کمانڈو سپاہی، محبت کا شاعر اور داود بانڈہ کا بھیڑیا
زندگی شاید یونھی سیدھی سڑک پر گزر جاتی لیکن پھر ایک موڑ آ گیا۔ میرے بنک نے مجھے ایک اسائنمنٹ دے کر دو ہفتوں کے لیے وطن روانہ کر دیا۔ اور یوں نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے اس شہر ستم گر کو پلٹنا پڑا۔ میں نے اپنی وطن واپسی کی خبر کو بہر طور چھپایا تھا کہ میں ماضی کی کوئی بھی بند کھڑکی اب کھولنا نہیں چاہتا تھا لیکن پھر بھی یہاں ایسے کئی جاننے والے مل پڑے کہ جنھیں میں انکار نہیں کر سکا۔
اس شام زیدی کے یہاں پارٹی میں جب میں نے سنبل کو دوبارہ دیکھا تو اپنا دل تھام کر رہ گیا۔ اس کے حسن کی دل آویزی اتنے برسوں میں زرا بھی کم نہ ہوئی تھی۔ اس کے جسم کے خطوط آج بھی اتنے ہی دل فریب تھے۔ وہ سیاہ مخمل کا لباس پہنے تھی جس کے سینے اور بازووں پر ستارے سے دمکتے تھے۔ اور ویسے ہی ستارے اس کی آنکھوں میں بھی روشن تھے۔ اس کے شفاف مرمریں شانے کھلے تھے جن پر اس کی پر پیچ گھینری زلفیں دھوپ چھاوں کا کھیل کھیلتی تھیں۔ اس کے ہونٹوں پر اس کی وہی جادو بھری مسکان تھی کہ جس کے سحر سے میں آج تک نکل نہیں پایا تھا۔ اس وقت ا س کے ہاتھوں میں ارغوانی مشروب کا ایک گلاس تھا اور وہ ایک مکسڈ گروپ میں کھڑی خوش گپیاں کر رہی تھی۔ میں نے ہمت کی اور اس کے قریب پہنچ کر دھیرے سے اسے پکارا۔
‘’ہیلو سنبل۔ ہاؤ آر یو‘‘؟
وہ ایک دم چونک کر پلٹی کہ اسے اس طرح نام سے پکارنے والا یہ کون ہو سکتا ہے۔ کچھ لمحات تک وہ پوری آنکھیں کھول کر مجھے تکتی رہی۔ اس کے چہرے پر اجنبیت کے رنگ جھلکتے رہے اور اس کے لب سوالیہ نشان کی صورت کھلے رہے۔ پھر اچانک اس کی دل فریب مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر واپس آ گئی۔
’‘ارررےےے۔ کیپٹن حسن ترین۔ یہ تم ہو۔ واٹ آ سرپرائز‘‘۔
وہ کھلی پڑ رہی تھی۔
’’انڈیڈ۔ انڈیڈ۔ اٹس یو حسن۔ لک ایٹ یو۔ امیزنگ۔ امیزنگ‘‘۔
’‘ہاں یہ میں ہی ہوں سنبل۔ حسن ترین۔ اور تم کیسی ہو‘‘؟
میں نے حتی الامکان اپنے جذبات کو قابو میں رکھتے ہوئے ا س سے کہا۔
’‘میں ایک دم فرسٹ کلاس۔ بہترین۔ اور تم کیسے ہو۔ رئیلی گڈ ٹو میٹ اگین۔ ہاں۔ سو لانگ‘‘۔
وہ مجھے سر سے پیر تک بار بار دیکھتی جا رہی تھی۔ اس کا پورا وجود مسکرا رہا تھا۔ زیدی وِلا کے وسع و عریض لان میں بانکے بے فکرے اور خوش اندام مردو زن کا ایک ہجوم بھرا ہوا تھا۔ شور اتنا تھا کہ جیسے کئی ریڈیو چینل ایک ساتھ چل رہے ہوں۔ سنبل اپنا گلاس تھامے ہوئے قدم بہ قدم میرے ساتھ چلتی اپنی منڈلی سے دور آ گئی۔
