عمران خان نے کراچی کے کن لوگوں کو پاکستانی شہریت دینے کا اعلان کیا ہے؟

مگر پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے پناہ گزین کنونشن پر دستخط نہیں کیے ہیں، اس لیے یہ بین الاقوامی قوانین کے تحت کسی بھی پناہ گزین کو اپنے ملک میں پناہ دینے کا پابند نہیں ہے، اس کے علاوہ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) کے نزدیک صرف افغان ہی پاکستان میں پناہ گزین کی حیثیت رکھتے ہیں۔
56 سالہ مولا بخش کراچی کے علاقے لیاری کی بستی نوا لین کے رہائشی ہیں، وہ صحافیوں سے بات کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ انٹرویو کے دوران وہ بار بار اپنی کہی ہوئی باتوں کو خفیہ رکھنے کے لیے کہتے ہیں اور فکرمند ہیں کہ اگر حکام کو یہ باتیں معلوم ہوگئیں تو یہ ان کے خلاف استعمال ہو سکتی ہیں۔
مقامی ایرانی برادری کے دو دیگر افراد اسی وجہ سے صاف انداز میں صحافیوں سے بات کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ انہیں خوف ہے کہ اگر ان کی لسانی شناخت سامنے آگئی تو حکومت انہیں ایران ڈی پورٹ کر دے گی یا اس سے بھی برا یہ کہ ان پر ایران کے لیے جاسوسی کرنے اور دہشت گرد حملوں کی معاونت کا الزام لگا دیا جائے گا۔
ان کا یہ خوف بے بنیاد نہیں ہے، کچھ عرصہ قبل ہی لیاری سے تعلق رکھنے والے مبینہ گینگ لیڈر عزیر بلوچ کا اعترافی بیان منظرِ عام پر آیا تھا، جس میں انہوں نے ایران اور پاکستان کی دہری شہریت رکھنے اور ایرانی انٹیلی جنس حکام سے تعلق کا اعتراف کیا تھا۔ یہ بیان میڈیا میں 24 اپریل 2016 کو جاری ہوا جب یہ خبر سامنے آئی کہ عزیر بلوچ پر کراچی میں سینئر سیکیورٹی حکام اور حساس تنصیبات کی جاسوسی کرنے کے لیے فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔
کراچی کے علاقے لیاری کی بستیوں کمہار واڑہ، چاکیواڑہ اور میرا ناکا میں ایران سے تعلق رکھنے والے تقریباً 150 خاندان رہائش پذیر ہیں، یہ ایک کھلا راز ہے کہ ان کے ایران کے ساتھ خاندانی اور کاروباری تعلقات ہیں۔
ان خاندانوں کے ارکان کراچی اور ایران کے درمیان سفر کرتے رہتے ہیں، ان میں سے کئی افراد چادریں، پردے، چاول، دالیں اور سبزیاں پاکستان سے ایران برآمد کرتے ہیں، جبکہ خشک میوہ جات، مٹھائیاں، اچار اور قالین ایران سے پاکستان لاتے ہیں۔ یہ سارا کام قانونی ذرائع سے ہوتا ہے، کچھ لوگ ایران سے پیٹرولیم مصنوعات پاکستان اسمگل کرتے ہیں جبکہ پاکستان سے غیر قانونی طور پر لوگوں کو ایران بھی بھیجا جاتا ہے۔
ایسا ہی ایک خاندان محمد حسین کا ہے، جو اپنے فارغ وقت میں لیاری میں جماعتِ اسلامی کے فلاحی ونگ الخدمت فاؤنڈیشن کے کوآرڈینیٹر کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان کے دادا دادی ایران کے ضلع سرباز سے تعلق رکھتے تھے اور وہ خود 1950 کی دہائی میں اپنے بچپن میں لیاری آئے۔
گریجویشن مکمل کرنے کے بعد وہ 19 سال کی عمر میں سرباز چلے گئے، جہاں ان کی اپنی کزن سے شادی ہوگئی۔ ان کے خاندان کے کئی لوگ اب بھی ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان کے مختلف ضلعوں اور قصبوں میں رہائش پذیر ہیں جبکہ ان کے دو بچوں (ایک بیٹا اور ایک بیٹی) کی شادیاں بھی ایران میں ہوئی ہیں۔
ان خاندانوں کے ارکان، بشمول مولا بخش اور محمد حسین، نے ٹی وی پر عزیر بلوچ کے اعترافی بیان کی تفصیلات دیکھیں۔ مولا بخش کے نزدیک عزیر کی گرفتاری حیران کن ہے کیوں کہ ”اس پر ایک ایسے ملک کی جاسوسی کرنے کا الزام ہے جسے [پاکستان کا] دوست تصور کیا جاتا ہے، ان کے مطابق اس سے ”ان لوگوں کے لیے حالات مزید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوگئے ہیں جن کے خاندان [پاک۔ ایران] سرحد کے دونوں جانب موجود ہیں۔ “
مولا بخش کے والد ایران کے صوبے سیستان بلوچستان سے 1970 کی دہائی کے اواخر میں لیاری کے علاقے نوا لین میں آباد ہوئے تھے، اپنی وفات سے قبل وہ اپنے 7 میں سے چار بچوں کے لیے شناختی کارڈ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
ان کے مطابق ”1990 کی دہائی میں ان کے تین بھائی بحرین منتقل ہو کر وہیں مقیم ہو گئے“۔
