دریا کی تلاش: سندھو دریا کی بحالی اور پانی کے مقدمہ کی جدید بنیادیں
1833 میں صرف ڈیلٹا کی ہموار زمین 1883 ع میں تقریباً 12900 مربع کلومیٹر تھی، جو کہ 2017 ع تک 92 % فیصد تک ختم ہو چکی، جو کہ اب 1000 مربع کلومیٹر ہی باقی بچی ہے۔ نہ صرف یہاں تک بلکہ سمندر میں آئے ہوئے طغیانی کے سبب اس زمین کا بڑا حصہ بنجر بن چکا ہے۔ جیس تیزی سے گزشتہ چار دہائیوں کے دوران ڈیلٹا کی زمین تباہ ہوئی ہے اتنی گزشتہ سینکڑوں سالوں میں بھی نہیں ہوئی ہے۔
زیادہ تر ساحلی پٹی سے لوگوں کی خانہ بدوشی گزشتہ دو دہائیوں میں ہوئی ہے۔ ڈیلٹا کے قریب و جوار میں سترہ چھوٹی جھیلیں تھیں (Small Streams / Creeks) جن کے ذریعے دریا کا پانی سمندر میں گرتا تھا۔ اب ان میں سے صرف دو باقی بچی ہیں ان کریکس کی تباہی کے سبب ”Sea Intrusion“ یعنی سمندر کا آگے بڑھ آنا ہے اور سمندر اس تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے جس کی اوسط سراسری درجہ بندی کے حساب سے سالانہ 38.75 میٹر کشادگی اور 1.7 ملی میٹر انچائی سے چاروں اطراف یعنی zonesمیں بڑھ رہا ہے۔
گزشتہ چار دیہائیوں میں سمندر کی یہ بڑہوتری /طغیانی 7 فیصد تھی۔ لیکن ارباب اختیار کی نا اہلی اور آنکھیں موند لینے سے صرف چار دہائیوں میں بڑی شدت آئی ہے۔
2017 میں لگائے گئے آخری اندازے کے مطابق اب یہ تغیانی 17 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق روزانہ 80 ایکڑ زمین Tidal Flood plain کے زد میں آجاتی ہے۔ سمندر کی اتنی تیزی سے آگے بڑھنے کے سبب چھ لاکھ ایکڑز پر مشتمل تمر (مینگروز) کے جنگلات بھی تباہ ہو رہے ہیں۔
1971 ء تک یہ جنگلات 260000 /۔ ایکڑز تک مشتمل تھے۔ 1991 تک 160000 /۔ اور 2017 تک جب سیٹلائیٹ سے ان کی تصاویر نکالی گئی اور حساب لگایا گیا تو وہ 81324 ایکڑ تک باقی بچے تھے اس مختصر عرصے کے دوران سمندر کی طغیانی کے باعث جنگلات کے ساتھ ساتھ تقریباً 22 لاکھ ایکڑ زمین نگل چکا ہے۔
سمندر کے آگے بڑھنے سے کریکس کا پانی سمندر کے پانی سے بھی زیادہ نمکین ہو چکا ہے۔ کسی زمانے میں Sea Intrusion کے بجائے River Intrusion ہوتا تھا۔ کیونکہ دریا کے پانی کے ساتھ تین اقسام کی قیمتی مٹی خاص کر کے سلٹ دریا کے تیز بہاؤ میں بہہ کر آتی تھی۔ نتیجے کے طور پر وہ 400 ملین ٹن کے حساب سے سمندر سے ٹکراتی تھی تو سالانہ یہی زمین چاروں زونز میں 30 میٹر بڑھتی تھی روزانہ کے حساب سے ڈیلٹا کی زمین میں تقریباً 7 ایکڑ کا اضافہ ہوتا تھا اور جس کا پانی بھی پینے لائق ہوجاتا تھا۔ ڈیلٹا کی زمین اور عام زمین کے مقابل سلٹ اور دوسرے اقسام کی مٹی کے سبب زراعت کے لئے انتہائی کارآمد اور قیمتی ہوتی ہے۔
جنگلات کے خاتمے سے گرمی کی درجہ حرارت میں شدت آئی ہے اور خدشہ ہے کہ رواں صدی کے خاتمے تک درجہ حرارت میں اور بھی 5 سے 7 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہو گا۔
سال 1960 سے 1990 تک 100 ملی میٹر سے زیادہ بارش ہوتی تھی جو کم ہو کر اب 40 ملی میٹر تک جاپہنچی ہیں۔ یہ ماحولیاتی تبدیلیاں فقط سمندر میں ضرورت کے مطابق دریا کا پانی نہ جانے سے پیدا ہوئی ہیں۔ اسی طرح نا تو پانی جمع کرنے کی بہانے اور ناہی بجلی پیدا کرنے کے پس پردہ سندھو دریا پر کسی بھی بڑے ڈیم کی حمایت کر کے بیمار سندھو کی موت کے وارنٹ پر دستخط نہیں کی جاسکتی ہے۔
اور یہ بھی ذہن نشین رہے کہ کسی بھی دریا کی موت فقط اس خطے کی حیاتیات اور ایکو سسٹم کے خاتمے تک محدود نہیں ہوتی ہے۔
پانی کے قدرتی ذخائر مقامی آبادی کے ساتھ ساتھ مشترکہ انسانیت کا باہمی ورثہ ہوتے ہیں۔ اس میں دنیا کا چھٹا نمبر ہمارا ڈیلٹا ہے۔
سرمایہ دارانہ خود غرضی تو ہر چیز کے حاصل کرنے کی لالچ رکھتی ہے۔ دنیا کے 177 بڑی ندیوں سے 1000 سے کلو میٹر سے زیادہ کا مفاصلہ طے کر کے آزاد حیثیت میں سمندر میں شامل ہونے والی ندیوں کی تعداد صرف 21 ہے۔
ندیوں پر ڈیم بنانے کی ضد ندیوں کے فطرتی روانی میں رکاوٹ ڈال کر اس کو تبدیل کر دیتی ہے۔ جس کے منفی اثرات پورے سماج اور ماحولیاتی سسٹم پر پڑتے ہیں جو سسٹم صدیوں کے طویل دورانیہ میں اس دریا کے فطرتی بہاؤ کے ساتھ جنم لیا ہوتا ہے۔ آنکھیں موند لینے کی تمام ناکام حیلے بہانوں کے بعد اب تو سرمایہ دار دنیا کے مرکزی ادارے بھی خود قبول کر چکے ہیں۔
عالمی بینک اور ورلڈ کنزرویشن یونین کے بنائے ہوئے عالمی ادارے (ورلڈ کمیشن آن ڈیمز) دنیا کے 125 بڑے ڈیمز کی اسٹڈی کرنے اپنے تازہ رپورٹ میں بھی اوپر دیے گئے نقصانات کو قبول کیا ہے۔
٭ سندھو دریا پر /سندھو دریا کی سیاست:
سندھو دریاپر/ سندھو دریا کی سیاست کا سوال سندھو دریا پر قبضے اور آزادی کا سوال ہے سندھو دریا اس تہذیب کا خالق اور ان کا داتا ہے۔ اس پر قبضہ کالونیل دور کے حکمرانوں نے اس کی پورے تہذیب کو تباہ و برباد کیا ہے۔ دریا ہی تہذیب کا مرکزی سبب ہے، اور اب یہ دریا (یا پانی کی تقسیم) بھی سماج مختلف جگہوں پر شک، اختلاف، نفرت اور کشمش کا سبب ہے۔
فرنگی حکمرانوں نے اس دریا کے سبب ایک طرف پیداوار کی صلاحیت بڑھائی تو دوسری طرف اپنے ساتھ وفادار ایک نئی صورت میں جاگیردار پرت کو پیدا کیا اور (وارا بندی) پانی لینے کی باری کا نظام / اصول وضع کر کے سماجی تفرقے کو جنم دیا۔ جس پر فیصلہ کرنے کے شرائط و ضوابط کے حقوق انہیں کے پاس محفوظ رہے۔
