آسیہ بی بی کیس کے فیصلے کے اہم نکات کی تفصیل
معافیہ بی بی نے پولیس کو ابتدائی بیان میں اجتماع کا ذکر ہی نہیں کیا۔ اسما بی بی نے نے ذکر کیا اور کہا کہ وہ چار روز بعد ہوا لیکن اس نے اس میں شرکت کا دعوی نہیں کیا اور اس کی جگہ اور وقت بتانے سے قاصر رہی۔ دوران جرح اس نے بیان دیا کہ وہ اور دیگر افراد اس میں شرکت کے لیے خود گئے تھے۔
درخواست گزار قاری سلام نے بتایا کہ اس نے یہ درخواست اے ایس آئی مہدی حسن کو چندر کوٹ نہر کے پل پر پونے چھے بجے دی۔ جبکہ ابتدائی سماعت میں عدالت میں بتایا گیا کہ درخواست تھانے کے ایس ایچ او کو دی گئی جو غلط ہے۔
اچھی خاصی تاخیر اور باقاعدہ غور و فکر اور صلاح مشورہ کے بعد درج کی جانے والی ایف آئی آر اپنی ساکھ کھو دیتی ہے اور موجودہ مقدمے میں ایف آئی آر پانچ دن کی تاخیر سے درج ہوئی اور شکایت گزار نے خود قبول کیا کہ اس نے اور گاؤں کے لوگوں کی نے معاملے کے متعلق ”تفتیش“ اور ”مشاورت“ کی اور ”معاملے کا گہرائی سے جائزہ لیا“۔ پس شکایت گزار اور اس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر قابل اعتبار نہیں۔
مقدمہ ہذا میں ہر واقعاتی زاویے کے متعلق استغاثہ کی جانب سے پیش کردہ شہادتوں میں واضح اور یقینی تضادات، جن کا میں نے متذکرہ بالا سطور میں مشاہدہ کیا، سے یہ افسوس ناک اور ناقابلِ انکار تاثر قائم ہوتا ہے کہ ان تمام افراد جن کے ذمے شہادتیں اکٹھی کرنا اور تفتیش کا کام تھا، نے ملی بھگت سے یہ طے کیا ہوا تھا کہ وہ سچ نہیں بولیں گے یا کم از کم سچائی کو باہر نہیں آنے دیں گے۔
یہ امر مساوی طور پر پریشان کن ہے کہ ذیلی عدالتیں متذکرہ تضادارت اور خالصتاً جھوٹ پر دھیان دینے میں ناکام رہیں۔ تمام متعلقہ افراد یقیناً اچھی طرح کام کر سکتے تھے اگر انہوں نے اللہ تبارک تعالی کے ان احکامات پر جو قرآن میں درج ہیں دھیان دیا ہوتا۔ (سورۃ النسا آیت 135 کا حوالہ)۔
محمد ادریس اور محمد امین بخاری ایس پی انویسٹی گیشن نے ابتدائی عدالتِ سماعت کے روبرو جو بیان دیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مبینہ توہین رسالت کا ارتکاب عیسائی اپیل گزار نے اپنی مسلمان ساتھی خواتین کے ہاتھوں اپنے مذہب کی توہین کروانے اور اپنے مذہبی جذبات مجروح ہونے کے بعد کیا کیونکہ وہ یسوع مسیح پر یقین رکھتی تھی اور حضرت عیسی کی پیروکار تھی۔
قرآن کریم کے مطابق ایک مسلمان کا عقیدہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک وہ نبی کریمؐ کی ذات پاک اور اللہ کے دیگر پیغمبروں جن میں حضرت عیسی علیہ السلام (ابن مریم) بھی شامل ہیں یہ اور تمام الہامی کتب بشمول انجیل پر یقین نہ رکھے۔ اس تناظر میں اپیل گزار کے مذہب کی مسلمان ساتھی خواتین کی جانب سے توہین بھی مذہب کی توہین (بلاسفیمی) سے کم نہ ہے۔
استغاثہ کی جانب سے دی گئی شہادتوں میں موجود سنگین تضادات کے تناظر میں یہ یکساں طور پر معقول محسوس ہوتا ہے کہ اپیل گزار اور اس کی مسلم ساتھی خواتین کے مابین جائے وقوعہ پر ایک جھگڑا ہوا جس میں اپیل گزار نے کسی قسم کے توہین آمیز الفاظ نہیں کہے، مسلم خواتین نے جھگڑے کی اطلاع دیگر افراد کو دی جنہوں نے پانچ دن کے طویل عرصے اس پر غور و فکر اور منصوبہ بندی کی اور اپیل گزار کے خلاف توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگانے کا فیصلہ کیا۔ اگر ایسا تھا تو مقدمہ ہذا کی مسلمان گواہوں نے ہمارے پیارے نبی کریمؐ کے عیسائی مذہب کے پیروکاروں سے کہے گئے میثاق کی خلاف ورزی کی۔
اس کے آگے وہ معاہدہ درج ہے جو ”جبل سینا کے راہبان سے حضرت محمدؐ کا میثاق“ کہلاتا ہے۔
”یہ محمدؐ بن عبداللہ کی جانب سے دور و نزدیک بسنے والے ان افراد جنہوں نے عیسائی مذہب اختیار کیا گیا ہے کے لیے پیغام (معاہدے کی صورت میں ) ہے کہ ہم ان کے ساتھ ہیں۔ حقیقت میں میں خود، خدمت گار اور مددگار اور میرے پیروکار ان کا دفاع کریں گے کیونکہ عیسائی میرے شہری ہیں اور خدا کی قسم میں ہر اس عمل کے خلاف ہوں جو انہیں ناخوش کرے گا۔
ان پر کوئی پابندی نہیں۔ نہ ہی ان کے منصفین کو اپنے عہدوں سے ہٹایا جائے گا اور نہ ہی ان کے راہبان کو ان کی خانقاہوں سے الگ کیا جائے گا۔ کسی کو بھی ان کے گھروں کو تباہ کرنے نقصان پہنچانے اور وہاں سے کچھ اٹھا کر مسلمانوں کے گھر لے جانے کی اجازت نہ ہو گی۔
جو کوئی ان میں سے کچھ لے کر جائے گا وہ اللہ سے معاہدہ شکنی کرے گا اور اس کے پیغمبر کی نافرمانی کرے گا۔ درحقیقت وہ میرے دوست ہیں اور ہر وہ شخص جو ان سے نفرت کرتا ہے سے تحفظ کے لیے ان کے ہمراہ میری میثاق ہے۔
کوئی بھی ان کو نقل مکانی پر مجبور نہیں کرے گا اور نہ ہی ان پر جنگ لڑنے کے لیے دباؤ ڈالے گا۔ مسلمان ان کے لیے لڑیں گے۔ اگر کوئی عیسائی خاتون کسی مسلمان سے شادی کرتی ہے تو ایسا اس (خاتون) کی مرضی کے بغیر نہیں ہونا چاہیے اور اس کو عبادت کے لیے چرچ جانے سے نہیں روکا جائے گا۔
ان کے چرچ کی عزت کی جائے گی۔ ان ک و نہ تو کبھی عبادت گاہوں کی مرمت سے روکا جائے گا اور نہ ہی ان کے مقدس معاہدوں سے۔ قوم (مسلمانوں ) میں سے کوئی بھی قیامت کے دن تک اس میثاق سے نافرمانی/روگردانی نہیں کرے گا۔ “

