عمران خان نے کراچی کے کن لوگوں کو پاکستانی شہریت دینے کا اعلان کیا ہے؟

وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے رواں برس 15 اپریل 2017 کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران جس بنیادی مسئلے پر بات چیت کی، وہ شہریتوں کا مسئلہ تھا۔ ان کے مطابق حکومت 174184 کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ منسوخ کر چکی ہے کیوں کہ وہ لوگ بلاشبہ غیر پاکستانی تھے۔
یہ بتائے بغیر کہ کتنے افراد کس ملک سے تعلق رکھتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ 3، 641 غیر ملکیوں نے اپنے پاکستانی شناختی کارڈ رضاکارانہ طور پر واپس کر دیے تھے، جن میں ہندوستانی، بنگلہ دیشی، افغانی اور عراقی شامل تھے۔
وزیرِ داخلہ کے مطابق حکومت نے کُل ساڑھے تین لاکھ سے زائد کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ بلاک کیے ہیں، ان میں سے سوا لاکھ شناختی کارڈ غیر افغان افراد کے پاس تھے، جس کا مطلب یہی نکلتا ہے کہ ان میں سے کچھ کراچی کے بنگالی، برمی اور ایرانی رہائشیوں کے پاس ہوں گے۔
منسوخ شدہ کارڈز کے علاوہ وزیرِ داخلہ کے مطابق باقی بچ جانے والے بلاک شدہ کارڈ 60 روز کے لیے کھولے جا رہے تھے، جس کے دوران ان افراد کو اپنی شہریت ثابت کرنے کا موقع دیا گیا اور ایسا کرنے میں ناکامی کی صورت میں انہیں غیر ملکی قرار دے کر شناختی کارڈ منسوخ کیے جائیں گے۔
وزیرِ داخلہ نے پھر دستاویزات کی وہ فہرست گنوائی جو لوگ اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے پیش کر سکتے ہیں، جس میں زمین کی خرید یا ملکیت کی ایک تصدیق شدہ دستاویز (چاہے رقبہ کتنا بھی کم کیوں نہ ہو)، ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ، محمکہ مال کا جاری اور تصدیق کردہ شجرہء نسب، تعلیمی دستاویزات، پاسپورٹ یا شناختی کارڈ، اسلحہ لائسنس اور کوئی بھی سرکاری طور پر جاری کردہ کاغذ، جو کہ متعلقہ محکمے کی جانب سے تصدیق شدہ ہو، شامل ہیں۔
ان تمام دستاویزات کے قابلِ قبول ہونے کی صرف ایک شرط ہے کہ یہ سب 1978 سے پہلے کے جاری شدہ ہونے چاہئیں۔
مگر کراچی میں اب بھی سماجی کارکنوں کی شکایت ہے کہ وزیرِ داخلہ کی ہدایات کے مطابق پاکستانی شہریت کے تصدیق شدہ ثبوت پیش کرنے کے باوجود اب بھی لاتعداد شناختی کارڈ بلاک ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ کے وکیل رانا آصف حبیب، جو کہ کراچی میں ایک غیر منافع بخش تنظیم انیشیئٹر ہیومن ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے سربراہ بھی ہیں، کہتے ہیں کہ شناختی کارڈ بلاک یا منسوخ کرنا حکومت کو پاکستان میں مقیم غیر ملکیوں، خصوصاً برمیوں اور بنگالیوں سے چھٹکارہ نہیں دلوا سکتا۔
ان کے مطابق یہ برادریاں یہاں اتنی بڑی تعداد میں موجود ہیں کہ انہیں ڈی پورٹ کرنا ناممکن ہے۔ درحقیقت پاکستان نے 1996۔ 1995 میں ہزاروں لوگوں کو بنگلہ دیش ڈی پورٹ کرنے کی کوشش کی تھی، مگر بنگلہ دیش نے انہیں واپس لینے سے انکار کر دیا، اس کے علاوہ پاکستان کی مذہبی جماعتوں نے بھی ڈی پورٹیشن کی سخت مخالفت کی۔
حبیب، جو کہ شہریت کے مقدمے لڑنے والے افراد کی جانب سے ہائی کورٹ میں پیش ہوتے ہیں، مانتے ہیں کہ حکومت کو جلد یا بدیر ان افراد کو پاکستانی شہری تسلیم کرنے کی پالیسی بنانی پڑے گی۔ ان کے مطابق ایسی کسی پالیسی کو بنگلہ دیشیوں اور بنگالیوں کے درمیان فرق کرنا ہوگا، وہ کہتے ہیں، ”[پاکستان میں] بنگالی ہونا جرم نہیں ہے، بلکہ بنگلہ دیشی ہونا [اور غیر قانونی طور پر ملک میں رہنا] جرم ہے۔ “
سحر بلوچ | بلال کریم مغل
اپ ڈیٹ 17 جون 2017
٭شناخت کے تحفظ کے لیے نام تبدیل کر دیے گئے ہیں۔
یہ مضمون ہیرالڈ میگزین کے مئی 2017 کے شمارے میں ’Strangers in the house‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔
(یہ مضمون ڈان نیوز میں جون 2017 میں "شناخت کے متلاشی کراچی کے بنگالی، برمی اور ایرانی” کے عنوان سے شائع ہوا تھا)
بشکریہ ڈان اردو

