کمانڈو سپاہی، محبت کا شاعر اور داود بانڈہ کا بھیڑیا


اسد ہمارے لانگ کورس کا بیسٹ جنٹلمین کیڈٹ تھا اور اس کے ساتھ اکیڈمی کا ملک الشعرا بھی تھا۔ ہم سب اس بات پر بڑا حیران ہوتے تھے کہ کہاں جنگ بازی اور کہاں شعر گوئی۔ یہ کس طرح ممکن ہے کہ کوئی اسد کی طرح لڑاکا سپاہی بھی ہو اور اس کے ساتھ ساتھ ایک شاعر بھی۔ اسد کی نظمیں رومان اور حقیقت کا دل فریب امتزاج رکھتی تھیں۔ ان میں عصری سماجی شعور کا احساس بھی جھلکتا تھا اور نوخیز چاہت کی میٹھی میٹھی کسک بھی تھی۔ دن بھر کی فوجی مشقوں کے بعد جب ہم تھک کر چور ہو جاتے اور کہیں پڑاؤ ڈالتے تو کبھی کبھی اسد سے نظم کی فرمائش کرتے۔ وہ نظم پڑھنا شروع کرتا تو ہمیں کسی اور ہی دنیا میں لے جاتا۔ ہمارے سارے دکھ درد ہوا میں تحلیل ہو جاتے۔

یہ بات سب سے پہلے میں نے ہی دریافت کی تھی کہ اسد کے رف ٹف وجود کے اندر ایک حساس شاعر اور دانشور بھی چھپا بیٹھا تھا۔ وہ تو اتفاقا اس کی ایک خفیہ ڈائری میرے ہاتھ لگ گئی تھی ورنہ اسد کا کوئی ارادہ اپنی شخصیت کے اس خوب صورت ترین پہلو کو منظر عام پر لانے کا نہیں تھا۔ ڈائری دیکھ کر میں اس کے پیچھے پڑ گیا تھا اور راز فاش کرنے کی دھمکی دے کر اس سے اس کی ساری نظمیں زبردستی سنی تھیں۔ اس دن اسد نے مجھے جتنا حیران کیا تھا وہ پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔ دوسری طرف وہ ایک بہترین لڑاکا سپاہی بھی تھا اور اکیڈمی سے بڑے سارے آنرز لے کر پاس آوٹ ہوا تھا۔ اس کےانسڑکٹرز کی متفقہ رائے تھی کہ وہ مستقبل کا فور اسٹار جنرل ہے۔

قدرت نے اسے خوب صورت قد کاٹھ کےساتھ ساتھ مردانہ حسن بھی وافر عطا کیا تھا۔ وہ چاہتا تو بڑی آسانی سے ایک کام یاب ماڈل یا فلمی ہیرو بن سکتا تھا۔ میں یہ بات اسد سے کہتا تو وہ ایک بلند بانگ قہقہہ لگاتا اور کہتا کہ وہ تو پیدا ہی سپاہی بننے کے لئے ہوا ہے اور اس کے علاوہ کوئی دوسرا کام اس کے بس کا نہیں ہے۔

اسد یاروں کا یار بھی تھا۔ خدا نے اسے دل بری اور دل داری کا ایسا منفردسلیقہ دیا تھا کہ جو کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ مجموعی طور پر اس کی ذات میں ایسی محبوبیت تھی کہ وہ شاید ہی کبھی کسی کو برا لگا ہو گا۔ میں تو اس وقت بھی اس سے نفرت نہ کر پایا تھا جب میری آنکھوں کے سامنے میری دنیا لٹ رہی تھی۔

لاہور کی سردیوں کی اس بادلوں سے ڈھکی شام سنبل سے ہونے والی اتفاقیہ ملاقات مجھے آج بھی یاد تھی۔ ہم تینوں مال روڈ کے ایک الگ تھلگ کیفے میں چائے کے سپ لیتے اور دیر تک باتیں کرتے رہے تھے۔ اسد اپنی معصوم سادگی میں سنبل پر سحر کرتا چلا گیا۔ وہ اس کے اندر ہونے والی بے پناہ اتھل پتھل سے بے خبر رہا تھا۔ لیکن میں نادان نہیں تھا۔ میں سنبل کو اتنے دنوں سے جانتا تھا کہ اس کے کچھ کہے بنا ہی اس کے رخساروں کے بدلتے ہوئے رنگوں کا مطلب جان سکتا تھا۔ میں دیکھ سکتا تھا کہ اس کی سرمگیں آنکھوں میں میری رات کے ستارے ڈوب رہے تھے اور اسد کے نام کا نیا سویرا طلوع ہو رہا تھا۔ اس شام جب ہم وہاں سے اٹھے تو سنبل مجھ سے نظریں چرا رہی تھی اور مجھے پتا تھا کہ کیوں۔ اسد کے سر پر دھماکا اس دن ہوا جب سنبل نے اس کے سامنے دل ہار جانے کا اقرار کر لیا۔

اسد میرے سامنے مجرموں کی طرح سر جھکائے ہوئے کھڑا تھا اپنی صفائیاں پیش کر رہا تھا معافیاں مانگ رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ سنبل تو کیا وہ میرے ایک اشارے پر یہ شہر یہ ملک بھی چھوڑنے کو تیار تھا لیکن دوستی کے نام پر داغ لگے یہ اسے کسی طرح گوارا نہ تھا۔ لیکن میں اس سے کیا کہہ سکتا تھا سوائے اس کے کہ مجھے اس سے کوئی گلہ نہیں تھا۔ اور یہ کہ اگر وہ اور سنبل ساتھ خوش تھے تو میں بھی خوش تھا۔ وہ سر جھکائے ہوئے خاموشی سے لوٹ گیا تھا۔

پھر ایک روز میں نے چپکے سےفوج سے استعفی دیا اور امریکا چلا گیا۔ کسی کو کچھ خبر کیے بغیر۔ پر دیس جا کر میں نے اپنے آپ کو وہاں کی ہنگامہ خیز زندگی کے سپرد کر دیا کہ فرار کی اس کے علاوہ کوئی اور صورت نہ تھی۔ ہستی کے اس پیا پے تسلسل سے میرا زخم مندمل تو نہ ہو سکا لیکن درد کی شدت میں کافی حد تک کمی آ گئی۔ میں نے وہاں مختلف قسم کی نوکریاں کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا، اور بالآخر ایک بنک میں اچھی ملازمت حاصل کرنے میں کام یاب ہو گیا۔ نوکری کے بعد شادی کی؛ پھر بچے اور پھر چل سو چل۔

باقی افسانہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے 

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5