عمران خان نے کراچی کے کن لوگوں کو پاکستانی شہریت دینے کا اعلان کیا ہے؟

محمد عالم ایک بنگالی رکشہ ڈرائیور ہیں جو گلشنِ اقبال کے قریب رحمتیہ کالونی میں رہائش پذیر ہیں اور اپنا فارغ وقت سندھ ہائی کورٹ میں غیر ملکی قرار دیے گئے بنگالیوں کی ان کے مقدمات میں مدد کرتے ہوئے گزارتے ہیں، وہ کہتے ہیں، ”ہم بنگلہ دیشی نہیں ہیں، ہم کیوں ایلیئن رجسٹریشن کارڈ یا پھر کوئی اور عارضی شناخت قبول کریں؟ ایسا کرنا تو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم واقعی پاکستانی نہیں بلکہ غیر ملکی ہیں۔ “
کراچی کے بنگالیوں کے نام 1998 کی قومی مردم شماری سے اب تک انتخابی فہرستوں میں شامل رہے ہیں۔ 2008 اور 2013 میں جن کے پاس کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ موجود ہوں گے، انہوں نے ووٹ بھی ڈالے ہوں گے۔ درحقیقت خواجہ سلمان خیرالدین کی جماعت پاک مسلم الائنس نے 2008 میں تین امیدوار بھی کھڑے کیے تھے، جن میں سے دو سندھ اسمبلی اور ایک قومی اسمبلی کے لیے تھا، مگر کوئی بھی چند سو ووٹ سے زیادہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔
2013 کے انتخابات میں سندھ اسمبلی کے لیے پارٹی امیدواروں کی تعداد بڑھ کر 6 ہوگئی، مگر ملنے والے ووٹوں کی تعداد قابلِ ذکر نہیں تھی، اہم بات یہ ہے کہ یہ امیدوار پاکستانی شہری ہونے کے ٹھوس ثبوت کے بغیر انتخابات نہیں لڑسکتے تھے۔
سراج کہتے ہیں، ”ہمارا مطالبہ نہایت سادہ ہے، اگر ہم پاکستانی نہیں ہیں، تو ہمیں 1998 میں پاکستانی کیوں شمار کیا گیا؟ اور اگر تب ہم پاکستانی تھے، تو اب ہم سے ہماری شہریت کیوں چھینی جا رہی ہے؟ “ وہ اپنی برادری کی مزید خصوصیات بھی گنواتے ہیں جو ان کے نزدیک انہیں پاکستانی قرار دیتی ہیں، ان کا کہنا تھا ”اگر ہم یہاں رہتے ہیں، یہیں کماتے ہیں اور کسی اور ملک کو پیسہ نہیں بھیجتے تو پھر حکومت ہمیں کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ کیوں جاری نہیں کرسکتی؟ “
سراج نے کاغذات کا ایک بھاری پلندہ جمع کر رکھا ہے جس میں اخباری تراشے اور مختلف سیاسی رہنماؤں، سرکاری افسروں اور ریاستی اداروں کو لکھے گئے خطوط شامل ہیں۔ وہ اور ان کے ساتھی 24 مارچ 2017 کو سندھ کے گورنر محمد زبیر سے بھی ملے۔ سراج کے مطابق ”گورنر نے ہمارا معاملہ وزیرِ اعظم کے سامنے اٹھانے کا وعدہ کیا ہے۔ “
نیشنل ایلیئنز رجسٹریشن اتھارٹی (نارا، جو 2000 میں قائم ہوئی تھی مگر جسے 2016۔ 2015 میں نادرا میں ضم کر دیا گیا تھا) کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق حکومت صرف کسی کی زبان کی بناء پر کسی کی شہریت منسوخ نہیں کرتی۔
نادرا میں کام کرنے والے مذکورہ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ”ہم نے لوگوں سے کہا کہ وہ اپنی پاکستانی شہریت کے ثبوت لائیں — کوئی بھی چیز جو یہ ثابت کرے کہ وہ قانونِ شہریت پاکستان 1951 کی شرائط پر پورا اترتے ہیں، جب وہ یہ ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے تو پھر ہم ان کی شہریت منسوخ نہ کرتے تو اور کیا کرتے؟ “
