وہ لڑکی حسینی برہمن تھی اور میں شیعہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پھر اس نے مجھ سے شادی کرنے سے انکار کردیا۔ وہ مجھے کولمبیا یونیورسٹی نیویارک میں ملی تھی، اس دن میں اپنے ریسرچ کے کام کے سلسلے میں شعبہ تاریخ کی چیف ریبکا بروڈوسکی سے ملنے گیا تھا۔ ریبکا بہت پڑھی لکھی یہودن تھی جس نے وعدہ کیا تھا کہ میرے ریسرچ پروجیکٹ میں میری مدد کرے گی۔

میں بادشاہ ڈیوڈ کے زمانے میں فلسطینیوں اور یہودیوں کے تعلقات ان کی آپس کی جنگ اور پھر فلسطینیوں کا بادشاہ ڈیوڈ کی فوج میں شامل ہوکر اسرائیلیوں کے لیے کی جانے والی جنگ کے محرّکات پر ریسرچ کررہا تھا۔ میں سمجھنے کی کوشش کررہا تھا کہ کیوں فلسطینیوں نے ہی اسرائیل سے جنگ کی تھی پھر یہودیوں سے مل کر اور ان کے حامی بن کر غیر اسرائیلیوں سے لڑتے رہے تھے۔ ریبکا نے دو گھنٹے مجھ سے بات کی، بہت سارا کچھ پڑھنے کو دیا، مسکرا کر آخر میں بولی، ”تاریخ مسٹر، تاریخ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تاریخ سے سیکھنا چاہئیے، پر کوئی سیکھتا ہی نہیں۔ ‘‘ پھر یہ طے ہوا کہ پورے دس دن کے بعد میں اپنے آخری چند سوالات کے ساتھ دوبارہ آؤں گا۔

میری تحقیقات کے بہت سارے مسائل ریبکا نے حل کردیے۔ پاکستانی پروفیسروں کی طرح اس نے نخرے کیے اور نہ اس کی معلومات ہمارے پروفیسروں کی طرح سطحی تھیں۔ اس کا بھاری بھرکم جسم آنکھوں کے گرد پڑے ہوئے بڑے بڑے حلقے اور بات کرنے کا انداز بتارہا تھا کہ اس نے ساری زندگی پڑھنے اور پڑھانے میں گزاری ہے۔ اس کے بولنے کا انداز ایسا تھا جیسے وہ پڑھارہی ہو، سمجھا رہی ہو۔ ایسا انداز انہی لوگوں کا ہوتا ہے جنہوں نے زندگی درس و تدریس میں گزاری ہو۔ ہماری یونیورسٹی کے پروفیسر جو سرکار کی کاسہ لیسی میں عمر بِتاتے ہیں وہ پڑھا نہیں سکتے، سمجھا نہیں پاتے۔ میں اس کی باتوں اور علم دوستی کا بڑا قائل ہوکر باہر نکلا تھا۔

کولمبیا یونیورسٹی کے احاطے میں ہی مہاتما گاندھی کا ایک مجسمہ لگا ہوا ہے۔ میں وہاں کھڑا ہوکر گاندھی جی کے بارے میں عبارت پڑھ ہی رہا تھا کہ وہ مجھے نظر آئی۔ گھنے سیاہ بال جو کاندھوں سے ڈھلک کر ایک ڈھیلی چوٹی بناتے ہوئے کمر کے پیچھے بہت نیچے تک چلے گئے تھے۔ درمیانہ قد، جس پر صراحی جیسی طویل گردن میں بلا کا بانکپن اور سرکشی تھی، بڑی بڑی سیاہ آنکھیں دور سے ہی بڑی نمایاں تھیں اور ان پر بھنویں اس طرح سے پھیلی ہوئی تھیں جیسے دو شمعوں کی نگہبانی کررہی ہوں، وہ مجسمے کی طرف ہی آرہی تھی۔ نیلی سی جینز کے اوپر اس نے سبز رنگوں کے پھولوں کا کرتا سا پہنا ہوا تھا۔ وہ قریب آئی اور آکر گزرگئی خوشبو کے ایک جھونکے کی طرح۔ گرم دوپہرمیں بارش سے پہلے کی ٹھنڈی ہوا کی مانند۔

وہ سفید فام امریکن نہیں تھی، مجھے لگا کہ اپنی ہی طرف کی ہے۔ صاف ستھرا سانولا سا بالکل پنجابی رنگ، نہ گوروں کی طرح سفید، مگر پھر بھی اُجلا۔ میں اسے دیکھتا ہی رہ گیا گھنٹوں وہ میرے دماغ پر سوار رہی تھی۔ بار بار نظروں کے سامنے سے اپنے بالوں کے جھرمٹ میں قمقماتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ آہستہ آہستہ میرے پاس آکر دورجاتی نظر آتی رہی۔

اس دن تو اس نے مجھے شاید نہیں دیکھا لیکن دس دن کے بعد جب میں پروفیسر ریبکا بروڈسکی کے کمرے میں پہنچا تو وہ وہیں بیٹھی میرا انتظار کررہی تھی۔ پروفیسر بروڈسکی کی سیکریٹری نے میرا تعارف کرایا تھا۔

”یہ ہیں مسٹر ندیم حسین جن سے آپ کو ملنا ہے۔ ‘‘ اس نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، ”اور ان کا نام ہے گائتری دت، پروفیسر کے ساتھ ہی کام کررہی ہیں۔ میں ہیلو کہہ کر سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا۔ نہ جانے کسی طرح سے اپنے پھولتے ہوئے سانسوں کو قابومیں کیا تھا۔

