کمانڈو سپاہی، محبت کا شاعر اور داود بانڈہ کا بھیڑیا


اس روز میں پارٹی سے چلا تو آیا لیکن سنبل کے انکشافات نے میرے پورے وجود کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ میں نے اسد کو تلاش کرنا شروع کر دیا۔ خوش قسمتی سے مجھے جلد ہی اس کا سراغ مل گیا۔ جب میں اسد کے گھر کی گھنٹی بجا رہا تھا تو میرےدل کی عجیب کیفیت ہو رہی تھی۔ اس کی یاد بھی بہت آرہی تھی اور اس پر غصہ بھی شدید آرہا تھا۔ کئی بار دل کیا کہ اس کی شکل نظر آتے ہی اسے پکڑ کر مارنا شروع کر دوں اور اچھی طرح اپنی بھڑاس نکالوں۔ لیکن اسد کو دیکھتے ہی میں ایک دم ساکت ہو گیا۔ میرے جارحانہ ارادے سرد پڑنے لگے۔ میرے سامنے خوب رُو اور ڈیشنگ کیپٹن اسد علی کی جگہ پر سفید شلوار قمیص میں ملبوس ایک ادھیڑ عمر شخص کھڑا تھا جس کی لمبی کھچڑی داڑھی تھی۔ اس کی فراخ پیشانی پر سیاہ محراب اس کی برسوں کی ریاضت کا گواہ تھی۔ اس کے سر کے دو چار نہیں سارے بال سفید ہو چکے تھے۔ وہ بوڑھا لگ رہا تھا۔ اس نے مجھے پہچاننے میں زرا بھی دیر نہیں لگائی۔ اس کے انداز میں برسوں پرانی حرارت ابھی زندہ تھی۔ وہ محبت سے ملا لیکن ایک خاص طرح کے ٹھہراو کے ساتھ۔

اسد نے مجھے جس کمرے میں لے جا کر بٹھایا وہ بھی اس کے اپنے حلیے کی سادگی کا نمونہ تھا۔ قریبی بک شیلف کتابوں سے بھرا ہوا تھا۔ یہ اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ یہ کتابیں زیادہ تر مذہبی نوعیت کی تھیں۔ دیواروں پر آویزاں آرایشی تصویریں بھی اسی طرح کی تھیں۔ مجھے صوفے پر بٹھا کروہ خود میرے سامنےقالین پرٹانگیں دُہری کر کے بیٹھ گیا۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں چمک تھی۔

رسمی گفتگو کے مراحل ختم ہوئے تو میں زرا سا آگے کی طرف جھکا اور اس سے بولا۔
’’پیر اسد علی شاہ صاحب۔ جو میری آنکھیں دیکھ رہی ہیں یہ سب کیا ہے‘‘؟
اسد ایک دم سنجیدہ ہو گیا؛ کچھ دیر خاموش رہا اور پھر گھمبیر لہجے میں بولا۔
’’میں نہ پیر نہ مرشد میرے بھائی۔ یہ رتبہ تو نصیب والوں کو ملتا ہے۔ اور جو کچھ تم دیکھ رہے ہو یہی اصل سچائی ہے‘‘۔
میں کچھ دیر ٹکٹکی باندھ کر اسے دیکھتا رہا اور وہ مجھ سے نگاہیں چرا کر اپنے بائیں جانب کی خالی دیوار کو تکتا رہا۔ میں نے اس کے چہرے کا بغور جائزہ لیتے ہوئے کہا۔
’‘ اسد کچھ دن پہلے میری ملاقات سنبل سے ہوئی تھی۔ سنبل بیگ۔ مال روڈ پر ملی تھی ہمیں۔ کچھ یاد آیا کیا؟ ’

سنبل کا نام سنتے ہی اسد کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ مگر وہ جلدی سنبھل گیا۔ نیچے قالین پر نظریں گاڑے ہوئے وہ ٹھہر ٹھہر کر بولا۔
’’اوہ اچھا۔ تو کیسا۔ حال۔ تھا اس کا‘‘؟
’‘بہت ہی اچھا۔ اس نے ایک ٹیکسٹائل مل مالک سے شادی کی ہے۔ دو بچے بھی ہیں۔ بہت خوش ہے اپنی زندگی میں‘‘۔
’‘ہوں۔ خوب۔ اچھا۔ مجھے بھی بہت خوشی ہوئی یہ سن کر‘‘۔ اتنا کہہ کر وہ چپ ہو گیا۔

میں کچھ دیر اس کے اگلے جملے کا منتظر رہا مگر وہ نہیں آیا۔ آخر میں بول اٹھا۔
’‘از ڈیٹ آل اباوٹ اٹ اسد۔ بس اتناہی تھا تمہارے اور سنبل کے بیچ میں‘‘؟
اسد کچھ نہ بولا۔ اسی طرح قالین پر ٹانگیں دُہری کیے نظریں جھکائے بیٹھا رہا۔ اب میرے لیے ضبط کرنا مشکل ہو تا جا رہا تھا۔
’’اسد تم یہاں اپنا نام نہاد سچ لیے بیٹھے ہو‘‘۔
میں نے بھرپور طنزیہ انداز میں اس کےکمرے کے در و دیوار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
’’تمھیں یاد کراوں کہ ایک سچ سنبل بیگ کا بھی تھا‘‘۔
میں اس کا رد عمل دیکھنے کے لیے پل بھر کو رکا اور پھر بولا۔
’’اور ایک سچ میرا بھی تو تھا‘‘۔

