نشہ، پولیس اور اقبالِ جرم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نشہ اور قوت ارادی دونون متضاد ہیں۔ یعنی جس شخص کو نشہ کی عادت ہو، وہ قوت ارادی سے قطعی محروم ہو جاتا ہے۔ جس میں قوت ارادی کا فی ہو، اس کا کسی بھی نشہ سے مغلوب ہونا ممکن نہیں۔ میں اس سلسلہ میں چند واقعات بیان کرتا ہوں۔ 1946ء میں دہلی کے ساتھ کے قریب کا نگرسی لیڈر اور ورکر ملتان جیل میں تھے، اور ان کانگر سیوں کے ساتھ راقم الحروف بھی شامل تھا۔ حالانکہ میں کانگرسی نہ تھا، اور میرے ان لوگوں کے ساتھ شامل کیے جانے کی وجہ صرف یہ تھی، کہ دہلی پولیس کے بعض بڑے افسر میرے خلاف تھے۔ کیونکہ میں نے مقدمات کے سلسلہ میں ان افسروں پر ہائیکورٹ میں بعض سنگین الزامات لگائے تھے۔

ہمیں ملتان جیل میں گئے کچھ روز ہی ہوئے تھے، کہ دہلی او ر دوسرے مقامات کے کچھ قیدیوں کا ایک قافلہ ملتان جیل سے انبالہ جیل تبدیل کر دیا گیا۔ ہم لوگ رات کو نو بجے کے قریب قیدیوں کے ایک ڈبہ میں ملتان سے روانہ ہوئے، اور یہ گاڑی صبح چار بجے کے قریب رائے ونڈ اسٹیشن پر پہنچی۔ ہمارے رائے ونڈ پہنچنے پر کسی کانگرسی نے ہمیں اسٹیشن پر دیکھ لیا، اور ہمارے ڈبہ کو کاٹ کر اسٹیشن کے قریب کھڑا کر دیا گیا۔ کیونکہ رائے ونڈ سے بٹھنڈہ جانے والی گاڑی کچھ دیر کے بعد لاہور سے آتی تھی، اور یہ ڈبہ اس گاڑی کے ساتھ لگا کر فیروزپور اور لدھیانہ کے راستہ انبالہ جانا تھا۔

علی الصبح چار بجے جب یہ ڈبہ رائے ونڈ پہنچا، اور رائے ونڈ منڈی کے لوگوں کو ہمارے رائے ونڈ اسٹیشن پر چار پانچ گھنٹے قیام کرنے کا علم ہوا، تو ادھر تو ڈبہ کے قیدیوں کو پولیس نے ضرورت سے فارغ ہونے کی اجازت دی، اور ادھر رائے ونڈ کے لوگوں نے فوراً ہی ہم لوگوں کے لئے چائے کا انتظام کیا۔

یہ لوگ بہت بڑے بڑے برتنوں میں ہمارے لئے لے آئے۔ گاڑی کے خانہ میں پانی کم تھا، اس لئے قیدیوں نے کچھ تو وہ پانی ستعمال کیا، اور پاتھ منہ دھونے کے لئے پلیٹ فارم کے نل سے پانی حاصل کیا۔ ابھی تمام لوگ ہاتھ منہ دھونے سے فارغ ہوئے تھے، کہ رائے ونڈ منڈی کے لوگ چائے لے آئے، اور جو قیدی ہاتھ منہ دھونے سے فارغ ہوئے تھے، انہوں نے چائے پینا شروع کر دی، اور جو لوگ ابھی ہاتھ منہ دھو کر فارغ نہ ہوئے تھے، ان میں لدھیانہ کے ایک کانگرسی سکھ بھی تھے۔

یہ سردار جی ساٹھ برس کی عمر کے تھے، اور افیون کھانے اور چائے پینے کے عادی تھے۔ افیون کھانے والے اکثر عموماً قبض میں مبتلا ہوتے ہیں، ان سردار جی کا بھی پاخانہ میں کافی وقت صرف ہوا۔ جب یہ پاخانہ سے پاہر آئے، تو دوسرے وہ لوگ چائے پی رہے تھے، جو ہاتھ منہ دھو کر فارغ ہو چکے تھے۔ پلیٹ فارم کا نل اس ڈبہ سے تھوڑے فاصلہ پر تھا۔ سردار جی نے جب لوگوں کو چائے پیتے دیکھا، تو آپ نے سوچا، کہ اگر وہ نل پر ہاتھ دھونے گئے، تو چائے ختم ہو جائے گی۔

آپ افیون اور چائے کی طلب میں مبتلا تھے۔ آپ نے یہی فیصلہ کیا، کہ بغیر ہاتھ منہ دھوئے ہی چائے پی لینا چاہیے، تا کہ چائے نہ ختم ہو جائے۔ چنانچہ آپ نے صابن یا مٹی سے ہاتھوں کو صافکیے بغیر ہی اپنے گلاس میں چائے طلب کی، اور افیون کھانے کے ساتھ اپنے گلاس میں چائے پی لی۔ میں اس منظر کو ڈبہ میں بیٹھا دیکھ رہا تھا۔ مجھ۔ سے نہ رہا گیا، اور میں نے سردار جی سے مذاقاً کہا:۔

” سردار جی آپ نے اپنے ہاتھ صابن یا مٹی سے صاف نہیں کیے، اور چائے پی لی“۔
میرا یہ اعتراض سن کر سردار جی بہت شرمندہ ہوئے، اور آپ نے شرمندہ اور نادم ہوتے ہوئے جواب دیا:۔
” پانی کا نل دور تھا، اگر میں نل پر جاتا، تو چائے ختم ہو جاتی“۔

سردار جی کا یہ جواب سن کر میں نے مذاقاً یہی کہا:
” جی ہاں، قیدی ہونا بھی آپت کال ہے، جہاں کہ سب کچھ جائز قرار دیا جا سکتا ہے“۔
(آپت کال ہندی زبان میں اس زمانہ کو کہتے ہیں، جبکہ انسان مجبوری کی حالت میں ہو، اور غیر مناسب قدم بھی اٹھا سکتا ہو ) یعنی اگر سردار جی افیون اور چائے کے نشہ میں مبتلا نہ ہوتے، تو اس وقت اپنی قوت ارادی سے محروم ہو کر بغیر اچھی طرح ہاتھ صاف کیے چائے طلب نہ فرماتے۔

مرحوم مولانا محمد علی نے راقم الحروف کو نشہ کے سلسلہ میں ایک بہت ہی افسو سناک واقعہ سنایا۔ آپ 1917ء کے قریب خلافت ایجی ٹیشن کے سلسلہ میں جب نظر بند گئے، تو آپ سب سے پہلے گرفتارکیے جا کر دہلی کے فریب مہرولی میں نظر بند کیے گئے۔ اور دہلی کے لوگ جب آپ سے ملنے کے لئے مہرولی جانا شروع ہوئے، تو آپ بتول (سی۔ پی ) جیل بھیج دیے گئے۔ بتول جیل میں اس وقت ایک بوڑھا قیدی بھی موجود تھا، جس کو کئی برس کے طویل عرصہ قید سزا تھی۔

یہ قیدی قید ہونے سے پہلے تمباکو کھانے اور بیڑی پینے کا بہت عادی تھا، اور اس زمانہ جیل میں قیدیوں کو بیڑی پینے کی سخت ممانعت تھی۔ ایک روز افسر جیل کے معائنہ کے لئے آیا، تو اس افسر نے جیل کے اندر پان کھایا۔ اس پان میں تمباکو بھی تھا۔ اس افسر نے جب پان کھایا، اور پان کھانے کے بعد پان کی پیک کو ٹھوکا، تو اس بوڑھے قیدی نے ا س تھوک کو اٹھا کر اپنے منہ میں رکھ لیا، تاکہ وہ تمباکو کو اپنی طلب کو پورا کر سکے۔

مرحوم مولانا کو یہ منظر دیکھ کر بہت تکلیف ہوئی، اور آپ نے جیل کے افسروں سے سفارش کر کے اس قیدی کے لئے پرائیویٹ طور پر بیڑی پینے کا انتظام فرمایا۔ اگر یہ قیدی تمباکو کے نشہ کے باعث اپنی قوت ارادی سے قطعی محروم نہ ہو چکا ہوتا، تو اس کو تھوک کی غلاظت کھانے کی ضرورت نہ تھی۔

دہلی کے ڈاک خانہ میں سے ایک بیمہ چوری ہو گیا، جو غالباً بیس ہزار روپیہ کا تھا، اور یہ بیمہ بنک نے اپنی دہلی برانچ کو بھیجا تھا۔ بیمہ کے گم ہونے پر ڈاک خانہ کے پوسٹ ماسٹر نے پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس تحقیقات کے لئے آئی، اور ڈاک خانہ کا ایک کلرک اس سلسلہ میں گرفتار کیا گیا، جو شراب پینے کا عادی تھا۔ اس کلرک کو گرفتار کر کے حوالات بھیج دیا گیا۔ اس مقدمہ کی تحقیقات پر ایک سکھ انسپکٹر پولیس مقر ر ہوا، جس کا نام غالباً سردار جسونت سنگھ تھا۔

ان سردار جسونت سنگھ نے تحقیقات کے سلسلہ میں بہت کوشش کی، کہ بیمہ کا پتہ چل سکے، اور آپ نے وہ کچھ بھی کیا، جو پولیس عام طور پر مشتبہ ملزموں کے ساتھ کرتی ہے، مگر کلرک جرم سے انکار ہی کرتا رہا۔ یہ تحقیقات ایک ہفتہ تک جاری رہی۔ سردار جسونت سنگھ ہر روز ہی اس کلرک سے ”انٹیرو گیشن“ کرتے رہے اور ”تھری ڈگری“ طریقے بھی استعمال ہوئے، مگر کلرک نے جرم کا اقرار نہ کیا۔ آخر سردار جسونت سنگھ کو جب یہ علم ہوا، کہ کلرک شراب پینے کا عادی ہے، تو آپ اس کلرک کو اپنے کوارٹر میں لے گئے۔ اسے دم دلاسا دیا۔ بہت اچھا کھانا پکوایا، جس میں مرغ بھی تھا۔ ایک بوتل شراب منگائی، اور اس کلرک سے آپ نے کہا:۔

”میں سکھ ہوں، اور تم میرے سکھ بھائی ہو۔ مجھے بہت افسوس ہے، کہ میں ایک ہفتہ تک تمہارے لئے جسمانی اذیت کا باعث ثابت ہوا۔ گورنمنٹ بہت ظالم ہے، جس کے حکم سے میں نے تمہیں تکلیف دی۔ آپ میرے ساتھ کھانا کھائیے میں آپ کو تکلیف دینے کے گناہ کی معافی چاہتا ہوں“۔

اس سکھ کلرک کو کھانے سے پہلے شراب پیش کی گئی۔ کلرک بہت خوش، کہ انسپکٹر بد سلو کی کی معافی چاہتا ہے۔ جب کلرک نے شراب کے کافی پیگ پی لیے، اور انسپکٹر صاحب بھی پینے میں شامل رہے، تو انسپکٹر صاحب نے گورنمنٹ کو گالیاں دینے ہوئے کہا، کہ وہ بھی گورنمنٹ کے خلاف ہے۔ اور اگر یہ کلرک یہ بیمہ انسپکٹر کو دے، تو بیمہ کی رقم نصف نصف کر لی گی۔ اور مقدمہ داخل دفتر کر دیا جائے گا۔ کلرک نے شراب کافی پی لی تھی، اور وہ نشہ سے مغلوب تھا۔

