دریا کی تلاش: سندھو دریا کی بحالی اور پانی کے مقدمہ کی جدید بنیادیں
آئے اس پہلو سے سب سے پہلے حکمرانوں کے اعداد و شمار والا کھیل کھیل لیتے ہیں۔
جیسے خلا و فلکیات کے لاحد جہاں میں مفاصلوں کی پیمائش نوری سال (ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار میں روشنی کا ایک سال کا سفر ) سے ہوتی ہے اس طرح پانی کے بڑے ذخیرے بہاؤ کی پیمائش ملین ایکڑ فٹ یا ایم اے ایف (MAF) کے ذریعے ہوتی ہے جس کے معنی ہے کہ دس لاکھ ایکڑ ہموار زمین پر ایک فٹ کی گھرائی والے پانی کی مقدار۔
ڈاکٹر حسن عباس اپنے مضمون (Short of Water) میں جو اعداد و شمار دیتا ہے وہ درج ذیل ہیں :
(الف) موجودہ زرعی ٹیکنالوجی کی ترقی کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بیان کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان صرف 50 ملین ایکڑ فٹ پانی استعمال کر کے اپنی موجودہ زرعی پیداوار سے آگے بڑھ سکتا ہے۔
(ب) ایک صحت مند زندگی کے لئے فی کس روزانہ ضرورت 25 گیلن پانی کی ہوتی ہے اس لحاظ سے 12 ملین ایکڑ فٹ اور اگر اس میں واٹر سپلائی نظام کی عام طور پر ہونے والے 30 %فیصد پانی کی زیاں کو شامل کیا جائے تو پورے ملک کے 20 کروڑ لوگوں کے لئے ٹوٹل پانی 17 ملین ایکڑ فٹ ضروری ہوجاتا ہے۔
(ت) صنعتی مقاصد کے لئے صرف 10 ملین ایکڑ فٹ پانی کی ضرورت ہے۔ اسی طرح پاکستان میں پانی کی زرعی رہائشی اور صنعتی مقاصد کے لئے فقط 77 ملین ایکڑ فٹ ضرورت ہے۔ جب کہ ملک میں 145 ملین ایکڑ فٹ پانی (یعنی ضرورت سے دوگنا پانی) دریاؤں اور کینالوں کے ذریعے بہتا ہے۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ معاملہ پانی کی کمی کا نہیں، بلکہ پانی کی غیر منصفانہ تقسیم اور زیاں کا ہے۔
مثلاً آبپاشی یا زراعت کے لئے 145 ملین ایکڑ فٹ پانی سے 104 ملین ایکڑ فٹ پانی استعمال ہوتا ہے جبکہ ہماری ضرورت 50 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ اسی وجہ سے 54 ملین ایکڑ فٹ پانی یا تو ناقص نہری نظام اور عوام دشمن پالیسز کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے، یا اس اضافی پانی کی وجہ سے زمین پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس پانی کے ضایع ہونے سے موجودہ پانی محصول 60 روپے فی ایکڑ فٹ پانی کے حساب سے حکومت کو سالانہ سوا تین ارب روپے کا نقصان جھیلنا پڑتا ہے۔ ان اعداد و شمار کو توڑ مروڑ کر حکمران اور اس میں شریک کارپوریٹ میڈیا آبپاشی نظام کی نا اہلی کے بجائے کوٹری ڈاؤن اسٹیڈیم پر پانی چھوڑنے کو پانی کا زیاں کے مثل قرار دیتی ہے اور دریا کی مکمل تباہی کا باعث بنتی رہی ہے (جس کے تفصیلات درج ذیل ہہں ) ۔