لیکن وہ مانتے ہیں کہ کچھ غلطیاں ہوئی ہوں گی اور ہوسکتا ہے کہ کچھ پاکستانی شہریوں کو ”غیر ملکی“ کی فہرست میں ڈالا گیا ہو، مگر ان کے مطابق یہ غلطیاں کراچی میں مقیم بنگالیوں کے تمام کیسز کا صرف ایک فیصد ہوں گی۔
اراکان آباد برما سے تعلق رکھنے والی ایک بڑی آبادی کا مسکن ہے، جنہوں نے اپنے علاقے کو برما کے اُس علاقے کا نام دے رکھا ہے جہاں سے وہ ہجرت کرکے آئے تھے۔ یہ کورنگی کے علاقے ابراہیم حیدری سے ایک پتھریلی اترائی کے اختتام پر واقع ہے جہاں کی گلیاں ناہموار ہیں مگر کافی کشادہ ہیں، یہاں کے گھروں کے سائز مختلف ہیں مگر دیکھنے میں ایک ہی جیسے ہیں۔
30 سالہ شائستہ٭، اراکان آباد میں اپنے دو کمروں کے گھر میں لوہے کے دروازے کے پیچھے سے بات کر رہی ہیں، ان کے والدین گھر کے باہر ایک صحن میں رکھی بینچ پر بیٹھے ہیں۔ صحن کی دیواریں نہیں ہیں، اس کے بجائے بانسوں کے ذریعے خشک پتوں اور شاخوں سے بنائے گئے سائے کو سہارا دیا گیا ہے۔
اس شکستہ سے گھر کے مختلف حصوں میں صوفی بزرگ حضرت لال شہباز قلندر کی تصاویر آویزاں ہیں، ایک کونے میں ایک شوخ رنگ کا پرچم لہرا رہا ہے، جس سے یہ بات واضح ہے کہ اس گھرانے کے پاس اپنے مشکل دن گزارنے کے لیے روحانیت کے علاوہ کوئی سہارا نہیں ہے۔
ارکان آباد کے تمام لوگوں کی طرح شائستہ بھی پاکستان کی قانونی شہریت چاہتی ہیں۔ انہیں امید ہے کہ شہریت ملنے سے ان کے معاشی حالات بہتر ہوں گے یا کم از کم ان کے لیے صحت اور ان کے تین بچوں کے لیے تعلیم کے دروازے ضرور کھل جائیں گے۔
گذشتہ سال انہیں گائنی کے ایک مسئلے میں علاج کی ضرورت تھی مگر جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کے حکام نے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے ان کا علاج کرنے سے انکار کر دیا تھا، وہ اپنے تینوں بچوں کو کسی اسکول میں بھی داخل نہیں کرواسکتیں کیوں کہ ان کے پاس سرکاری پیدائشی سرٹیفیکیٹ نہیں ہیں۔
ارکان آباد کی ایک اور رہائشی بے بی، جو کہ 30 سال سے کچھ اوپر کی ہیں، کا مسئلہ بھی ملتا جلتا ہے۔ وہ ابراہیم حیدری کے قریب گھروں میں کام کر کے گزر بسر کرتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ ان کے تین بچوں، جو کہ 10 سال سے کم عمر کے ہیں، کو تعلیم مل جائے تاکہ وہ اپنے والدین سے بہتر زندگی گزار سکیں، مگر بے بی کی یہ خواہش تب تک پوری نہیں ہوگی جب تک وہ کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ حاصل نہ کرلیں۔
کراچی میں مقیم ہزاروں برمیوں کی طرح ان دونوں خواتین کے پاس شناخت حاصل کرنے کا واحد راستہ کسی نادرا اہلکار کو رشوت دے کر شناختی کارڈ حاصل کرنا ہے۔ شائستہ کی والدہ نے سنہ 2000 کے اوائل میں جاری ہونے والے اپنے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ کے زائد المیعاد ہوجانے پر یہی کیا، جب وہ تجدید کے لیے گئی تھیں تو نادرا حکام نے انہیں غیر ملکی قرار دیتے ہوئے انہیں نیا کارڈ جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا، مگر انہوں نے ایک ایجنٹ کو 8 ہزار روپے دیے اور اپنے شناختی کارڈ کی تجدید کروانے میں کامیاب ہو گئیں۔ شائستہ کی والدہ کے مطابق ”نادرا دفاتر کے باہر ایسے ایجنٹ ہر وقت پائے جاتے ہیں۔ “
