کمانڈو سپاہی، محبت کا شاعر اور داود بانڈہ کا بھیڑیا
اب میری باری تھی۔ میں نے ہمت کی اور اپنا سوال اگل دیا۔
‘تم سناؤ سنبل۔ کیسی ہے زندگی۔ شادی۔ بچے۔ اور‘’۔
اگلا جملہ ادا کرنے کا حوصلہ پتا نہیں کیسے آ گیا مجھ میں۔
’’اور کہاں ہے وہ تمھارا ہیرو۔ ملواؤ گی نہیں کیا مجھے‘‘؟
وہ قہقہہ لگا کر ہنسی ’’مائی لائف از پرفیکٹ بھئی۔ شادی میں نے بھی کر لی ہے اور بچے میرے بھی دو ہیں۔ اور میرے ہیرو صاحب بھی یہیں کہیں پر ہیں۔ ابھی ملواتی ہوں۔ ہممم ایک منٹ‘‘۔
وہ ایڑیاں اچکا کر مجمعے کے سروں کے اوپر سے دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔
’’کہاں چلے گئے۔ ہا۔ وہ رہے‘‘۔
آخر اس کی نظروں نے اسے ڈھونڈ نکالا تھا۔
’’ہلووو۔ جا ا اوید‘‘۔
اس نے ہاتھ ہلانے کے ساتھ بلند آواز سے کسی کو پکارا۔
مجھےالیکٹرک شاک لگا، یہ جاوید کون ہے اور سنبل اسے کیوں بلا رہی ہے۔ میرے اندر سے کئی سوالوں نے اپنے سر ابھارے لیکن اس سے پہلے کہ میں سنبل سے کچھ پوچھ سکتا، ایک لمبا تڑنگا نیم گنجا سانولا شخص ہجوم کا سینہ چیرتا ہوا بر آمد ہوا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا ہمارے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔
’‘حسن۔ میٹ مائی ہسبینڈ۔ مسٹر جاوید چودھری۔ چودھری ٹیکسٹائل ملز کے مالک۔ اور جاوید آپ ہیں حسن ترین۔ میرے کالج فیلو اور بہت اچھے دوست۔ بینکر ہیں۔ اسٹیٹس میں ہوتے ہیں۔ آج بہت عرصے بعد ان سے ملاقات ہوئی ہے۔ نو سال بعد یا پھر دس‘‘؟
وہ میری طرف دیکھ کر ہنسی۔
’‘او کے گریٹ۔ اولڈ از گولڈ‘‘۔
جاوید چودھری اپنی بھاری بھرکم آواز میں گویا ہوا۔
’’ویری نائس میٹنگ یو حسن صاحب۔ کیسے ہیں آپ‘‘؟
اس نے اپنے مضبوط ہم وار دانتوں کی نمایش کی اور میرے ہاتھوں کو اپنے بیلچہ نما ہاتھوں کے شکنجے میں کس کر ہلانے لگا۔ میں ابھی تک صدمے کی حالت میں تھا۔ گم صم بس سنبل کے شوہر کی شکل دیکھے جا رہا تھا۔
’‘لگتا ہے حسن صاحب کو کوئی خاص خوشی نہیں ہوئی مجھ سے مل کر‘‘۔
مجھے کھویا ہوا پا کر جاوید نے ایک فلک شگاف قہقہہ لگایا۔
میں ایک دم اپنے شاک سے باہر آیا۔ ’‘ارے نہیں نہیں جاوید صاحب۔ بخدا ایسی کوئی بات نہیں۔ مجھے تو انتہائی مسرت ہوئی ہے آپ سے مل کر۔ یقین کریں۔ وہ میں تو بس یونھی زرا سا۔ وہ‘‘۔۔
میں نے مدد کے لیے سنبل کی طرف دیکھا جو پہلے ہی تنی ہوئی بھنووں کے ساتھ میرا جائزہ لے رہی تھی۔
’‘ہوتا ہے ہوتا ہے۔ اکثر ہوتا ہے‘‘۔
