قصہ ایک سخت وزیر دفاع کی فضائیہ ہیڈکوارٹر میں لگی تصویر کا
1958ء میں تختہ الٹنے اور جنرل ایوب خان کے اقتدار میں آنے سے تھوڑا عرصہ پہلے فیروز خان نون کی کابینہ میں محمد ایوب کھوڑ و وزیر دفاع تھے۔ وزیر بنے تو پہلی بار ایئر ہیڈ کوارٹر کا معاینہ کرنے آئے۔ ایئر فورس کی طرف سے گارڈ آف آنر اور ایئر فورس کی کار کردگی اور کردار کے بارے میں جانکاری دینے کا فیصلہ ہوا۔ وزیر دفاع مقررہ وقت پر ایئر ہیڈ کوارٹر پہنچ گئے ان کے ساتھ ایک بچہ بھی تھا جو غالباً ان کا بیٹا تھا۔ بچہ کار میں بیٹھا رہا اور کھوڑو صاحب گارڈ آف آنر کا معائنہ کرنے لگے۔ لگتا تھا کہ ملٹری بینڈ کی دھنیں بڑے شوق سے سن رہے ہیں یہ غالباً ان کا پہلا پر مسرت تجربہ تھا ابھی چند قدم چلے تھے کہ ایک دم رک گئے۔ مڑ کے کار میں بیٹھے بچے کو دیکھا۔ بچہ بڑے شوق سے تماشا دیکھ رہا تھا۔ کھوڑو صاحب کو بھی خیال آیا کہ بچے کو بھی اس خوشی میں شریک کریں یعنی گارڈ آف آنر کا معائنہ وہ بھی کرے۔ انہوں نے وہیں بچے کو بلایا اور باقی معائنہ اس کے ساتھ مل کر کیا۔ اس کے بعد وہ میرے دفتر آئے تا کہ ایئرفورس کے بارے میں باخیر ہو سکیں۔
کچھ تعارفی جملوں کے بعد میں انہیں بتانے لگا کہ پی اے ایف کا کیا کام ہے اس سے کیا توقعات ہیں اس کی صلاحیتیں کیا ہیں اور مجبوریاں یا حدود کیا ہیں۔ چند منٹ کے بعد ہی میں نے محسوس کیا کہ وہ میری باتوں پر دھیان دینے کے بجائے دیوار پر لگی تصویروں کو دیکھتے جا رہے ہیں۔ یہ تصاویر بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح، پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان اور عہد حاضر کے وزیر دفاع ایوب کھوڑو کی تھیں۔ وہ ان تصویروں میں اس قدر مست ہوئے کہ میری تقریر سمیت باقی سب کچھ بھول گئے میں نے بھی تقریر وہیں ختم کی اور ان سے پوچھا کہ وہ کچھ پوچھنا چاہیں گے؟
انہوں نے فوراً کہا ” ہاں، آپ نے میری تصویر کیوں لگا رکھی ہے؟ “ میں نے بتایا کہ ”ایئر فورس 1947ء میں قائم ہوئی تب سے یہ رسم ہے کہ یہاں پر ایک تصویر بانی پاکستان کی ایک تصویر پہلے وزیراعظم کی مستقل طور پر لگی رہتی ہے تیسری تصویر حاضر وزیردفاع کی ہوتی ہے۔ آپ وزیر دفاع ہیں اس لئے آپ کی تصویر بھی یہاں موجود ہے۔ میری اس وضاحت پر کہنے لگے۔ ” اچھا مگر میرے پیش رو وزرائے دفاع کی تصویریں کہاں ہیں؟ میرا جواب تھا۔ مجھے معلوم نہیں۔ جب ان کی وزارت ختم ہوتی ہے یا ان کی جگہ کوئی اور آ جاتا ہے تو تصویر اتار لی جاتی ہے اور وہاں پر وزارت دفاع کی طرف سے نئے وزیر کی فراہم کردہ تصویر لگا دی جاتی ہے، مجھے افسوس ہے کہ ہمیں تیزی سے یہ تصویریں تبدیل کرنا پڑی ہیں۔ “
اس جواب سے کھوڑو صاحب کی تسلی نہیں ہوئی وہ جاننا چاہتے تھے کہ جو تصویریں اتار لی جاتی ہیں انہیں کہاں رکھا جاتا ہے۔ میں نے پھر جواب دیا کہ واقعی مجھے علم نہیں کہ وہ تصاویر کہاں رکھی گئی ہیں۔ شاہد کسی الماری میں۔ کہنے لگے مطلب یہ ہوا کہ جب میں وزیر نہیں رہوں گا تو میری تصویر بھی ہٹا دی جائے گی؟ میں نے کہا جی ہاں، اس کی جگہ نئے وزیر دفاع کی تصویر لگا دی جائے گا۔ “
کھوڑو کے بارے میں مشہور تھا کہ پاکستانی سیاست کے مضبوط مرد میدان ہیں اور اپنے پورے اختیارات استعمال کرتے ہیں۔ کہنے لگے مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی، آپ ایسے کریں کہ سارے پہلے وزرائے دفاع کی تصاویر اکٹھی کریں اور میری تصویر کے ساتھ لگا دیں۔ میں نے کہا کہ یہ ایک پرانی روایت ہے اور مجھے افسوس ہے کہ میں رسم توڑ نہیں سکتا۔ ان کا اصرار تھا کہ ایسا ضرور کیا جائے اس لئے بھی کہ وہ کبھی انکار سننے کے عادی نہیں ہیں میں اپنی جگہ پر جما کھڑا تھا اور کہہ رہا تھا کہ میں آپ کی ہدایت پر عمل نہیں کر سکتا۔ میں یہ تو کرنے کے لئے تیار تھا کہ ان کی تصویر ہٹا دی جائے مگر ان کو غصے کے عالم میں دیکھ کر میں ان سے یہ کہا نہیں۔ کھوڑو صاحب اس معمولی سی بات پر خاصا وقت ضائع کرنے اور ایئر فورس کے بارے میں مزید کچھ جانے بغیر ناراض سے ہو کر ایئر ہیڈ کوارٹر سے رخصت ہوئے۔
کسی سیاستدان سے میرا یہ پہلا سامنا تھا، مگر جب وہ سیاست سے ریٹائر ہو گئے تب میں انہیں بخوبی جان گیا تھا اور وہ مجھے اچھے بھی لگنے لگے تھے۔ میرا خیال ہے کہ اپنی مختصر المعیاد وزارت کے دوران فوج کے کمانڈر انچیف سے بھی ان کی کچھ جھڑپیں ہوئیں تاوقتیکہ جنرل ایوب خان نے فیروز خان نون کو حکومت اور کھوڑو صاحب کو وزارت سے ہٹا دیا گیا۔
کتاب ”یہ باتیں حاکم لوگوں کی“ سے اقتباس




