جنسی کمزوری کا بوٹ پالش سے علاج


یہ وارڈر پوربیا اور ضلع پرتاب گڑھ (یو۔ پی ) کا رہنے والا تھا۔ سی۔ پی۔ کی جیلوں میں پوربیے وارڈروں کی کافی تعداد ہے، اور ناگپور جیل میں بھی نصف سے زیادہ وارڈر پوربیے تھے۔ اس پوربیے وارڈر نے اپنے ایک دوسرے راز دار دوست وارڈر سے اس ”دوائی“ کے فوری اثر کا ذکر کیا۔ دوائی کی تعریف سن کر یہ وارڈر بھی میرے پاس پہنچا، اور اس نے بھی دوائی دینے کے لئے التجائیں کیں۔ اس کے چار پانچ روز بعد دو اور وارڈر آپہنچے۔ ادھر میری کو برا بوٹ پالش والی شیشی بھی ختم ہو گئی۔ اور خدا کا شکر، کہ میری ”ڈاکٹری“ کی شہرت اور زیادہ وارڈروں تک نہ پہنچی تھی، کہ میں جیل سے رہا ہو گیا۔

اس سلسلہ کا یہ واقعہ تو بہت ہی دلچسپ ہے، کہ ایک وارڈر بجائے اس کے کہ وہ ناگپور سے سیدھا الہ آباد اپنے گھر جاتا، وہ ناگپور سے دہلی آیا، اور دفتر ”ریاست“ میں پہنچنے کے بعد، مجھ سے کہا، کہ وہ اپنے گھر جا رہا ہے، صرف دوائی لینے کے لئے دہلی آیا ہے، اور اسے دوائی دی جائے۔ میں اس بدبخت کو کیا جواب دیتا۔ میں نے صرف یہی کہا، کہ میری ڈاکٹری ناگپور جیل کے بڑے دروازے تک ہی محددو تھی۔ میں تو ایک اخبار ایڈٹ کرتا ہوں، میں ڈاکٹر نہیں ہوں۔

یہ نہیں مانا، اور اس نے میرے پاؤں پکڑ لئے۔ اور کہا، کہ پر ماتما کے لئے اس کو بھی وہ کالے رنگ کی طاقت کی دوائی دی جائے، جو دوسرے وارڈروں کو دی تھی۔ اس کی بار بار کی التجاؤں سے مجبور ہو کر میں نے اس سے وعدہ لے کر، کہ یہ پھر کبھی میرے پاس نہ آئے گا، اور نہ اس ”دوائی“ کا کسی دوسرے سے ذکر کرے گا، میں نے اس بیوقوف کو بھی ایک چھوٹی شیشی میں اپنے نئی خریدی ہوئی کوبرا بوٹ پالش میں سے پالش دی، اور یہ الہ آباد روانہ ہوا۔

میرے ان واقعات کو بتانے کا مقصد یہ ہے، کہ لوگ اشتہاری حکیموں اور ویدوں کے ہاتھوں تباہ نہ ہوں۔ جنسی کمزوری کو ئی بیماری نہیں ہے، یہ صرف ذہنی احساس کمتری ہے۔ جس میں مشرقی ممالک کے لوگ بلاوجہ مبتلا ہیں۔ کیونکہ اگر یہ کوئی بیماری ہوتی، تو یورپ اور امریکہ کے لوگ بھی مقوی ادویات کی تلاش کرتے۔ مگر ان ممالک کے کسی شخص کو بھی کبھی کسی مقوی دوا کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ ہندوستان کے اخبارات میں ویدوں اور حکیموں کے جو اشتہارات شائع ہوتے ہیں، ان اشتہارات والی ادویات نہ صرف مفید ہی نہیں، بلکہ اکثر حالات میں انتہائی نقصان رساں اور مہلک بھی ثابت ہوتی ہیں۔

مثلاً کوئی ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہو، اور وہ ان ادویات ( جن میں عام طور پر کچلہ اور سنکھیا ہوتا ہے، تا کہ دوران خون میں مزید تحریک ہو ) کو استعمال کرے، تو یہ دوائی استعمال کرنے والا فالج میں مبتلا ہو سکتا ہے اور فالج ایسا نامراد مرض ہے، کہ اس کے مقابلہ پر موت ہزار درجہ بہتر ہے۔ کیونکہ مفلوج شخص اپنی ضروری حاجات سے فارغ ہونے کے لئے بھی دوسروں کا محتاج ہو جاتا ہے۔

جنسی ادویات کے سلسلہ میں اخبارات یا حکیموں اور ویدوں سے کچھ کہنا لاحاصل ہے۔ کیونکہ اخبارات او ر حکیموں ویدوں کو پبلک مفاد سے کوئی تعلق نہیں۔ اور یہ تجارتی اڈے ہیں، جو اپنے چند پیسوں کے لئے پبلک کی صحت اور پبلک کا مفاد قربان کر سکتے ہیں۔ ا ن ادویات اور نالائق، نا اہل حکیموں اور ویدوں کو ختم کرنے کی صورت تو صرف ایک ہی ہے، کہ گورنمنٹ پبلک کو اس فراڈ سے بچانے کے لئے سخت قدم اٹھائے، اور جنسی اشتہار بازی کو قانوناً بند کر دیا جائے، تا کہ پبلک کی صحت، اخلاق اور کریکٹر تباہ نہ ہو۔

کتاب سیف و قلم سے اقتباس۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

دیوان سنگھ مفتوں

سردار دیوان سنگھ مفتوں، ایڈیٹر ہفتہ وار ”ریاست“ دہلی۔ کسی زمانے میں راجاؤں، مہاراجوں اور نوابوں کا دشمن، ان کے راز فاش کرنے والا مداری، صحافت میں ایک نئے خام مگر بہت زور دار انداز تحریر کا مالک، دوستوں کا دوست بلکہ خادم اور دشمنوں کا ظالم ترین دشمن۔ سعادت حسن منٹو کے الفاظ۔

dewan-singh-maftoon has 26 posts and counting.See all posts by dewan-singh-maftoon