اسد سر جھکائے قالین پر بنے ہوئے نقوش کو دیکھتا رہا۔
’‘سر اٹھائیں کیپٹن اسد علی صاحب۔ میں آپ سے بات کر رہا ہوں‘‘۔
اب میری آواز خاصی بلند اور لہجہ جارحانہ ہوتا جا رہا تھا۔
’’فاتح کمانڈو کپتان اسد علی۔ بیسٹ جنٹل مین کیڈٹ۔ مستقبل کا فور اسٹار جنرل۔ یاروں کا یار۔ شاعر دانشور۔ اپنی مردانہ وجاہت سے لڑکیوں کے دل لوٹ لینے والا بانکا فوجی۔ آج اپنا سب کچھ تج کر اس چار دیواری میں چھپا بیٹھا ہے۔ اور کچھ بولتا بھی نہیں۔ آخر کیوں‘‘؟

اسد ہنوز چپ تھا۔
’‘اسد علی صاحب۔ سنبل بیگ کو تو شاید آپ ماضی کے کباڑ خانے کی نذر کر چکے ہیں۔ لیکن آپ کو نہیں لگتا کہ میرے کچھ سوالوں کے جواب ابھی آپ پر قرض ہیں‘‘؟
اسد اب بھی چپ تھا لیکن اس کے چہرے کے تاثرات یک سر تبدیل ہو چکے تھے۔ یہ اندازہ کرنا مشکل نہ تھا کہ اس کے اندر اب ایک آتش فشاں کھول رہا تھا جو کبھی بھی پھٹ سکتا تھا۔ بالآخر اس نے اپنے لرزتے ہوئے لب کھولے اور اپنی بھاری مگر ہم وار آواز میں بولا۔
’’پوچھو حسن کیا جاننا ہے تمھیں‘‘؟
‘’میں اس لڑکی کا نام جاننا چاہوں گا جس کے لیے تم نے سنبل کو چھوڑا‘‘؟

میرا یہ جملہ اسد کو تیز دھار تلوار کے وار جیسا لگا۔ کاٹ کچھ اتنی ظالم تھی کہ وہ تڑپ اٹھا۔
’‘نہیں۔ نہیں۔ حسن۔ ایسا کچھ نہیں تھا۔ بخدا‘‘۔ اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔ ’’مجھے اتنا گرا ہوا نہ سمجھو۔ میں نے سنبل سے بے وفائی نہیں کی۔ میرا یقین کرو‘‘۔
’‘بے وفائی نہیں تو اور کیا کیا ہے تم نے اسد‘‘۔ میرا لہجہ اب اور سخت ہو رہا تھا۔ ’’نہ تم اس لڑکی کے ہوئے جو تمھیں پاگلوں کی طرح پیار کرتی تھی اور نہ ہی اس کیریئر سے وفا کی جو بقول تمھارے، تمھاری زندگی کا پہلا اور آخری خواب تھا۔ آخر کیوں کیا تم نے ایسا؟ کیوں دنیا چھوڑ دی اور اس کمرے میں قید کر لیا خود کو اسد۔ بتاو مجھے کیوں‘‘؟

اسد کا سر دھیرے دھیرے اوپر اٹھا۔ اس کا چہرہ غم کی تپش سے دھواں دھواں تھا۔ آنکھیں نم تھیں۔ الفاظ اٹک اٹک کر اس کے حلق سے نکل رہے تھے۔
’’بھیڑیے کو کھلا نہیں چھوڑا جاتا حسن۔ اسے قید کر کے رکھا جاتا ہے‘’۔
میرے سر پر جیسے بجلی گری۔
’’بھیڑیا؟ کون بھیڑیا؟ کہنا کیا چاہتے ہو تم اسد‘‘؟

آنسو اب اسد کے رخساروں پر لکیریں بنانے لگے تھے۔ ’’حسن تم نے پڑھا ہے نا کہ مولا علی گرے ہوئے دشمن کی چھاتی سے اتر گئے تھے‘‘۔
‘ہاں پڑھا ہے! میں نے اسد کئی بار پڑھا ہے۔ مگر تم کہنا کیا چاہتے ہو‘‘؟
‘تم کو داود بانڈہ کی وہ رات یاد ہے حسن۔ وہ آپریشن وہ خونی جنگ‘‘؟ اسد کے چہرے سے لگتا تھا کہ وہ وہاں پہنچا ہوا ہے۔

‘ہاں بالکل یاد ہے اسد۔ میں کیسے بھول سکتا ہوں وہ رات۔ لیکن تم کیا کہنا چاہتے ہو’‘؟
میرا دماغ وقت میں الٹے پاوں دوڑ رہا تھا لیکن اسد کی بات کا کوئی سرا ہاتھ نہ آ رہا تھا۔
’‘تمھیں وہ کم عمر قبائلی لڑکا یاد ہے حسن‘‘؟ اس کی نظریں اب فرش پر جمی تھیں۔ ’’جو اس رات۔ جو اس رات میرے ہاتھوں‘‘۔ وہ اپنا جملہ مکمل نہ کر پایا۔

میرے دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں۔ اس برفانی رات کی سردی اب میرے رگ و پے میں سرایت کرنے لگی تھی۔ میری آنکھوں کے آگے اس کم عمر قبائلی لڑکے کا مردہ چہرہ گھوم رہا تھا کہ جس کی ہلکی بھوری داڑھی مونچھوں کو استرا نہیں لگا تھا۔ وہ اس کا وہ خون میں تر بتر میلا چکٹ لباس۔ بندوق کے دو فائر اور پھر اس کی آخری سانس کے ساتھ بر آمد ہونے والی وہ خوف ناک آواز۔ یک دم میرے اندر سے ایک اُبال سا اٹھا۔
’‘اس پہاڑی لڑکے کی موت اسد‘‘۔
میں جوش میں پنی نشست سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اسد وہیں قالین پر بیٹھا مجھے دیکھ رہا تھا۔
’’دس سال پہلے ہونے والی اس میلیٹنٹ کی موت تمھارے لیے اتنا بڑا مسئلہ بن گئی کہ تم نے‘‘۔
اب مجھے اسد کی دماغی حالت پر سچ مچ شبہہ ہونے لگا تھا۔ اسد نے دھیرے سے اپنا سر اثبات میں ہلا دیا۔

’‘اوہ مائی گاڈ۔ آئی جسٹ ڈونٹ بیلیو اٹ اسد‘‘۔ میں چیخ اٹھا۔ ’’کیا تم سچ مچ پاگل ہو گئے ہو؟ تم نے۔ ایک ٹرینڈ کمانڈو نے۔ ایک شر پسند لڑکے کی موت کو۔ جو تمھیں مارتے ہوئے تمھارے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ اپنے لئے اتنا بڑا اِشو بنا لیا کہ اپنی زندگی برباد کر لی؟ سنبل جیسی لڑکی کو چھوڑ دیا! آئی کانٹ بیلیو دس اسد۔ تم واقعی پاگل ہو چکے ہو۔ مکمل پاگل‘‘۔
’‘نہیں حسن میرے یار ایسا نہیں ہے‘‘۔
اسد بے قرار ہو کر آگے بڑھا۔ اس کی داڑھی اب آنسووں سے تر ہونے لگی تھی اور سینے کا زیرو بم اس میں نہاں طوفان کی شدت کا پتا دیتا تھا۔ وہ میرے ہاتھوں کو اپنے چوڑے چکلے ہاتھوں میں تھام کر کہنے لگا۔
’’اصل بات کچھ اور ہے‘‘۔
’‘کیا ہے وہ اصل بات۔ تم بتا کیوں نہیں دیتے آخر’‘؟ میں چیخ اٹھا۔

‘’حسن میرے بھائی۔ میں تجھے کیسے بتاوں‘‘۔
کمانڈو اسد اب سسکیوں کے ساتھ رو رہا تھا۔
’’مولا علی مغلوب دشمن کے سینے سے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ لیکن میں ایسا نہیں کر سکا۔ اس لڑکے کی جان لیتے ہوئے میرے اندر کا بھیڑیا جاگ اٹھا۔ اس کو مار کے مجھے لذت محسوس ہوئی حسن۔ ایسی لذت جو کبھی خواب میں بھی مجھے نہیں ملی تھی۔ آئی انجوائیڈ دا بلڈ حسن۔ آئی انجوائیڈ دا کِل۔ یار اس ایک لمحے میں میری ساری دانشوری ساری شاعری بلبلے کی طرح ہوا میں اڑ گئی۔ اسد علی مر گیا اور اس کے بت میں ایک بھیڑیا جی اٹھا۔ اب میں پچھلے دس سال سے یہاں چھپا بیٹھا ہوں کہ دنیا والے کہیں مجھے ننگا نہ دیکھ لیں۔ اور میں کیا کرتا حسن بولو۔ اور کیا کرتا میں‘‘۔

بولتے بولتے اسد کی آواز ڈوب گئی۔ اس کا پورا وجود ایک خزاں نصیب پتے کی طرح لرز رہا تھا۔
’‘اور سنبل۔ اس کا کیا قصور تھا اسد‘‘؟  میرے کانپتے ہوئے خشک ہونٹوں سے میرا آخری سوال بمشکل نکل سکا۔
’‘تم خود بتاو حسن۔ کیا سنبل جیسی پیاری اور اچھی لڑکی کی شادی ایک بھیڑیے سے ہونی چاہیے تھی‘‘؟

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5