ایک اور موقع پر زیریں سندھ کی ایک جھیل پر شکار کھیلا گیا، شاہ ایران بھی آئے ہوئے تھے ساتھ ملکہ تھیں۔ شاہ کے ساتھ ان کے شکار کا داروغہ بھی تھا جس نے رسمی شکاری لباس بھی پہن رکھا تھا۔ اونچے بوٹ، پیٹیاں اور اس میں کوئی ایک درجن میخیں۔ اعلیٰ میزبانی کا مظاہرہ کیا گیا، یعنی جعلی انداز میں شاہ کے سامنے سے مرغابیاں اڑائی گئیں، پھر جھیل کے کنارے کھانے کا انتظام کیا گیا۔ اس موقع پر گفتگو میں ظاہر ہوا کہ شاہ ایران نے زندگی بھر اس قسم کا شکار نہیں کھیلا تھا۔ شاہ ایک نالی والی پانچ کارتوس والی گن استعمال کر رہے تھے اور توقع تھی کہ اچھی خاصی تعداد میں مرغابیاں گرا لیں گے۔ اہتمام یہ کیا گیا تھا کہ جھیل کے اندر کوئی نصف درجن شکاریوں کو کشتیوں میں بٹھا کر اصل یا تیار کیے گئے بٹ میں پہنچا دیا گیا جو شاہ ایران کی جگہ کے آس پاس ہی تھے۔ شکاریوں کے ایسے پلیٹ فارم اچھا نشانہ لینے میں مددگار ہوتے ہیں۔
شاہ ایران کوئی تین چار گھنٹے اپنی کمین گاہ میں رہے، کوئی ڈیڑھ سو فائر کیے جن سے تیس چالیس پرندوں کا شکار کی بجا طور پر توقع ہوسکتی تھی۔ میرا بٹ یا کمین گاہ شاہ کے قریب ہی تھی، میں نے دیکھا کہ شاہ کا نشانہ لگ نہیں رہا، پرندہ کم ہی گرتا ہے۔ شکار ختم ہوا، لوگ واپس اکٹھے ہوئے۔ دوپہر کا کھانا لگایا گیا۔ صدر اور شاہ کھانا کھا چکے تو صدر کا ملٹری سیکرٹری جو خود بھی بہت اچھا شکاری او ر نشانہ باز تھا ہر شکاری کے شکار کیے پرندوں کے تھیلے لے آیا۔ شاہ صدر شامیانے سے باہر آئے، ملٹری سیکرٹری شاہ کے پاس گیا اور بڑی سنجیدگی سے اعلان کیا ” عزت ماب آپ نے 35 مرغابیاں شکار کیں۔ “ شاہ نے حیرت سے کہا؟ ”کیا؟ میں نے تو ایک مرغابی بھی نہیں گرائی۔ “
Read more