شائستہ اور بے بی، دونوں ہی روہنگیا مسلم برادری سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہ برادری برما (میانمار) کے علاقے ارکان، جسے سرکاری طور پر راکھائین ریاست کہا جاتا ہے، سے کراچی آئی ہے۔ یہ علاقہ دوسری جنگِ عظیم سے لے کر اب تک تنازع کا شکار ہے۔ روہنگیا مسلمانوں نے بدھ مت کے پیروکاروں کے ہاتھوں شدید مشکلات اٹھائی ہیں جو کہ راکھائین اور میانمار کے دیگر حصوں میں اکثریت میں ہیں اور جن کے مطابق روہنگیا مسلمان برمی نہیں بلکہ درحقیقت بنگالی ہیں۔
1947 میں اور اس کے فوراً بعد کئی روہنگیا مسلمان مشرقی پاکستان کے اراکان سے قریب ہونے کی وجہ سے وہاں ہجرت کر گئے۔ آہستہ آہستہ انہوں نے مغربی پاکستان، بالخصوص کراچی کی جانب ہجرت کرنی شروع کی اور جنرل ایوب خان کے دورِ حکومت میں ریاستِ پاکستان نے انہیں میانمار میں نسل کشی سے بچنے کے لیے پاکستان میں کھلے دل سے خوش آمدید کہا۔
جنرل ضیاء الحق کی فوجی حکومت کے خاتمے تک یہ برادری چھوٹے چھوٹے گروہوں کی صورت میں کراچی آتی رہی اور خواجہ سلمان کے مطابق آج کراچی میں ”دو سے تین لاکھ کے قریب برمی بغیر شناخت کے کئی دہائیوں سے مقیم ہیں۔ “
حکومت اس حوالے سے الجھن کا شکار ہے کہ ان لوگوں کا کیا کیا جائے۔ پاکستان کے قانونِ شہریت 1951 کے تحت (کاغذی طور پر ہی سہی)، جو بھی شخص برِصغیر میں پیدا ہوا مگر اس قانون کے منظور ہونے کے وقت ’پاکستان‘ میں رہائش پذیر تھا، وہ پاکستانی شہری کہلائے گا، مگر گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کے تحت برما کو برِصغیر سے علیحدہ کر دیا گیا تھا، اس لیے روہنگیا مسلمان اس شق کے تحت پاکستان کے شہری نہیں بن سکتے۔
خواجہ سلمان کے مطابق ”انہوں نے خود کو کراچی کی بنگالی برادری میں ضم کر لیا ہے، اب وہ خود کو برمی بھی نہیں کہلواتے، ورنہ ان کے پاس قانونی [پاکستانی شہری] بننے کا کوئی جواز باقی نہیں رہے گا“، وہ کہتے ہیں کہ یہ برادری بھی خود کو مردم شماری میں پاکستانی بنگالی ہی لکھوا رہی ہے۔
برمیوں کا بنگالیوں میں ضم ہونا مشکل نہیں تھا کیوں کہ اراکان کے لوگوں اور بنگالیوں کے چہروں کے خطوط ایک ہی جیسے ہوتے ہیں، مگر پھر بھی روہنگیا مسلمانوں کے لیے شہریت حاصل کرنا آسان نہیں ہے، کیوں کہ لاکھوں بنگالی خود بھی شہریت حاصل کرنے کے لیے پریشان ہیں۔
ایک اور حل یہ ہوسکتا ہے کہ روہنگیا مسلمان پناہ گزین کے درجے کے لیے درخواست دیں، اگر انہیں یہ درجہ حاصل ہوجاتا ہے تو شائستہ اور بے بی بین الاقوامی امدادی اداروں کے ذریعے کم از کم اپنے لیے صحت اور اپنے بچوں کے لیے تعلیم کی سہولیات حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گی۔
مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