لان کےایک الگ تھلگ کونے میں سکھ چین کے درخت کے نیم روشن سائے تلے سنبل کے خواب آگیں چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے میں نے کہا۔
’’کبھی سوچا نہیں تھا سنبل۔ کہ اتنے برسوں بعد۔ یوں اچانک۔ تم سے دوبارہ ملاقات ہو جائےگی‘‘۔
’‘بہت چھوٹی سی دنیا ہے حسن۔ بچھڑے ہوئے کبھی نہ کبھی مل ہی جاتے ہیں’‘۔
وہ میری آنکھوں میں جھانکی۔ لمحے بھر کو ٹھٹکی اور پھر شکوے کے انداز سے بولی۔
’’اور تم کہاں چلے گئے تھے۔ اور رہے کہاں اتنے سال۔ بس اتنا پتا چلا تھا کہ تم نے آرمی سے رِزائن کر دیا ہے۔ کیوں کیا یہ معلوم نہیں ہو سکا۔ پھر تم غائب ہو گئے ایک دم۔ کوئی کانٹیکٹ بھی نہیں چھوڑا۔ کوئی خبر نہیں کی۔ آخر ہم دوست تھے حسن‘‘؟
اتنا کہہ کر وہ چپ ہو گئی۔ میں نے سر جھکا لیا اور اپنے قدموں میں بچھی گھاس کو دیکھنے لگا جس کا رنگ قریبی لیمپ پوسٹ کی تیز روشنی میں کچھ زیادہ ہی سبز لگ رہا تھا۔
سنبل کو اندازہ ہو گیا تھا کہ میں اس کے سوالوں کا جواب نہیں دے سکتا تھا سو اس نے خود ہی موضوع بدل دیا۔
’‘اور کیا حال چال ہے بھئی۔ کافی میچور ہو گئے اتنے سالوں میں۔ ہاں۔ سوبر سوبر‘‘۔
اس نے میری سفید پڑتی ہوئی کنپٹیوں کی طرف اشارہ کیا۔
’‘وقت بھی تو کتنا گزر گیا ہے سنبل۔ نو سال یا شاید دس‘’۔
میں نے اپنی لہجے کی اداسی کو مسکراہٹ میں چھپاتے ہوئے کہا۔
’‘ہاں۔ بہت وقت چلا گیا۔ اور تم کہاں رہے کیا کرتے رہے اتنا عرصہ حسن‘‘؟
اس نے پوچھا۔
’‘میں اسٹیٹس چلا گیا تھا۔ کچھ پڑھائی کی پھر وہاں جاب مل گئی ایک بنک میں۔ بس پھر ٹائم ہی نہیں ملا کسی سے رابطہ کرنے کا۔ ابھی کچھ دن ہوئےاتنے سالوں بعد دوبارہ پاکستان آنا ہوا بنک کے کام سے تو زیدی سے ملاقات ہو گئی۔ اور پھر آج یہاں تم سے‘‘۔
’’تم نے، بچے؟ گریٹ‘‘۔ وہ مسکرائی۔ ’’اینڈ ہاؤ از لائف اینڈ ایوری تھنگ۔ شادی تو کر لی ہو گی‘‘؟
’’ہاں شادی بھی کر لی ہے میں نے‘‘۔ ایک مشکل بات آسانی سے نکل گئی میرے منہ سے۔
’‘وہیں ایک امریکن کولیگ کے ساتھ انڈر سٹینڈنگ ہو گئی تھی۔ ویرونیکا بہت اچھی بیوی ثابت ہوئی۔ دو بچے ہیں۔ نارمل ہیپی لائف۔ آل گڈ‘‘۔
’‘ونڈرفل۔ اور کیا چاہیے زندگی گزارنے کے لئے حسن‘‘۔
وہ میری آنکھوں میں جھانک کر بولی۔ ایک لمحے کو مجھے لگا کہ شاید اس نے طنزیہ کہا ہے۔ لیکن ایسا نہیں تھا۔ طنز سنبل کی طبیعت میں تھا ہی نہیں۔
باقی افسانہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے


