آسیہ بی بی کیس کے فیصلے کے اہم نکات کی تفصیل
لیکن آسیہ بی بی کے وکیل نے نشاندہی کی کہ قانون کے مطابق ایس پی سے کم رینک کا افسر اس طرح کے کیس میں تفتیش نہیں کر سکتا جبکہ اس کیس میں سب انسپیکٹر نے تفتیش کی۔
عدالت نے نوٹ کیا کہ گو ابتدائی تفتیش سب انسپیکٹر نے کی لیکن بعد میں اسے ایس پی امین بخاری کے سپرد کیا گیا۔ اس لیے کوئی نقص اگر تھا تو وہ ٹھیک ہو گیا۔
سارا کیس معافیہ بی بی اور اسما بی بی کی گواہی پر انحصار کرتا ہے۔ اس وقت کھیت میں پچیس تیس عورتیں کام کر رہی تھیں لیکن کسی دوسری نے اس کو رپورٹ نہیں کیا۔ یہ دونوں عورتیں استغاثہ کے کیس کے لیے کورٹ میں پیش نہیں ہوئیں۔ تیسری عورت یاسمین بی بی کو گواہوں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا لیکن اس نے گواہی نہیں دی۔
کسی قابل یقین وجہ کے بغیر ایف آئی درج کروانے میں تاخیر کو عدالت ہمیشہ تباہ کن غلطی سمجھتی ہے اور اس کی وجہ سے استغاثے کی بات پر شک پیدا ہوتا ہے جس کا فائدہ ملزم کو ملتا ہے۔ اس کے علاوہ انکوائری کرنے کے بعد درج کی جانے والی ایف آئی آر اپنی شہادتی حیثیت کھو بیٹھتی ہے۔ اس کیس میں حالات و واقعات کو دیکھتے ہوئے ہم استغاثہ کی وضاحت سے مطمئن نہیں ہیں۔ ایک اور اہم پوائنٹ یہ ہے کہ شکایت کنندہ نے خود تسلیم کیا ہے کہ ایف آئی آر ایک وکیل نے لکھی تھی لیکن وہ وکیل کا نام نہیں بتا پایا۔ اس سے ایف آئی آر میں تاخیر کی کہانی پر شبہ پیدا ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ معافیہ بی بی اور اسما بی بی کے ابتدائی اور بعد کے بیانات میں تضاد ہے۔ ان کے بیانات ایک دوسرے سے بھی نہیں ملتے۔ قاری محمد سلام کے بیان میں بھی تضاد ہے۔ جس شخص کے گھر میں لوگوں کے جمع ہونے اور آسیہ بی بی کے اقبال جرم کرنے کا ذکر ہے، اس کا نام تینوں مختلف بتا رہے ہیں۔ نیز گھر میں ایک ہزار سے دو ہزار افراد کے جمع ہونے کا دعوی کر رہے ہیں۔ ایک گواہ نے گھر کا رقبہ پانچ مرلے بتایا اور کہا کہ اس میں سو افراد موجود تھے۔ دوسرے گواہ نے ایک ہزار الفاظ جمع ہونے کا دعوی کیا۔ تیسرے نے دو ہزار۔ چوتھے نے دو ڈھائی سو کا کہا۔
گواہوں کے بیانات اور شہادتوں میں تضاد مزید شبہات پیدا کرتے ہیں۔
کس نے مقدمہ درج کروانے والے قاری سلام کو اس بارے میں بتایا۔
جس وقت بتایا گیا اس وقت کون کون موجود تھا۔
عوامی اجتماع کے موقع پر کتنے لوگ موجود تھے۔
اجتماع کس جگہ ہوا۔
آسیہ بی بی کے گھر اور اس اجتماع کی جگہ کے درمیان کتنا فاصلہ تھا۔
آسیہ بی بی کو کون اور کیسے اس اجتماع میں لایا۔
جھگڑا ہونے اور نہ ہونے کے بارے میں بھی گواہان کے بیان میں تضاد ہے۔
یہ تمام تضادات استغاثہ کے بیان کردہ حقائق پر شک پیدا کرتے ہیں جس سے آسیہ بی بی کو فائدے کا حق ملتا ہے۔ قانون کا ایک مستحکم اصول ہے کہ شک کا فائدہ ملزم کو دیا جاتا ہے۔ اگر صرف ایک معاملے میں بھی ایک زیرک ذہن میں معقول شبہ پیدا ہو جائے تو ملزم کو شک کے فائدہ کی محض رعایت نہیں دی جاتی بلکہ اسے اس کا حق سمجھا جاتا ہے۔
آسیہ بی بی کے اجتماع میں مبینہ طور پر اقبال جرم کرنے کو بھی قانونی طور پر شہادت تسلیم نہیں کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ قانون اس قسم کے اقبال جرم کو صفر اہمیت دیتا ہے۔ دوسرے پوائنٹس کے علاوہ سینکڑوں مشتعل لوگوں کی موجودگی میں ایک تنہا اور خوفزدہ عورت نے اگر اقبال جرم کیا بھی ہے تو اسے رضاکارانہ عمل نہیں کہا جا سکتا ہے اور سزا دینے کے لیے اسے بنیاد بنانا ممکن نہیں ہے۔