اُس وقت انہوں نے یہ بالکل نہیں سوچا تھا کہ انہیں کبھی اپنی شہریت کے حوالے سے مختلف آپشنز پر غور کرنا پڑے گا، ”اس وقت تو ہجرت کرنے کی کوئی فوری ضرورت نہیں تھی“، مگر ان کا کہنا ہے کہ اب یہ ضرورت تیزی سے جنم لے رہی ہے۔
یہ اس لیے ہے کیوں کہ ایران اور پاکستان نے حال ہی میں سرحدی کنٹرول اور شہریت کے قوانین میں سختی کر دی ہے۔ گذشتہ تین سالوں میں مولا بخش نے دونوں ملکوں کے درمیان نقل و حرکت پر پابندیوں میں صرف سختی ہی آتے دیکھی ہے، نرمی نہیں۔
مولا بخش کے مطابق ایران کا سفری اجازت نامہ (جسے راہداری کہا جاتا ہے)، اب صرف 15 دن کی مدت کے لیے دیا جاتا ہے، انھوں نے بتایا ”اس سے پہلے ہم ایران میں 2 ماہ تک کے لیے بھی رہ لیتے تھے“، ان کے مطابق اب اگر کوئی معینہ مدت سے زیادہ دن ایران میں ٹھہر جائے تو 30 ہزار ایرانی تومان (تقریباً 1000 پاکستانی روپے) دینے پڑتے ہیں، یہاں تک کہ بسا اوقات مکمل سفری دستاویزات رکھنے والوں کو بھی ایران میں داخلے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
یہ پابندیاں ایران کے اس شک کی وجہ سے ہیں کہ تہران مخالف جنگجو ایران میں پاکستان کے ذریعے داخل ہوتے ہیں، رواں برس 26 اپریل کو 10 ایرانی گارڈز کو سیستان بلوچستان کے صوبے میں قتل کر دیا گیا تھا، جس پر ایران نے الزام عائد کیا تھا کہ یہ حملہ پاکستان میں موجود دہشت گردوں نے کیا، ایرانی بارڈر گارڈز پر اسی طرح کے حملے اپریل 2015 اور اکتوبر 2013 میں بھی ہو چکے ہیں۔
پاکستان میں لیاری اور جنوبی بلوچستان میں رہنے والے تقریباً 10 ہزار کے قریب ایرانیوں کو حالیہ دنوں تک سرکاری حکام کی جانب سے کسی مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑا، مگر یہ منظرنامہ بلوچستان میں 21 مئی 2016 کو افغان طالبان کے رہنما ملّا اختر منصور کی ایران سے پاکستان آتے وقت امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد تبدیل ہو گیا۔
اس کے علاوہ کم از کم ایک اور واقعہ پاکستان کے ایرانی سرحد پار کرنے والے لوگوں کے بارے میں بڑھتے شکوک و شبہات کا سبب ہو سکتا ہے، جب وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے انسدادِ انسانی اسمگلنگ سیل نے 10 اگست 2015 کو پنجگور سے تعلق رکھنے والے ایک نادرا اہلکار عبدالقدیر کو غیرملکیوں کو پاکستانیوں کے طور پر اندراج کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔
محمد حسین کے مطابق عبدالقدیر مبینہ طور پر پاکستان میں علاج کروانے کے خواہشمند ایرانیوں کو 10 ہزار روپے فی بندہ رشوت کے عوض پاکستانی شناختی کارڈ جاری کر رہا تھا، ان کے مطابق ”جن لوگوں نے قدیر سے سرحد پار سفر کرنے میں مدد لی تھی، انہیں خوف ہے کہ حکام اب انہیں گرفتار کرنے کے در پے ہوں گے۔ “
اس کے علاوہ ایران سے پاکستان میں داخل ہونے والے مبینہ ہندوستانی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گذشتہ سال گرفتاری اور عزیر بلوچ کے اعترافات کی وجہ سے حکام نے سختی بڑھا دی ہے۔
جب یہ بات سامنے آئی کہ ملّا اختر منصور کے پاس ولی محمد کے نام سے پاکستانی شناختی کارڈ اور پاکستانی پاسپورٹ تھا، تب سے حکام نے لیاری میں رہائش پذیر کئی لوگوں کے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ منسوخ کر دیے ہیں۔ محمد حسین کے مطابق منسوخ شدہ کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ زیادہ تر اُن لوگوں کے ہیں جو ایرانی بلوچ جڑیں رکھتے ہیں۔
ان کے مطابق لیاری اور بلوچستان کے علاقوں پسنی اور پنجگور میں رہنے والے تقریباً 40 فیصد ایرانیوں نے گذشتہ سال سے اب تک اپنی ایرانی شہریت کھو دی ہوگی۔
چوں کہ پاکستان اور ایران کا آپس میں دہری شہریت کا معاہدہ نہیں ہے، اس لیے وہ لوگ جن کے والدین یا دادا دادی ایران میں پیدا ہوئے تھے، ان سے پاکستان میں پیدائش کے ثبوت مانگے جا رہے ہیں، لیاری کے مقامی صحافی ابوبکر اپنے علاقے کے ”نادرا دفتر کے باہر ایک طویل قطار“ کا حوالہ دیتے ہیں، ان کے مطابق زیادہ تر لوگ اپنی پاکستانی شہریت کا ثبوت دینے کے لیے دستاویزات جمع کروانے کے لیے کھڑے ہیں۔
مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

