تھے، میں لڑکا ہوں اور مجھے لڑکے کی طرح ہی زندگی گزارنی چاہیے۔ اس ڈاکٹرنی کی کوششوں سے ایک سرجن آپریشن کرنے پر راضی ہو گئے مگر ستّر ہزار روپے کی رقم کا بندوبست کرنا آسان نہیں تھا۔ اس دن میں سرجن کے کمرے سے نکل کر سیون ڈے اسپتال کے سامنے رکشا تلاش کر رہی تھی کہ پہلی دفعہ کسی نے مجھے اس طرح سے مخاطب کیا تھا، کہاں جارہی ہو؟ کتنی خوب صورت لگ رہی ہو اور اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔ میں پگھل گئی تھی، برف کی طرح ٹھنڈی ہو کر پانی بنی تھی اور زمین پر پھیل کر بہہ گئی تھی۔ میں ان سے اپنا ہاتھ نہیں چھڑا سکتی تھی۔ ان میں ایسی ہی بات تھی۔ یہ گرو جی تھے۔

گرو جی نے مجھ سے کہا تھا کہ ان کے ساتھ چلوں اور میں انھیں انکار نہیں کر سکی۔ نہ میں نے اپنی ماں کو خبر کی نہ کسی کو گھر پر بتایا، اس دن گرو کے ساتھ بے ساختہ چل کھڑی ہوئی۔ وہ مجھے لی مارکیٹ کی اس گلی میں لے آئے، جہاں ہم سب رہتے ہیں۔ زلفی، نجمہ، شیلو، چھنو، باجی، مچھیرا، ملاح، شیدی اور بہت سارے میرے جیسے لوگ۔ اپنے اپنے گھروں سے نکلے ہوئے فطرت کی غلطیوں کے شکار۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ سب لوگ مجھے دیکھ کر خوش ہو گئے تھے۔ مجھے نہلایا گیا، پہلی دفعہ نئے زنانہ کپڑے پہنائے گئے، مجھے ایسا لگا جیسے میری رخصتی ہو گئی ہے۔ میں وداع ہو کر اپنے گھر آ گئی ہوں۔ گرو نے مجھے بے انتہا پیار دیا۔ میرا نام نیلو رکھا گیا تھا۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ تھوڑی دیر کے لئے خاموش ہو گیا۔ اس کی آنکھوں کی ساکت پتلیاں جیسے کسی ایک جگہ آ کر جم گئی تھیں، آنکھوں میں اس طرح ویرانی میں نے پہلے کبھی بھی نہیں دیکھی تھی۔ میرے اندر بھی جیسے ٹوٹ پھوٹ ہو رہی تھی۔ میں بھی فطرت کی بے رحمی پر جیسے ہاتھ مل کر رہ گیا تھا۔

”وہ بڑے اچھے تھے، ہم سب کا خیال رکھتے تھے۔ میری ماں کے بعد سب سے زیادہ پیار مجھے گرو ہی نے کیا۔ بڑا خیال تھا ان کو میرا۔ میں نے اپنی ماں کو بھی خبر نہیں کی، صرف اس لیے کہ اس سے فائدہ بھی کیا۔ میں تو ایک بوجھ تھی ان پر، ان کی بدنامی کا سبب، ان کی زندگیوں کا زہر، ان کی اپنی مکمل ناکامی کا جیتا جاگتا ثبوت۔ گرو جی نے مجھے سمجھایا تھا کہ ان کی دنیا اور ہے اور ہماری دنیا اور۔ وہ ہم میں نہیں آ سکتے، ہم ان میں نہیں جا سکتے۔ ہمیں یہاں رہنا ہے، انھیں وہاں رہنا ہے۔ ہماری تو روح بھی الگ ہوتی ہے۔ ان سے جدا، ہر ایک سے الگ۔

ان سے ہم لوگ صرف پیسے کمانے کے لیے ملتے ہیں۔ اپنا جسم بیچ دیتے ہیں، روح بیچتے ہیں۔ ان بڑے لوگوں کے پاس، وڈیروں اور جاگیرداروں کے پاس، پیسے والے عیاشوں کے پاس۔ جن کی پہچان الگ ہے، جن کے اصول الگ ہیں ان کے قانون جدا ہیں، یہ دوسری دنیا ہے، یہ بات مجھے اچھے طریقے سے پتا تھی، میں اسی جگہ سے یہاں آیا تھا۔ اُس دوسری دنیا سے اِس دنیا میں۔

گرو جی کی دنیا کے اپنے احوال تھے اور گرو جی کی دنیا بھی ایک الگ دنیا تھی۔ کوئی جبر نہیں تھا اس دنیا میں۔ جو لوگ بھی تھے یہاں اپنی مرضی سے تھے۔ گرو جی کی بات صحیح تھی، ہم جسم کے قیدیوں کی روحیں الگ تھیں۔ جو دوسری دنیا میں پیدا ہو کر پھنس کے رہ جاتی ہیں۔ گرو جی دُور ہی سے پہچان لیتے تھے، ایک کشش تھی ان میں۔ ایک سحر تھا ان کی باتوں میں، ایک جادو تھا۔ چند میٹھے بول تھے اور ہم سب اس گلی میں ان کے ساتھ خوشی خوشی رہتے تھے۔ انھی نے مجھے کہا تھا کہ اپنے گھر والوں کو بتا دوں کہ میں کہاں ہوں۔ ”بتا دو کہ تم خوش ہو۔ تیری ماں خوش ہوگی پگلے۔ ‘‘

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5