”پروفیسر بروڈسکی کو یونیورسٹی کمیشن کے ایک اجلاس میں جانا پڑا ہے وہ تھوڑی دیر سے ہمیں جوائن کریں گی لیکن انہوں نے مجھے کچھ مضامین اور کچھ کتابیں دی ہیں وہ میں آپ کو بتاتی ہوں اور ہاں کچھ چیزیں یروشلم کے میوزیم سے فوٹو اسٹیٹ ہوکر آنی ہیں جس میں تھوڑی دیر لگے گی، اس کے بارے میں میں آپ کو تھوڑی دیر میں بتاتی ہوں۔ ‘‘

اس نے سمجھانے والے انداز میں ٹھہر ٹھہر کر مگر بڑی بے ساختگی سے مجھے سمجھایا تھا۔ میں گنگ سا ہوگیا جیسے وقت ٹھہر گیا ہو، پوری کائنات کے سارے سیارے ستارے اپنے اپنے چکّروں کو بھول کر اس کمرے میں مرتکز ہوگئے ہوں، اس جگہ پر جیسے جھرنا گررہا ہو اور پانی دھیرے دھیرے جلترنگ کا سُر نکالتا ہوا چھوٹے چھوٹے پتھروں پر بہہ رہا ہو۔ وہ اپنے پورے وجود کولیے ہوئے میرے ذہن و دماغ پر چھاگئی۔

”آپ ہندی جانتے ہو، میں ہندوستان سے ہی ہوں۔ ‘‘ اس نے مسکرا کر کہا تھا۔
”ضرور، اپنی زبان میں بات کرنے کا مزا ہی کچھ اور ہے۔ ‘‘ میں نے اسے اُردو میں جواب دیا تھا۔

پھر نہ جانے دو گھنٹے کیسے گزر گئے، مجھے یاد ہے اس نے مجھ سے بہت کچھ پوچھا تھا۔ میں نے کالی سیاہ کافی اور اس نے گرین ٹی لی تھی۔ وہ مضامین اور کتابوں کے بارے میں تفصیل سے بتاتی رہی۔ وہ دو دفعہ اسرائیل جا کر یروشلم کے میوزیم میں بہت سا کام کرچکی تھی۔ یروشلم کے پرانے کھنڈرات اور بادشاہ ڈیوڈ، شاہ سلیمان، ملکہ شیبا اور حضرت موسیٰ کے بارے میں مختلف حکایات و واقعات جیسے اس نے رٹے ہوئے تھے۔ میں نے بڑی حیرت سے الایزان کا قصہ سنا تھا۔

یہ وہ یہودی تھے جنہوں نے رومن بادشاہت کو قبول کرنے کے بجائے مسادہ قلعہ میں اجتماعی خودکشی کرلی تھی، ہزار کے قریب یہودی قید ہونے کے لیے تیار نہیں ہوئے تھے۔ غلامی کے خلاف فیصلہ کرچکے تھے اور خود ہی موت کو گلے لگا کر فنا ہوگئے تھے۔ اس نے بڑی تفصیل سے قصہ سنایا تھا، مجھے ایسا لگا تھا جیسے میں خود بنی اسرائیل کے مختلف سرداروں کے ساتھ مسادہ کے قلعے میں دوبدو جنگ کررہا ہوں۔ رومن سپاہیوں سے چھپ رہا ہوں ان پر جھپٹ رہا ہوں، حالت مایوسی میں خودکشی بھی کررہا ہوں۔ وہ ڈاکٹر ریبکا بروڈسکی کے ساتھ پی ایچ ڈی کررہی تھی۔

پھر پروفیسر بروڈسکی بھی آگئیں۔ جن سے میں نے اس الجھے ہوئے موضوع کے بارے میں مزید سوالات کیے تھے۔ باتوں باتوں میں پروفیسر نے کہا کہ بہت ہی اچھا ہوتا کہ تم اسرائیل سے ہوآتے اور خود کچھ پرانی چیزوں کو دیکھتے، محسوس کرتے۔ تاریخ کے کسی بھی موضوع پر کام کرنے کے لیے اس زمانے کے حالات کو اپنے اوپر طاری کرنا چاہئیے۔ اس زمانے کا ہی کردار بن کر کھوج لگانے کی ضرورت ہے۔ ایک ایک اینٹ پتھر برتنوں کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑے، لکڑی، لوہا، پیتل کے اوزار، ان سب کے پیچھے کوئی کہانی ہوتی ہے جس کو ہزاروں سال کے بعد ڈھونڈنا، کھوجنا پڑتا ہے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ تم پاکستانی ہو، یروشلم نہیں جاسکتے۔ اگر میرے پاس پہلے آتے تو شاید میں تمہیں موہنجوڈارو یا ہڑپہ کے کسی مسئلے پر کام کرنے کو کہتی لیکن چلو کوئی بات نہیں ہے۔ ابھی بھی جو ہوسکتا ہے وہ کریں گے لیکن ابھی تم کو بہت سارے مواد کی ضرورت ہے۔

اس نے میری حوصلہ افزائی بھی کی، ساتھ ہی یہ بھی احساس دلایا کہ مجھے ابھی بہت کچھ اور کام کرنا ہوگا۔ گائتری نے بتایا کہ وہ اگلے ہفتے یروشلم جارہی ہے تو کچھ چیزیں میرے لیے لے آئے گی۔ یروشلم یونیورسٹی یا اسرائیل کے دوسری یونیورسٹیوں میں لوگ ہیں جنہوں نے بادشاہ ڈیوڈ پر بڑا کام کیا ہے، ان سے میرے لیے مل بھی لے گی، فون اور ای میل پر رابطہ بھی کرادے گی۔ یہاں سے ہماری دوستی کا آغاز ہوا تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3