عمران خان نے کراچی کے کن لوگوں کو پاکستانی شہریت دینے کا اعلان کیا ہے؟

مچھر کالونی کے ایک احاطے میں تقریباً 15 خواتین اپنے بچوں کے ساتھ جمع ہیں، جن میں سے کچھ تو چار سال سے بھی کم عمر کے ہیں۔ ہر خاندان کے سامنے جھینگے کا ڈھیر موجود ہے، جس میں تہہ در تہہ برف رکھی گئی ہے تاکہ جھینگا سڑنے سے بچایا جا سکے۔
لکڑیوں اور سوکھے پتوں سے بنائی گئی اس جھونپڑی میں یہ خواتین جھینگے چھیل کر انہیں اپنے سامنے موجود بالٹیوں میں بھر رہی ہیں۔ احاطے کا فرش گیلا ہے اور جھینگے کو دھونے کے لیے ڈالے گئے پانی اور پگھلتی برف نے آپس میں مل کر بدبودار کیچڑ پیدا کر رکھا ہے۔
فاطمہ نامی ایک درمیانی عمر کی بنگالی خاتون احاطے میں ایک لکڑی کے تختے پر بیٹھی اپنے تین چھوٹے بچوں کے ساتھ جھینگا کاٹ کر چھیل رہی ہیں، ان سب کے ہاتھ مشینی انداز میں چل رہے ہیں۔
ان کے سامنے ایک پیالہ موجود ہے جس میں پوکر چپس کی طرح کے ٹوکن موجود ہیں۔ ان ٹوکنز پر ایک مقامی فش پراسیسنگ کمپنی کا نام درج ہے جس کے لیے فاطمہ کام کرتی ہیں۔ کمپنی انہیں اور ان کے بچوں کو ایک بالٹی جھینگا (تقریباً 15 کلو) صاف کرنے کے عوض 50 روپے مالیت کا ایک ٹوکن دیتی ہے۔
دن کے اختتام پر وہ تمام ٹوکن اکھٹے کرتی ہیں جن کی کُل مالیت تقریباً 400 سے 500 روپے بنتی ہے، کمپنی سے اپنا معاوضہ وصول کرتی ہیں اور اپنے گھر چلی جاتی ہیں، ان کے پورے خاندان کی دن بھر کی محنت کا معاوضہ یہ چند سو روپے ہیں جو ویسے تو بہت کم ہیں، لیکن دو وقت کی روٹی کے لیے کافی ہوجاتے ہیں۔
شدید ٹھنڈا جھینگا صاف کر کرکے فاطمہ کی انگلیاں گَل سی گئی ہیں۔ دن بھر کام کرنے کے بعد جب وہ اپنے گھر لوٹتی ہیں تو پھٹکری کے پانی میں اپنے ہاتھ ڈبو کر بیٹھ جاتی ہیں تاکہ بدبو سے چھٹکارہ حاصل کیا جائے، پھر وہ اپنے ہاتھوں کی کھوپرے کے تیل سے مالش کرتی ہیں اور انہیں گرمی پہنچاتی ہیں تاکہ اگلے دن کے کام کے لیے تیار ہوا جا سکے۔
وہ اس مشقت سے کم از کم جزوی طور پر ہی سہی، مگر بچ سکتی تھیں، اگر ان کے شوہر کام کر رہے ہوتے۔ جب وہ کام کرتے تھے تو وہ سمندر میں جا کر مچھلیاں پکڑتے اور ان کی بیوی کو صرف آدھی تعداد میں ہی جھینگے چھیلنے پڑتے تھے، اس وقت ان کے بچے اسکول بھی جایا کرتے تھے۔
مگر اب جبکہ سمندری حکام نے تمام ماہی گیروں کے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ سختی سے چیک کرنے شروع کر دیے ہیں تو ان کے شوہر کراچی میں غیر قانونی طور پر مقیم بنگلہ دیشی قرار پاکر گرفتار ہونے کے خوف سے سمندر پر نہیں جاتے۔ فاطمہ کہتی ہیں، ”وہ گذشتہ 6 ماہ سے مچھلی پکڑنے نہیں جاسکے“، انہوں نے اپنے بچوں کو اسکول بھیجنا بھی بند کر دیا ہے تاکہ وہ سارا وقت ان کے ساتھ کام کر سکیں۔
مچھر کالونی میں مقیم دیگر کئی گھرانوں کی بھی یہی کہانی ہے۔
19 سالہ غلام حسین، جو مچھر کالونی میں مقیم ہیں، شاید اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکیں کیوں کہ ان کے پاس شناختی کارڈ نہیں ہے۔ ایک مشہور برانڈ کے لوگو والی ایک پرانی بھوری ٹی شرٹ میں ملبوس غلام حسین کے چہرے پر موجود ہلکے بالوں کو نظرانداز کر دیا جائے، تو وہ اپنی عمر سے کہیں بڑے لگتے ہیں۔