ان کے کارندے اور آج کے ہمارے حکمران حال ہی میں ان پالیسز کو جاری رکھ کر اسی لوٹ کھسوٹ کے دھندے سے لگے ہوئے ہیں۔ اسی باری کے نظام کی وجہ سے ایک کسان دوسرے کسان سے ایک قوم دوسری قوم سے ایک ملک دوسرے ملک سے، موہنا اور پوچھڑ (دریاؤں کا منہ اور دہانا) دائمی طور پر جھگڑے میں رہتے آئے ہیں۔ جس میں موہنا (دریا کے منہ والے ) کے زور آور کی لاٹھی پوچھڑ پر برستی رہی ہے، اور ان کا پانی بھی رواں دواں ہے۔
کامریڈ رسول بخش پلیجو کے ”سندھ پنجاب تضاد“ اور پانی امور کے سابقہ سیکریٹری محترم شیر محمد بلوچ کا کام ”پانی منجھ پساہ“ (پانی سے جیون) اسی لوٹ کھسوٹ اور جھوٹ اور دوکھے کی ڈیڈھ سو سالہ تاریخ کی داستان ہے، جو کہ آج بھی پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کے اہم دستاویزات ہیں۔
لیکن میں سمجھتا ہوں موجودہ حالات میں پانی کے حوالے سے مظلوم لوگوں کی جدوجہد میں کچھ دوسرے پہلوؤں کو بھی اٹھانا لازمی ہے۔ دوسرے الفاظ میں دریا کا سوال صرف قومی ہی نہیں بلکہ طبقاتی اور ماحولیاتی بھی ہے۔ جس کو مختلف زاویوں سے سمجھ کر اور مزاحمت سے ہم اپنے دریا کی بحالی کی تحریک کی جدید نظریاتی اور عملی بنیادیوں پر قائم کر سکتے ہیں۔ جس کے بعد یہ یقین ہے کہ ہم ناصرف اپنی عوام بلکہ دنیا کے انسان دوست اور ماحول دوست لوگوں کی مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ڈیم پر ہر طرح سے جو حکمرانوں نے شور برپا کیا ہے۔ اس نے ہمیں یہ موقع دیا ہے ہم اپنی اس قریب المرگ دریا کی بحالی میں پیش ہوں جس نے ہمارے آباؤ اجداد اور اس پوری تہذیب کو سینچا ہے، پالا پوسا اور اس کی حفاظت کی ہے۔
اب صرف سوال بے اعتمادی (کہ ماضی میں ذخیرہکیے ہوئے پانی سے عارضی بیانکیے گئے کینالوں سے سارا سال پانی چوری کیا جائے گا) تک محدود نہیں ہے۔ اب سوال ضمانت کا بھی نہیں ہے۔ اب سوال موہانے اور پوچھڑ کے حقوق کا نہیں ہے۔ اب سوال کچھ مالیاتی اداروں، کچھ تعمیراتی اداروں اور کچھ مفاد پرست حکمرانوں کا بھی نہیں ہے بلکہ اب سوال اسی دریا کنارے رہنے ولے عام عوام اور اس پوری تہذیب کا ہے اگر ہم اس طرح اپنے عزم کا عہد کریں تو کوئی شک نہیں کہ ہم پانی کے ساتھ اپنا ”جیون“ بھی لوٹا سکتے ہیں۔
فقیر ارشاد کے الفاظ میں اپنے کشیدہ دریا کو بھی تلاش کر سکتے ہیں۔
اھو دریا جنھن دی کند دہی تھے
اھا گالھ رہائٹ چند کزیں
تحریر: بخشل تھلہو
اردو ترجمہ: مختیار راہو
بتاریخ: 05۔ 10۔ 2018