تو بنیادی بات یہ ہے کہ پانی کی کمیابی نہیں ہے اگر مان بھی لیا جائے تو ا س کمی کی ذمہ داری حکمران طبقے پر ہے، جنہوں نے 1960 ء میں سندھ طاس معاہدہ کر کے سندھو ندی میں بھرتی کرنے والے تین دریا (یا تین ملین کیوبک فٹ) اپنی ناقص سفارت کاری اور پئسہ کے بدلے ہندوستان کو بیچ دیے اس طرح پانی کی نایابی ہو پانی کا زیاں اس کا سبب حکمران اور ان کی زرعی پالیسز ہیں جس کی قیمت عام لوگ کسان، پوچھڑ کا دہانہ (پانی کا آخری کونا) کے آبادگار یا ڈیلٹا کے رہائشی دیتے ہیں۔ یاد رہے کہ سندھ میں گزشتہ حکومت میں چار سال آبپاشی محکمہ میں کوئی وزیر ہی نہ تھا یہ کام پیپلز پارٹی قیادت کے قریبی علی حسن زرداری نام کا بندہ کر رہا تھا۔
آج بھی شعبہ آبپاشی کے صرف فائلوں میں سندھ کی بہت ساری نہریں پختہ کی گئی ہیں۔
* سیلاب کے دوران پانی جمع کرنے اور اس میں سے بجلی مہیا کرنے کے لئے ڈیمز کی ضرورت کا ڈرامہ:
جیسے پانی کی عدم دستیابی کے معاملے میں غلط بیانی کی جاتی ہے اس طرح پانی کے استعمال کے حوالے سے بھی باتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیاجاتا ہے یہ ایک روایت ہے کہ ڈیم پانی کو روکتے ہیں۔ آئیے پہلے موجودہ ڈیمز پر ایک نظر ڈالیں تربیلا ڈیم 12 بلین کیوبک میٹر پانی کو روکتا ہے۔ تربیلا 7 اور دوسرے چھوٹے ڈیمز کو ملالیا جائے تو 3 بلین کیوبک میٹر اگر کالا باغ ڈیم بھی ہوتا تو 6 بلین کیوبک میٹر پانی کو ذخیرہ کرتا یہ کل پانی ملا کے 28 بلین کیوبک میٹر بنتا ہے۔ جبکہ ساون کی بارہ سال کے سیلاب کا پانی 135 ملین ایکڑ فٹ بنتا ہے جو کہ تمام ڈیمز سے پانچ گنا زیادہ ہے۔ سیلاب کے دنوں میں ڈیمز کے بھر جانے کے باوجود دریا اپنے پرانی دہشت سے بہتا ہے۔
1992 کے سیلاب میں منگلا سے نیچے 1000 لوگ جان بحق ہوئے تھے اور 40 لاکھ لوگ متاثر ہوئے تھے۔ 2010 اور 2011 کے سیلابوں میں تو سندھ کے کروڑوں عوام دربدر ہوئے تھے عام تصورات کے الٹ سیلاب کے دوران ڈیم مددگار کم اور سر درد زیادہ بنتے ہیں۔ یہ مسائل حل کرنے کے بجائے خود مسئلہ بن جاتے ہیں اور حتیٰ کہ خود بڑی تباہی کا باعث بنتے ہیں۔
اور تو اور بھاشا ڈیم کی فزیبلٹی گلگت بلتستان کے اس علاقے کی ہے جو زلزلوں کے حوالے سے پہلے سے ہی حساس قرار دیا گیا ہے یہ تو سارا مکمل جیوگرافی کا معاملہ ہے، جس سے ہمارے حکمران انجان بنے ہوئے ہیں۔
جیسے کہ زمین کی تھوڑی سی رخ کی تبدیلی یا زلزلوں کے باعث نقصان کم ہوتا ہے، مگر ان حساس علاقوں میں پختہ تعمیرات اور دوسرے نام نہاد جدید لیکن ناقص انفراسٹرکچر کے باعث انتہائی زیادہ حیاتیاتی نقصان ہوتا ہے۔ اس طرح حکومتی طور پر پانی کے قدرتی بہاؤ پر قبضہ کرنے اور اس کو ادھر ادھر رخ موڑنے کی کوشش کی جاتی ہے، اور نیچے بھی منصوبہ بندی اور قانون پر عمل نہ ہونے، دریا کے اطراف میں کچے کی زمینوں پر نجی قبضہ، جنگلات کی کٹائی وغیرہ سیلاب کی تباہ کاریوں کو اور بڑھا دیتی ہے۔ ورنہ عمومی طور پر یہ سیلاب کے کچے کے تالاب اسفنج کے کام آتے ہیں۔ پانی کو ہضم کر کے زیر زمین پانی کو بڑھاتے ہیں اور زمین کو طاقت بخشتے ہیں، جو عام سوکھے کی موسم کے دنوں میں زمین کو واپس جلا بخشتے ہیں۔
یہ اس طرح کا مشورہ 2012 میں سندھو دریا کے سیلاب کا جائزہ لینے والے ماہروں کی ایک گروپ رامس ایڈوائیزری نے بھی دیا تھا۔