حسین کی بات چیت میں انگلش کے فقرے اور حالاتِ حاضرہ پر تبصرے بار بار سننے کو ملتے ہیں، وہ انٹر کے امتحانات کے لیے پرائیوٹ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ ب فارم، جو کہ ان کی پیدائش اور ولدیت کا ثبوت ہے، دکھا کر امتحانات میں بیٹھیں گے۔ مگر انہیں کسی کالج یا یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے لیے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ چاہیے ہوگا، جو کہ ان کے پاس نہیں ہے۔
حسین نے حال ہی میں کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ کے لیے درخواست دی تھی۔ ان سے پوچھا گیا تھا کہ آیا ان کے والدین پاکستانی شہری ہیں یا نہیں، انہوں نے اپنے والد کی چند دستاویزات پیش کیں جن میں ایک پرانا قومی شناختی کارڈ، ایک ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ اور الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ایک سرٹیفیکیٹ (جس میں ان کا نام ووٹر لسٹ میں موجود ہونے کی تصدیق کی گئی ہے) شامل تھے، لیکن نادرا دفتر میں موجود افسران نے ان کی درخواست مسترد کر دی۔ ان کے مطابق غلام حسین بنگلہ دیشی ہیں۔
حسین مچھر کالونی میں اپنے 58 سالہ والد کے ساتھ مٹھائی کی دکان پر کام کرتے ہیں، مگر انہیں یہ کام پسند نہیں، ان کا کہنا ہے ”میں دکان نہیں چلانا چاہتا، میں پڑھنا چاہتا ہوں۔ “
قیامِ پاکستان کے چند سال بعد کراچی میں تقریباً تین لاکھ بنگالی مقیم تھے۔ کراچی کی بنگالی برادری میں سرگرم سیاسی جماعت پاک مسلم الائنس کے سربراہ خواجہ سلمان خیرالدین کے مطابق ان میں سے زیادہ تر بنگالی گارمنٹ فیکٹریوں میں یا پھر ملازموں اور ڈرائیوروں کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔
خواجہ سلمان خیرالدین کے والد خواجہ خیرالدین تحریکِ پاکستان کے مرکزی رہنماؤں میں شامل تھے اور 1960 میں جب ڈھاکہ مشرقی پاکستان کا دارالخلافہ تھا، تب وہ اس کے میئر بھی رہ چکے تھے۔
خواجہ سلمان کے مطابق 1971 میں بنگلہ دیش کے قیام کے بعد ہزاروں بنگالیوں نے پاکستان چھوڑا، مگر زیادہ تر پھر بھی یہیں مقیم رہے، اس کے علاوہ 1971 کے بعد جب بنگلہ دیش کی معیشت پاکستانی معیشت کے مقابلے میں کہیں کمزور تھی، اُس وقت بھی بنگلہ دیش سے کئی افراد چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کی صورت میں روزگار کی تلاش میں کراچی آتے رہے، آج ان تارکینِ وطن کی تعداد کوئی دو لاکھ کے قریب ہے۔
پاک مسلم الائنس کے ایک سروے کے مطابق کراچی میں رہائش پذیر اور کام کرنے والے بنگالیوں کی مکمل تعداد 20 لاکھ کے قریب ہے، یہ کراچی بھر میں تقریباً 105 بستیوں میں مقیم ہیں جن میں اورنگی ٹاؤن (ضلع غربی)، ابراہیم حیدری اور بلال کالونی (ضلع ملیر)، ضیاء الحق کالونی اور موسیٰ کالونی (ضلع وسطی) اور مچھر کالونی اور لیاری بنگالی پاڑہ (ضلع جنوبی) شامل ہیں۔
یہ آبادیاں یا تو سمندر یا پھر صنعتی علاقوں کے پاس قائم ہیں کیوں کہ اس برادری کے زیادہ تر افراد یا تو ماہی گیری کی صنعت سے وابستہ ہیں یا پھر فیکٹریوں میں مزدوری کرتے ہیں۔