جاوید نے ایک اور آسمان شگاف قہقہہ لگایا۔
’’اتنی خوب صورت خاتون کے ساتھ اس طرح کا گوریلا آ کر کھڑا ہو جائے تو ہوتا ہے‘‘۔
‘’ارے نہیں جاوید صاحب۔ کیا بات کر رہے ہیں آپ‘‘۔ میں نے اپنی خفت مٹانے کے لئے کہا۔ ’’آپ تو ماشا اللہ بہت ہینڈسم ہیں۔ رئیلی‘‘۔
’‘جاوید آپ بھی نا بس‘‘۔ سنبل روہانسی ہو کر بولی۔
’’او کے او کے‘‘۔ وہ پھر ہنسا۔ ’’جسٹ جوکنگ بابا۔ سنبل ڈیئر تمھیں تو میری عادت کا پتا ہے۔ میں دو منٹ سے زیادہ سیریس رہ ہی نہیں سکتا‘‘۔ پھر وہ مجھ سے مخاطب ہوا۔ ’’اور سنائیں حسن صاحب زندگی کیسی گزر رہی ہے گوروں کے دیس میں‘‘؟
میں نے خود کو سنبھالا اور جاوید سے بات چیت شروع کی۔ لیکن ابھی ہماری گفت گو رسمیات سے آگے نکلی ہی تھی کہ جاوید کے بے تکلف دوستوں کا ایک ٹولہ اسے تلاش کرتا ہوا وہاں آ نکلا۔ وہ لوگ اسے تقریبا زبردستی اپنے ساتھ لے گئے اور وہ ہم سے معذرت کرتا اور دوبارہ ملنے کا کہتا ہوا چلا گیا۔
سنبل اسی طرف دیکھ رہی تھی جدھر کو جاوید گیا تھا۔ اب میرے لیے مزید ضبط کرنا ناممکن ہو گیا تھا۔
’’یہ سب کیا ہے سنبل‘‘؟
میں نے بمشکل اپنی آواز کی پچ کو قابو میں رکھتے ہوئے کہا۔ سنبل نے مڑ کر مجھے دیکھا۔ اس کے چہرے پر شدید حیرانی کے تاثرات تھے۔ شاید میرا لہجہ کافی جارحانہ ہو گیا تھا۔
’‘کیا مطلب ہے تمھارا حسن؟ کیا کیا ہے‘‘؟ اس نے پوچھا۔
’‘اتنی بھولی مت بنو سنبل‘‘۔ میں نے انتہائی ضبط سے کام لیتے ہوئے کہا۔ ’’تم اچھی طرح جانتی ہو کہ میں کیا کہہ رہا ہوں‘‘۔
’‘ کیا جانتی ہوں میں حسن‘‘۔ اس نے بھنویں سکوڑ کر کہا۔ ’’تم آخر کہنا کیا چاہتے ہو‘‘؟
’’میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں سنبل کہ یہ جاوید صاحب کون ہیں اور تمھاری زندگی میں کیسے آئے‘‘؟ میں نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔
سنبل نے ایک لمبی ٹھنڈی سانس بھری اور پھر ہم وار لہجے میں بولی۔
’’میں تمھیں بتا چکی ہوں حسن، شاید تم نے سنا نہیں۔ جاوید میرے ہسبینڈ ہیں۔ اور رہا تمھارا دوسرا سوال۔ تو یہ ایک ارینجڈ میرج تھی۔ جاوید ایک بہت اچھے انسان ہیں۔ اور ہم دونوں بہت خوش ہیں ایک دوسرے کے ساتھ۔ اور بھی کچھ جاننا ہے تمھیں‘‘؟
’‘ہاں بالکل جاننا ہے مجھے‘‘۔ اب میرا ضبط ختم ہو چکا تھا۔ ’’میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ تم نے اسد کو کیوں چھوڑا۔ مجھے رِجیکٹ کرنے کی تو کوئی وجہ ضرور ہو گی تمھارے پاس۔ لیکن اسد‘‘؟ میں نے گلے میں ابھرتے ہوئے تلخی کے گولے کو واپس دھکیلا۔ ’’آئی ڈونٹ بیلیو دِس سنبل۔ تم دونوں ایک دوسرے کو کتنا چاہتے تھے۔ اور تمھارے پیرنٹس بھی تو راضی تھے۔ پھر کیا ہوا۔ کیوں چھوڑ دیا تم نے اسد کو‘‘؟