انہوں نے چین کو ینگتزی ندی کی اسٹڈی کا مشورہ بھی دیا تھا۔ یادرہے کہ 1998 کے سیلاب میں 4 ہزار لوگ مارے گئے تھے 25 ملین امریکی ڈالرز کا معاشی نقصان ہوا تھا، جس کے بعد چینی انجنیئرز نے پانی ضابطہ کی طرف اپنی ساری سمجھ بوجھ کو الٹ کردیا دیا تھا۔
اس طرح دنیا میں پانی کے ماہر اور ماحول دوست ادارے دریا اور سیلاب کے حوالے سے تبدیلی، محاز آرائی اور ضابطے کی حکمت عملی کو رد کیا جاتا ہے۔ ہم آہنگی، قبولیت اور مناسب انتظام کاری کے طریقہ کار پر زیادہ زور دیتے ہیں۔ ویسے بھی ڈیمز کا فائدہ عارضی اور ان کے نقصانات دائمی ہوتے ہیں۔
جہاں تک پانی سے بجلی پیدا کرنے کا سوال ہے۔ اس پر بھی پانی کے ماہرین کو خدشات ہیں۔
اس حوالے سے ملک میں تازی مثال ہائیڈرو پاور پروجیکٹ ”نیلم، جہلم ہے“۔ جو ابھی بجلی کا فی کس واٹ ایک ہزار روپے میں پیدا کر کے دیتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ایک سو واٹ بجلی کا بلب روشن کرنے کے لئے ایک لاکھ روپے کی ضرورت پڑے گی۔ جبکہ سولر ٹیکنالوجی سے ایک واٹ بجلی پچاس روپے میں پیدا کی جاسکتی ہے جو ہائیڈرو پاور سے بیس گنا زیادہ سستی پیدا ہوتی ہے۔ اور ویسے بھی پاکستان دنیا کے اس خطے میں واقع ہے جس کو شمسی اور ہوائی بجلی کے ذرائع کے لئے آئیڈیل قرار دیاجاسکتا ہے۔ ڈیمز تعمیر کرنا مہنگا اور نقصان دینے والا طریقہ کار ہے۔
ابھی گزشتہ ماہ 25 تاریخ کو پتہ چلا کہ لاؤ س میں ”زی ہیان زی“ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے ڈیم ٹوٹنے سے جو تباہی آئی ہے اس کے بعد پورے ملک کے تمام مکمل اور نئے بننے والے ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے کام کو بند کر کے تفتیش کی جارہی ہے۔ امکان ہے کہ ملک میں پانی سے بجلی پیدا کرنے کے طریقہ کار کو ہی منسوخ کر دیا جائے۔
کچھ دن پہلے عوامی ورکر پارٹی کشمیر کے دوستوں نے ”زندگی کی قیمت پر بجلی قبول نہیں“ کے بینر تلے اسلام آباد میں اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔
سندھو مر رہا ہے؟
آج سندھو تنگ ہو گیا ہے۔ آج وہ قریب مرگ ہے۔ اگر فقط ڈیلٹا پر نظر ڈالی جائے تو دل دہل جاتا ہے۔ کسی دور میں کراچی کو ترقیاتی امداد دینے والا کیٹی بندر قرون وسطی میں کسی وبا میں مبتلا مغرب کا شہر سا لگتا ہے۔ کچھ سال پہلے تک ڈیلٹا کے لوگوں کے پاس مال مویشی، زمینیں، فصل، مچھلی، پلا (مچھلی کا ایک نایاب قسم) اور بہت کچھ تھا۔ اب تو وہاں سے چکر لگا کر آنے والے شخص کو وہاں کئی میل دور تک لوگوں کے پیر میں چپل بھی بمشکل نظر آتی ہے۔ اور یہ ہی تو قیمت ہے سرمایہ دارانہ ترقی کے ماڈل کی۔ کریں کوئی ایک اور بھریں دوسرے۔
یہاں سماجواد میگزین میں کامریڈ جئے کمار کے مضمون ”ڈیلٹا“ کی بربادی کے تباہ کن اثرات سے کچھ اعداد و شمار پڑھنے والوں کی نظر کرتے ہیں۔ اس ضمن میں اس تجزیہ کرتے ہیں۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