کراچی میں مقیم تمام بنگالیوں کا مطالبہ ہے کہ انہیں پاکستانی تسلیم کیا جائے۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے انہوں نے حالیہ قومی مردم شماری میں ایک اجتماعی حکمتِ عملی اختیار کی ہے، جب حکام ان کے گھر آتے ہیں تو وہ خود کو مردم شماری کے فارم میں دی گئی 9 زبانوں میں سے کسی کا بولنے والا درج نہیں کرواتے، اس کے بجائے وہ اپنی زبان ’دیگر‘ درج کرواتے ہیں کیوں کہ فارم میں بنگالی کا خانہ موجود نہیں، اس کے علاوہ وہ اپنی قومیت پاکستانی لکھواتے ہیں۔
خواجہ سلمان کے مطابق، مردم شماری کا عملہ قومیت کے بارے میں ان کا دعویٰ ایسے ہی تسلیم نہیں کر لیتا، اس کے بجائے وہ یہ اندراج صرف شناختی کارڈ، نکاح نامے یا شہریت کا کوئی اور ثبوت دیکھنے کے بعد ہی کرتے ہیں۔
مگر مردم شماری میں خود کو پاکستانی درج کروا لینے سے بنگالی خودکار طریقے سے پاکستانی نہیں بن جائیں گے۔ پاکستانی بنگالیز ایکشن کمیٹی کے صدر شیخ محمد سراج کے مطابق ایسا 1998 کی مردم شماری میں بھی کیا گیا تھا، مگر ان کے شہریت کے مسائل اس کے بعد بھی باقی رہے۔ ہاں کچھ ہوا ہے تو وہ یہ کہ ان کے مسائل میں شدت آ گئی ہے۔
پاکستانی شناختی دستاویزات حاصل کرنے کے لیے بنگالیوں نے جو ایک اور حکمتِ عملی اپنائی، وہ ہر قانونی اور غیر قانونی طریقے سے شناختی کارڈ حاصل کرنا تھا۔ جب شناختی کارڈ ہاتھ سے بنائے جاتے تھے، تب ان کی اکثریت کو شناختی کارڈ جاری کیے گئے تھے۔ جب 2000 کے اوائل میں نادرا کا ادارہ قائم ہوا اور شناختی کارڈ کمپیوٹرائزڈ کر دیے گئے، تب ان میں سے تقریباً تمام کے ہی شناختی کارڈ کمپیوٹرائزڈ کارڈز میں تبدیل کر دیے گئے۔
مگر گذشتہ چند سالوں سے حکومت نے پاکستان کے قانونی بنگالی شہریوں اور بنگلہ دیش سے آنے والے غیر قانونی تارکینِ وطن کو الگ کرنے کے لیے ایک مہم شروع کر رکھی ہے، سراج بھی ان ہی لوگوں میں سے ایک ہیں جن کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے، وہ 1980 میں بنگلہ دیش سے پاکستان آئے اور اپنی برادری میں موجود زیادہ تر لوگوں کی طرح کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ حاصل کرنے میں کامیاب رہے، جو کہ 2014 میں زائد المیعاد ہو گیا تھا لیکن حکومت ان کے شناختی کارڈ کی تجدید کی درخواست مسترد کر چکی ہے۔
سماجی کارکنوں کے مطابق حکام کئی جائز پاکستانی بنگالیوں پر خود کو غیر ملکی رجسٹر کروانے کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں۔ سراج کے اپنے بیٹے محمد حنیف کو 2005 میں غیر ملکی (ایلیئن) کے طور پر درج کیا گیا، بھلے ہی ان کی پیدائش 1988 میں پاکستان میں ہوئی اور ان کے پاس حکومتِ سندھ کا جاری کردہ پیدائشی سرٹیفیکیٹ بھی ہے۔ نیشنل ایلیئنز رجسٹریشن اتھارٹی (نارا) کی جانب سے حنیف کو جاری کردہ کارڈ پر ان کا ملک بنگلہ دیش، جب کہ ان کی قومیت بنگلہ دیشی تحریر ہے۔
یہ پاکستانی قانونِ شہریت 1951 کے خلاف ہے، جس کے مطابق ”اس قانون کے جاری ہونے کے بعد پاکستان میں پیدا ہونے والا ہر شخص پاکستانی شہری ہوگا“، حنیف کو اس قانون کے تحت پاکستانی شہریت نہ دینے کا صرف ایک طریقہ ہے اور وہ یہ کہ یا تو ان کے والد غیر ملکی سفارتکار ہوں، یا پھر ایک غیر ملکی دشمن۔
مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

