عمران خان نے کراچی کے کن لوگوں کو پاکستانی شہریت دینے کا اعلان کیا ہے؟


ابراہیم حیدری کے علاقے سو کوارٹرز کا ایک بازار۔ — فوٹو محمد علی/وائٹ اسٹار

اتوار کی صبح بھی ابراہیم حیدری میں کافی چہل پہل ہے، بازاروں میں موٹرسائیکلوں، گاڑیوں اور رکشوں کا رش ہے جبکہ خریدار گھریلو اشیاء اور ماہی گیری کا سامان خریدنے میں مصروف ہیں۔

بکھرے بالوں اور باریک مونچھوں والے درمیانی عمر کے خیرالدین جنوب مشرقی کراچی کی اس ماہی گیر آبادی کی گہماگہمی میں ایک چائے کے ہوٹل کے باہر بیٹھے ہیں، باتیں کرتے وقت وہ تھوڑے گھبرائے ہوئے نظر آتے ہیں اور بولتے وقت کن انکھیوں سے ان 2 پولیس اہلکاروں کو دیکھتے رہتے ہیں جو پاس ہی اپنی گاڑی میں گھوم رہے ہیں۔

پولیس اہلکار ہوٹل کے پاس رکتے ہیں، ان کی باتیں سننے کی کوشش کرتے ہیں اور پاس کھڑے لوگوں سے ان کے بارے میں پوچھتے ہیں، پھر وہ کوئی ایکشن لیے بغیر وہاں سے چلے جاتے ہیں۔

خیرالدین کی اس گھبراہٹ کے پیچھے ایک وجہ ہے۔
چند دن قبل خیرالدین ایک مقامی جیٹی سے مچھلیاں خرید کر ابراہیم حیدری کے علاقے سو کوارٹرز میں واقع اپنے گھر لا رہے تھے کہ ان کا پولیس سے سامنا ہوگیا۔

واضح رہے کہ مذکورہ علاقے میں رہائش پذیر ماہی گیروں کی اکثریت بنگالی ہے۔

چند پولیس اہلکاروں نے انہیں روکا اور ان سے ان کا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ دکھانے کو کہا، خیرالدین کے پاس زائد المیعاد کارڈ تھا۔ ان کے مطابق پولیس اہلکاروں نے انہیں چھوڑنے کے لیے رقم طلب کی، جو انہوں نے دینے سے انکار کر دیا۔

پولیس اہلکار انہیں قریبی تھانے لے گئے۔ جب انہوں نے اگلی صبح تک خیرالدین کو چھوڑا تو تمام تر مچھلی سڑ چکی تھی، ان کے مطابق ایک لاکھ روپے کے اس نقصان نے انہیں مقروض بنا دیا ہے۔

خیرالدین کے پاس موجود کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ 2013 میں زائد المیعاد ہو چکا ہے، وہ اب بھی اسے اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ جب وہ اپنے کارڈ کی تجدید کے لیے نادرا کے دفتر گئے تو ان سے ان کے والدین کے شناختی کارڈ اور ان کے نکاح نامے طلب کیے گئے تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ ان کا خاندان 1971 میں سقوطِ ڈھاکہ سے پہلے بھی مغربی پاکستان میں مقیم تھا۔

انہوں نے 1970 کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں جاری ہونے والی یہ دستاویزات پیش کیں، مگر نادرا حکام نے پھر بھی ان کے کارڈ کی تجدید سے انکار کر دیا، نادرا کے مطابق خیرالدین پاکستانی نہیں، بلکہ بنگلہ دیشی ہیں۔

بقول خیر الدین، ”میں پاکستان میں پیدا ہوا ہوں اور ساری زندگی سے یہیں مقیم ہوں، میرے والدین بھی پاکستان میں رہتے تھے۔ ہمارا بنگلہ دیش سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ “

وہ اپنی بنگالی ماہی گیر برادری سے کئی دیگر مثالیں دے کر نادرا پر الزام عائد کرتے ہیں کہ جو افراد نادرا حکام کو رشوت دے سکتے ہیں، ان کے کارڈز کی تجدید آسانی سے ہوجاتی ہے۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں مقیم بنگالی برادری کے ساتھ کام کرنے والے سماجی کارکنوں کے مطابق اس رشوت کے ریٹ 5000 روپے سے لے کر 30، 000 روپے تک ہیں۔

خیرالدین کے ساتھ کھڑے ایک اور 30 سالہ شخص کے مطابق جو لوگ رشوت نہیں دے پاتے، انہیں واپس لوٹا دیا جاتا ہے۔

مچھر کالونی (اردو میں ماہی گیر بستی) کراچی کی سب سے بڑی اور سب سے پسماندہ کچی آبادیوں میں سے ایک ہے۔ شمال میں ریل کی پٹڑی اور ماڑی پور روڈ اور جنوب میں بحیرہ عرب کے درمیان قائم اس بستی کی آبادی تقریباً 85 ہزار نفوس پر مشتمل ہے اور پاکستانی بنگالیز ایکشن کمیٹی کے مطابق ان میں سے 75 فیصد کے قریب رہائشی بنگالی ہیں۔

مچھر کالونی کی گلیاں ناہموار اور گرد آلود ہیں، جہاں جابجا کچرے کے ڈھیر موجود ہیں اور سمندر کی نم ہوا، سڑتی ہوئی مچھلی، سیوریج کے کھلے نالوں اور جلتے ہوئے کچرے کی بو نے اس پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5