ہائی کورٹ نے سزا کی توثیق کرتے ہوئے گواہان کی شہادت پر ان امور کی وجہ سے انحصار کی
چشم دید گواہان اور آسیہ بی بی کی فالسہ کے کھیت میں موجودگی سے انکار نہیں کیا گیا۔
گواہان سے اپیل گزار (آسیہ بی بی) کے ہاتھوں مبینہ توہین رسالت پر کوئی جرح نہیں کی گئی۔
وکیل صفائی نے اپیل گزار اور چشم دید گواہان کے مابین سابقہ دشمنی، کینہ، بغض اور درپردہ اغراض جن کی بنا پر اپیل گزار کو اس سنگین جرم میں پھنسایا گیا، کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا۔
محمد ادریس جو وقوعہ کے وقت کھیت میں موجود تھا کی شہادت چشم دید گواہان کے بیانات کی انتہائی حد تک توثیق کرتی ہے۔
اس پر تبصرہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ
فوجداری مقدمات میں بار ثبوت ہمیشہ استغاثہ پر ہوتا ہے۔ اسما بی بی نے جھگڑے سے انکار کیا۔ ادریس نے قبول کیا کہ ان میں پانی پینے پلانے پر جھگڑا ہوا تھا اور اسے اس کی اطلاع دی گئی تھی اور وہ ان سے دو سے تین ایکڑ کے فاصلے پر تھا۔ وقوعہ کے وقت پچیس تیس خواتین موجود تھیں لیکن حیران کن طور پر کسی نے بھی ماسوائے یاسمین بی بی (متروک گواہ) کے استغاثہ کے الزام کی توثیق نہ کی۔
فیصلے کے اختتام پر حدیث مبارک نقل کی گئی ہے۔
”جان لو، جو کوئی بھی کسی غیر مسلم یا اقلیت پر ظلم کرے گا، سختی سے پیش آئے گا، ان کے حقوق سلب کرے گا، اور ان کو ان کی برداشت سے زیادہ ایذا دے گا اور ان کی مرضی کے برخلاف ان سے کچھ چھینے گا، میں ؐ اس کے بارے میں روز قیامت شکایت کروں گا (ابو داؤد)۔ “
متذکرہ بالا وجوہات کی بنا پر اپیل منظور کرتے ہوئے سزائے موت کا کالعدم قرار دیا گیا ہے اور آسیہ بی بی کو تمام الزامات سے بری کر دیا گیا ہے اور اس کی رہائی کا حکم دیا گیا۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنا اتفاقی نوٹ لکھتے ہوئے کہا کہ معافیہ بی بی اور اسما بی بی سگی بہنیں ہیں جنہوں نے مقدمے کے اہم عنصر یعنی جھگڑے کو مکمل طور پر چھپایا اور جب وکیل صفائی نے جرح کے دوران پوچھا بھی تو انہوں نے کسی قسم کے سخت الفاظ کے تبادلے اور بعد میں جھگڑے سے انکار کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں خواتین معافیہ بی بی اور اور اسما بی بی کو سچائی کا کوئی پاس نہیں اور وہ جھوٹا بیان دے سکتی ہیں۔
انہوں نے نوٹ کیا کہ مقدمے کے گواہان کے بیانات نہ صرف باہمی طور پر متضاد پائے گئے بلکہ مقدمے کے دوسرے حقائق سے بھی مماثلت نہیں رکھتے تھے۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنا اتفاقی نوٹ لکھتے ہوئے کہا کہ
قاری محمد سلام نے بیان دیا کہ عوامی اجتماع مختار احمد کے گھر میں منعقد ہوا جس کا مکمل رقبہ پانچ مرلہ تھا۔ معافیہ نے بتایا کہ اجتماع اس کے والد عبدالستار کے گھر منعقد ہوا جہاں وہ اور اس کی بہن اسما بی بی بھی قیام پذیر ہیں۔ اسما نے بیان دیا کہ اجتماع اس کے گھر ہوا لیکن دوسرے لمحے اس نے کہا کہ اس کے پڑوسی عبدالرزاق کے گھر منعقد ہوا۔ گواہ محمد افضال نے کہا کہ اجتماع مختار احمد کے گھر پر ہوا۔ محمد ادریس کے مطابق اجتماع حاجی علی احمد کے ڈیرے پر منعقد ہوا۔
شرکت کرنے والوں کی تعداد قاری محمد سلام کے مطابق سو تھی۔ معافیہ بی بی کے مطابق ایک ہزار جن میں علما اور مسجدوں کے امام بھی شامل تھے۔ اسما بی بی کے مطابق 2 ہزار افراد تھے جن میں قریبی دیہات کے لوگ بھی شریک تھے۔ قاری محمد سلام کے بیان کے مطابق پانچ پانچ مرلے کے مکان میں سینکڑوں ہزاروں لوگوں کو سما جانا ممکن نہیں۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