اس نے نشہ کی حالت میں انسپکٹر صاحب پر اعتبار کر لیا، اور بتا دیا کہ اس نے بیمہ والا لفافہ اپنے مکان کے ایک کونہ میں دفن کر رکھا ہے۔ اس اطلاع کے ملنے پر انسپکٹر صاحب اس کلرک کو اپنے ساتھ کلرک کے گھر لے گئے۔ گھر کے اس کونہ کو کھودا گیا، جہاں کہ بیمہ کا لفافہ دفن تھا۔ لفافہ انسپکٹر صاحب نے حاصل کر لیا۔ کلرک پر مقدمہ قائم ہوا، اور اسے عدالت سے سرکاری روپیہ تغلب کرنے کے جرم میں چار برس کی قید سخت کی سزا ہوئی۔ یعنی اگر یہ کلرک بھی شراب نوشی کی عادت کے باعث اپنی قوت ارادی سے محروم نہ ہوتا، تو شاید اس بیمہ کا کبھی بھی کوئی سراغ نہ نکلتا، اور کلرک قید اور ملازمت سے موقوف بھی نہ ہوتا۔

نشے تو تمام ہی برے ہیں، مگر گانجہ ان سب میں نقصان دہ ہے۔ گانجہ پینے والا اپنی قوت ارادی سے بالکل ہی محروم ہو جاتا ہے، اور یہ روز بروز سوکھتا چلا جاتا ہے۔ ایک نیم پاگل سوامی پارس ناتھ تین برس تک دفتر ”ریاست“ میں بطور مہما ن مقیم رہے۔ یہ ہندی زبان کے اچھے مضمون نگار اور شاعر تھے۔

آگرہ کے ایک ماہوار رسالہ کو بھی ایڈٹ کرتے رہے۔ ان کے سنیاسی ہونے کے بعد حضرت احمق پھپھوندوی کا خط لے کر دہلی آگئے۔ چونکہ یہ نیم پاگل اور تعلیم یافتہ تھے، اور قریب ہر زمانہ میں راقم الحروف کو نیم پاگلوں سے دلچسپی رہی، کیونکہ یہ باتوں باتوں میں بہت تفریح کا باعث بنتے ہیں، آپ کو بہت اخلاص اور قدر کے ساتھ دفتر ”ریاست“ میں رکھا گیا۔ آپ کو خیالی طور پر الہ آبا د کی ہندی زبان کی ایک مشہور شاعرہ سے بہت عشق تھا۔ ایک تو یہ عشق، رات پھر اپنی معشوقہ کے خیال میں مصروفیت اور دوسرے آپ گانجہ پیتے، آپ بہت دبلے پتلے تھے۔ ایک روز میں نے باتوں باتوں میں آپ سے اپنے موٹاپے کی شکایت کی، تو آپ نے فرمایا:۔

” تم میرے نسخے پر عمل نہیں کرتے، ورنہ چند روز میں ہی تمہاری چربی بہت کم ہو جائے گی“۔
میں نے عرض کیا، فرمائیے وہ نسخہ کیا ہے؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا:۔
” گانجہ پینا شروع کر دو، ایک ماہ میں جسم تناسب میں آجائے گا“۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

صفحات: 1 2

دیوان سنگھ مفتوں

سردار دیوان سنگھ مفتوں، ایڈیٹر ہفتہ وار ”ریاست“ دہلی۔ کسی زمانے میں راجاؤں، مہاراجوں اور نوابوں کا دشمن، ان کے راز فاش کرنے والا مداری، صحافت میں ایک نئے خام مگر بہت زور دار انداز تحریر کا مالک، دوستوں کا دوست بلکہ خادم اور دشمنوں کا ظالم ترین دشمن۔ سعادت حسن منٹو کے الفاظ۔

dewan-singh-maftoon has 26 posts and counting.See all posts by dewan-singh-maftoon