اسد کا نام سن کر سنبل کو لمبی چپ لگ گئی۔ راکھ میں چنگاریاں شاید آج بھی دِبی ہوئی تھیں۔ اس کے وجود پر کئی رنگ آتے جاتے رہے اور میں اسے دیکھتا رہا۔
’‘تم کو کسی بات کا پتا نہیں ہے حسن‘‘۔ ’ ایک طویل خاموشی کے بعد وہ آخر گویا ہوئی۔ ’’سچ یہ ہے کہ میں نے اسد کو نہیں چھوڑا بلکہ اس نے مجھے چھوڑ دیا۔ انکار کر دیا اس نے مجھ سے شادی کرنے سے‘‘۔
میں نے جو سنا میرے کان اس پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھے۔
’‘یہ تم کیا کہہ رہی ہو سنبل۔ میں کیسے یہ بات مان لوں؟ وہ تو بہت زیادہ انوالو تھا تم میں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ خود انکار کر دے‘‘۔
’‘آئی ہیو نو آئڈیا حسن۔ جتنا مجھے پتا تھا میں نے وہ بتا دیا تمھیں‘‘۔
یہ کہہ کر وہ ایک لمبے وقفے کے لیے چپ ہو گئی۔ بولی تو اس کے لہجے کو دکھ کی تیز دھار کاٹ گئی۔
’‘وقت بہت گزر گیا ہے حسن۔ سوری۔ بٹ آئی تھنک آئی ایم ٹو اولڈ ناو فور دِس کائنڈ آف کریپ۔ آئی ایم اے ہیپیلی میریڈ وومن۔ آئی ہیو کڈز۔ اینڈ ڈیٹس آل اباوٹ اٹ‘‘۔
اتنا کہہ کر وہ پھر چپ ہو گئی۔ اور سر جھکا لیا۔ سر دوبارہ اٹھایا تو اس کی نظریں سامنے لان میں پھیلے ہوئے مردو زن کے اس انبوہ پر جمی تھیں جو ہر فکر اور غم سے آزاد تھےاور متواتر ہنس بول رہے تھے۔ میں سنبل کے دِل رُبا چہرے پر تنتے ہوئے سوچوں کے جال کو دیکھتا رہا۔
’‘جاوید میرا انتظار کر رہے ہوں گے‘‘۔ وہ خود کلامی کے سے انداز میں بڑبڑائی۔ ’’آئی مسٹ لیو ناؤ‘‘۔
اس نے ایک قدم آگے کو بڑھایا۔ پھر ٹھٹکی اور پلٹ کر مجھ سے بولی۔
’’ڈونٹ مائنڈ اٹ پلیز حسن۔ اٹ واز نائس میٹنگ یو۔ کیپ ان ٹچ۔ ٹیک کیئر‘‘۔
اس نے چلنے کے لیے قدم اٹھائے تو میں نے پیچھے سے اسے آواز دی۔
’‘ایک منٹ سنبل پلیز۔ اسد نے کچھ تو کہا ہو گا تم سے‘‘؟
’‘ہاں‘‘! وہ جاتے جاتے پلٹ کر بولی۔ ’اس نے کہا تھا کہ وہ میرے قابل نہیں رہا۔ اور یہ کِہ اس نے بھی آرمی سے رِزائن کر دیا تھا‘‘۔ اتنا کہہ کر وہ چپ ہو گئی۔ میری بے قرار نظروں نے اسےایک بار اور دیکھنا چاہا لیکن وہ پھر سے دنیا کے ہجوم میں گم ہو چکی تھی۔
باقی افسانہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے


